لالچ انسان کو کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتا

لالچ انسان کو کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتا

ایک ساحلی شہر میں، جہاں صبح کی پہلی کرن سمندر کی لہروں پر سنہری چادر بچھا دیتی تھی اور شام ڈھلے افق یوں سرخ ہو جاتا تھا جیسے کسی مصور نے آسمان پر سرخ رنگ بکھیر دیا ہو، وہیں ایک غریب مگر محنتی مچھیرا اپنی بیوی کے ساتھ مٹی کی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔
اس کے پاس نہ کھیت تھے، نہ باغ، نہ مویشی، نہ سونا چاندی۔ اگر اس کے پاس کچھ تھا تو صرف ایک پرانی کشتی، برسوں پرانا جال اور دو مضبوط بازو، جن کے سہارے وہ ہر صبح رزق کی تلاش میں سمندر کا رخ کرتا۔
رزق کا واحد ذریعہ دریا تھا۔ جو مچھلی ہاتھ آتی، وہی بیچ کر دونوں کا چولہا جلتا۔
ایک صبح قسمت نے عجیب کروٹ لی۔
جال پانی سے کھینچا تو اس میں ایک ایسی نایاب مچھلی تھی جس کا جسم چاندی کی طرح چمک رہا تھا، اس کے پر سنہری تھے اور اس کی جسامت بھی عام مچھلیوں سے کہیں بڑی تھی۔ مچھیرا خوشی سے جھوم اٹھا۔
اس نے دل میں سوچا، “آج بازار میں بیچنے کے بجائے یہ اپنی بیوی کو دوں گا، برسوں بعد وہ بھی خوش ہوگی۔”
جب وہ مچھلی گھر لایا تو بیوی نے حیرت سے دیکھا اور فوراً بولی، “اسے پکانا مت! بادشاہ کو مچھلیاں بے حد پسند ہیں۔ اگر یہ تحفہ لے جاؤ گے تو وہ ضرور بڑا انعام دیں گے۔”

مچھیرا پہلے تو ہچکچایا، پھر بیوی کی بات مان کر محل پہنچ گیا۔
بادشاہ نے جیسے ہی مچھلی دیکھی، اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔
وہ بے اختیار بولا۔
“ایسی مچھلی تو میں نے برسوں سے نہیں دیکھی۔”
دربار میں موجود امیر، وزیر اور درباری بھی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
بادشاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
“یہ کہاں سے ملی؟”
“حضور، اللہ نے میرے جال میں ڈال دی۔”
بادشاہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر نہایت نرم لہجے میں بولا:
“تم نے اسے بازار میں کیوں نہ بیچا؟”
مچھیرے نے سچ سچ جواب دیا:
“سوچا تھا بیوی کو خوش کروں گا، مگر اس نے کہا کہ یہ بادشاہ کے لائق تحفہ ہے۔”
بادشاہ ہنس پڑا۔
“تمہاری بیوی عقل مند معلوم ہوتی ہے۔”
پھر اس نے ہاتھ اٹھایا اور کہا:
“مانگو، جو دل چاہے مانگو۔”
یہ سن کر
مچھیرے کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
وہ سوچنے لگا،
“کیا مانگوں؟”
کافی دیر سوچنے کے بعد اس نے جھجکتے ہوئے کہا:
“حضور، اگر اجازت ہو تو ایک مضبوط کشتی عطا کر دی جائے۔”
بادشاہ نے فوراً وزیر کی طرف دیکھا۔
“آج ہی بہترین کشتی اسے دے دی جائے۔”
حکم سنتے ہی وزیر نے تعمیل کے لیے سر جھکا دیا۔
مگر اسی لمحے بادشاہ کی نظریں
مچھیرے کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔
چند ہی لمحوں میں اس کے چہرے کی خوشی ماند پڑنے لگی۔
آنکھوں میں ایک عجیب سی خلش اتر آئی۔
دل کے اندر کہیں ایک آواز اٹھی،
“کاش، میں کشتی کے ساتھ چند جال بھی مانگ لیتا”
“نہیں، شاید کچھ سونے کے سکے مانگ لینے چاہیئے تھے”
“یا، شاید ایک چھوٹا سا گھر”
وہ خاموش کھڑا تھا، مگر اس کے چہرے پر چلنے والی سوچیں بادشاہ سے چھپی نہ رہ سکیں۔
بادشاہ ہلکے سے مسکرایا۔
پھر نہایت سکون سے بولا:
“لگتا ہے، تمہارے دل نے ابھی فیصلہ نہیں کیا۔”
مچھیرا چونک اٹھا۔
“ج، جی؟”
بادشاہ نے مسکرا کر کہا:
“کشتی تو تمہیں مل ہی جائے گی، لیکن اگر دل میں یہ خیال آ رہا ہے کہ اس سے بہتر کچھ مانگ لیتا، تو جاؤ، آج رات خوب سوچ لو۔”
پورا دربار خاموش ہو گیا۔
بادشاہ نے اپنی بات مکمل کی:
“کل پھر آ جانا، اگر تمہارا دل بدل جائے۔”
یہ سن کر مچھیرا حیران رہ گیا۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ شاید دنیا میں کچھ لوگ صرف باتیں ہی نہیں، دل بھی پڑھ لیتے ہیں۔
سورج کی پہلی کرن ابھی محل کے سنہری گنبدوں پر پوری طرح نہیں اتری تھی کہ مچھیرے نے ایک بار پھر اپنی بوسیدہ چادر سنبھالی، بیوی کی نصیحتیں دل میں دہرائیں اور شاہی محل کی طرف چل پڑا۔ رات بھر دونوں نے جاگ جاگ کر نئے نئے منصوبے بنائے تھے۔ کبھی کہتے، “اس بار سونے کے ہزار سکے مانگ لینا۔” پھر خیال آتا، “نہیں، ہزار کم ہیں، خزانہ ہی مانگ لیتے ہیں۔” پھر سوچتے، “خزانہ مل بھی گیا تو اس کی حفاظت کون کرے گا؟ بہتر ہے ایک جاگیر مانگ لیں۔” پھر بیوی کہتی، “جاگیر بھی کیا چیز ہے، اگر بادشاہ پوری بندرگاہ ہی دے دے تو؟”
غرض یہ کہ پوری رات خواہشیں بڑھتی رہیں، مگر فیصلہ نہ ہو سکا۔
جب وہ دربار میں پہنچا تو بادشاہ حسبِ معمول مسکرا رہا تھا۔
“کہو مچھیرے، اس بار کیا مانگنے آئے ہو؟”
مچھیرے نے ہچکچاتے ہوئے کہا، “حضور، اگر کرم ہو تو دریا کے کنارے ایک بڑی جاگیر عطا فرما دی جائے۔”
بادشاہ نے فوراً وزیر کی طرف دیکھا۔
“لکھ دو۔ جاگیر اسی کی ہوئی۔”
یہ سنتے ہی مچھیرے کے دل میں پھر وہی آگ بھڑک اٹھی۔
“ارے! جاگیر تو مانگ لی، مگر اگر پوری بندرگاہ مانگ لیتا تو؟ اگر بندرگاہ میری ہوتی تو سارے جہاز مجھ سے محصول دیتے، میں تو شہر کا امیر ترین آدمی بن جاتا”
بادشاہ نے اس کے چہرے پر دوڑتے ہوئے خیالوں کو ایسے پڑھ لیا جیسے کوئی کھلی کتاب پڑھتا ہے۔
ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔
“مچھیرے، تم پھر خوش نہیں ہو۔”
وہ شرمندہ سا ہو گیا۔
“بادشاہ سلامت، بس”
بادشاہ نے بات کاٹ دی۔
“جاؤ۔ ایک دن اور سوچ لو۔”
دربار میں موجود سب لوگ حیران تھے۔
ایسا بادشاہ انہوں نے کبھی نہ دیکھا تھا جو دینے کے بعد بھی واپس سوچنے کی اجازت دیتا ہو۔
مچھیرہ دوڑتا ہوا گھر پہنچا۔
بیوی پہلے ہی دروازے پر منتظر کھڑی تھی۔
“کیا ہوا؟”
“جاگیر مل گئی تھی”
“تھی؟”
“میں نے پھر سوچنے کے لیے ایک دن لے لیا۔”
بیوی نے پہلے ماتھے پر ہاتھ مارا، پھر خوش ہو کر بولی،
“یہی تو عقل مندی کی بات ہے۔ جاگیر لے کر کیا کرتے؟ کل پوری بندرگاہ مانگ لینا۔”
رات بھر پھر نئی مجلس جمی۔
اب گفتگو صرف بندرگاہ پر نہ رکی۔
بیوی بولی،
“اگر بندرگاہ مل گئی تو وہاں سے گزرنے والے تاجروں پر محصول لگائیں گے۔”
مچھیرہ بولا،
“لیکن اگر بادشاہ مجھے پورا شہر ہی دے دے تو؟”
بیوی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“واہ! پھر تو شہر کے بازار، دکانیں، باغ، محلات، سب ہمارے”
رات گزر گئی۔
صبح ہوئی۔
وہ پھر دربار میں حاضر ہوا۔
بادشاہ نے دور سے ہی مسکرا کر کہا،
“آج کیا ارادہ ہے؟”
مچھیرے نے ہمت کر کے کہا،
“حضور، اگر عنایت ہو تو پورا ساحلی شہر عطا فرما دیا جائے۔”
دربار میں سناٹا چھا گیا۔
وزیروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
مگر بادشاہ نے بغیر کسی تامل کے کہا،
“دیا۔”
بس اتنا ہی۔
نہ حیرت، نہ غصہ۔
صرف ایک لفظ۔
“دیا۔”
مگر اگلے ہی لمحے مچھیرے کے دل میں پھر طوفان اٹھا۔
“شہر تو مانگ لیا، اگر پورا صوبہ ہی مانگ لیتا تو؟ آخر بادشاہ نے کبھی انکار تو کیا ہی نہیں”
بادشاہ نے پھر اس کے چہرے کی زبان پڑھ لی۔
اس نے مسکرا کر کہا،
“جاؤ، پھر سوچ لو۔”
اب کی بار پورا دربار ہنس پڑا۔
کچھ وزیر زیرِ لب بولے،
“یہ آدمی کبھی راضی نہیں ہوگا۔”
ادھر مچھیرہ گھر پہنچا تو بیوی نے دروازہ بند کر لیا تاکہ کوئی ان کی بات نہ سن سکے۔
اب دونوں کے خواب زمین سے آسمان تک پہنچ چکے تھے۔
“اگر صوبہ مل گیا تو؟”
“پھر؟”
“پھر خزانے بھی ہمارے”
“فوج بھی ہماری”
“محلات بھی ہمارے”
“غلام بھی ہمارے”
یہ سنتے ہی دونوں دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔
خواہش اتنی بڑی ہو چکی تھی کہ خود ان کے دل بھی اس سے کانپ رہے تھے۔
پھر بیوی نے آہستہ سے کہا،
“کل صوبہ مانگ لینا”
مچھیرے نے پوری رات کروٹیں بدلتے گزار دی۔
کبھی اسے لگتا تاج مانگ لے۔
پھر خیال آتا، “اگر بادشاہ ناراض ہو گیا تو؟”
پھر دل کہتا، “اب تک تو اس نے کبھی انکار نہیں کیا۔”

ہر صبح وہ نئی فرمائش لے کر آتا، اور ہر بار بادشاہ فوراً مان لیتا۔
مگر ہر بار اس کے دل میں ایک نئی حسرت جنم لے لیتی۔

“کاش، اس سے بھی زیادہ مانگ لیتا۔”
بادشاہ بھی اب اس کی کیفیت سے لطف لینے لگا تھا۔

وہ ہر بار صرف ایک ہی جملہ کہتا،
“اگر دل مطمئن نہیں، تو کل آ جانا۔”
دیکھتے ہی دیکھتے مہینے گزر گئے۔

پھر سال۔
پھر کئی سال۔
درباری بدل گئے، وزیر بدل گئے، مگر مچھیرا ہر چند دن بعد نئی خواہش لے کر حاضر ہو جاتا۔

اس کی بیوی بھی ہر رات یہی کہتی،
“دیکھنا، اس بار چھوٹی بات نہیں کرنی۔ شاید اس سے بڑا موقع زندگی میں کبھی نہ ملے۔”
مگر ہر بار نئی خواہش، پچھلی خواہش کو چھوٹا بنا دیتی۔
ایک صبح وہ حسبِ معمول محل پہنچا۔

آج دربار کا منظر بدلا ہوا تھا۔
جھنڈے سرنگوں تھے۔
سپاہیوں کے چہروں پر اداسی تھی۔
اس نے حیرت سے پوچھا،
“کیا ہوا؟”
جواب ملا، “بادشاہ کا انتقال ہو گیا ہے۔”
مچھیرا ساکت رہ گیا۔
اس نے برسوں میں پہلی بار محسوس کیا کہ جس چیز کو وہ “کل” پر ٹالتا رہا، وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔
وہ خاموشی سے واپس پلٹا۔

گھر پہنچ کر بیوی نے پوچھا، “آج کیا مانگا؟”
اس نے آہ بھری اور کہا،
“آج پہلی بار سمجھ آیا کہ لالچ کی کوئی آخری حد نہیں ہوتی۔ میں ہر بار سمجھتا تھا کہ کل زیادہ مانگ لوں گا، مگر کل نے آج ہی چھین لیا۔”
وہ دونوں دیر تک خاموش بیٹھے رہے۔
اب نہ بادشاہ تھا، نہ وہ موقع، نہ وہ دربار۔
صرف حسرت باقی تھی۔

اخلاقی سبق:

لالچ انسان کو کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتا۔ جو آج کافی لگتا ہے، وہ کل کم محسوس ہونے لگتا ہے۔ خواہشات کا پیچھا کرنے والا اکثر موجودہ موقع بھی کھو دیتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ بہتر کل کے انتظار میں رہتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو مناسب وقت پر مناسب فیصلہ کر لے، کیونکہ زندگی ہر موقع دوبارہ نہیں دیتی۔

Leave a Reply

NZ's Corner