ایک نان بائی تھا وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا لوگ دور دور سے اس کے نان کلچے خریدنے آتے تھے کچھ لوگ اسے کھوٹے سکے دے کر چلے جاتے تھے جیسا کہ ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے وہ نان بائی ان سکوں کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد اپنی پیسوں والی صندوقچی میں رکھ دیتا تھا کبھی واپس نہیں کرتا تھا نہ آواز دے کر کہتا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے یا بےایمانی کی ہے
بلکہ محبت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا۔ جب اس نان بائی کا وقت قریب آیا تو اس نے اللّٰہ کو پکار کر کہا
اے اللّٰہ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انہیں گرم گرم اور صحت مند خوشبودار نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت کے کر آیا ہوں وہ اس طرح سے نہیں جیسے تو چاہتا ہے میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ میں نے جس طرح تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کر دے میری اصل عبادت نہیں ہے۔
ایک بزرگ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے اس نان بائی کو خواب میں دیکھا کہ وہ اونچے مقام پر فائز تھا اور اللّٰہ نے اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کا وہ متمنی تھا۔
