ہرن اور گدھوں کا اصطبل — اصل فطرت کبھی نہیں بدلتی

ہرن اور گدھوں کا اصطبل — اصل فطرت کبھی نہیں بدلتی

ایک شکاری نے ایک خوبصورت ہرن شکار کیا اور اسے گدھوں سے بھرے ایک اصطبل میں باندھ دیا۔ بے چارہ ہرن گھبراہٹ سے کبھی اِدھر بھاگتا، کبھی اُدھر۔ دوسری طرف گدھے مزے سے گھاس کھانے میں مگن تھے، جیسے دنیا میں انہیں کسی اور چیز کی فکر ہی نہ ہو۔

شکاری رات بھر ان کے آگے گھاس ڈالتا رہا، مگر ہرن نہ وہ گھاس کھا سکا، نہ اس ماحول سے مانوس ہو سکا۔ دھواں، گرد و غبار اور اجنبی ماحول اس کے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھا۔

حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کو جب اس کی فطرت اور اصل جنس سے جدا کر دیا جائے تو یہ بھی ایک طرح کی سزا ہے۔ اسی لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہُدہُد کی غیر حاضری پر فرمایا تھا کہ اگر وہ معقول عذر پیش نہ کرے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ اہلِ معرفت کہتے ہیں کہ اپنی جنس سے جدا ہو جانا بھی ایک بڑی سزا ہے۔

اسی طرح ہماری روح بھی اس دنیا کے جسم میں قید ہے اور اپنے اصل وطن کی مشتاق رہتی ہے۔

چند دن گزر گئے، مگر ہرن کی بے چینی کم نہ ہوئی۔ وہ ایسے تڑپتا تھا جیسے پانی سے نکلی ہوئی مچھلی۔ ایک گدھے نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا:
“ارے جنگلی! اتنا نخرہ کیوں؟ بیٹھ جا اور ہماری طرح گھاس کھا۔”

دوسرا ہنس کر بولا:
“شاید یہ خود کو کسی بادشاہ کا مہمان سمجھتا ہے!”

تیسرے نے طنز کیا:
“اگر اتنے ہی نازک مزاج ہو تو کسی شاہی محل میں جا کر رہو۔”

ایک گدھے نے تو اپنی گھاس بھی اس کے آگے رکھ دی، مگر ہرن نے انکار کر دیا۔

گدھے نے کہا:
“لگتا ہے تم شان دکھانے کے لیے نہیں کھا رہے۔”

ہرن نے سکون سے جواب دیا:

“یہ گھاس تمہارے لیے بہترین ہے، کیونکہ تمہاری فطرت اسی سے قائم ہے۔ لیکن میری غذا سرسبز میدان، خوشبودار سبزہ زار، درختوں کے سائے اور آزاد فضا ہے۔ میں اپنی اصل فطرت کو کیسے بھول جاؤں؟”

پھر ہرن نے کہا:

“اگر تقدیر نے مجھے مصیبت میں ڈال دیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میری طبیعت اور میری اصل بدل جائے گی۔ آج میں مجبور ضرور ہوں، مگر میری حقیقت وہی ہے۔ لباس پرانا ہو جائے تو انسان پرانا نہیں ہو جاتا۔”

اس نے مزید کہا:

“میری ناف میں جو مشک کی خوشبو ہے، وہ عود و عنبر کو بھی مات دیتی ہے، مگر اس خوشبو کی قدر وہی جانتا ہے جس میں اسے محسوس کرنے کی صلاحیت ہو۔ جو صرف لید کی بو کا عادی ہو، اسے مشک کی خوشبو کیسے سمجھ آئے؟”

سبق:
انسان کی اصل پہچان اس کی فطرت، کردار اور روحانی عظمت ہوتی ہے، نہ کہ اس کا ماحول یا وقتی حالات۔ اگر حالات بدل بھی جائیں تو صاحبِ کردار انسان اپنی اصل کھونے نہیں دیتا۔ اسی طرح پاکیزہ دل ہمیشہ پاکیزگی ہی کی طرف مائل رہتا ہے، چاہے اسے وقتی طور پر کیسا ہی ماحول کیوں نہ مل جائے۔

ماخذ: حکایاتِ رومی، حصہ اول

اگر آپ نے یہ پوری تحریر پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں، تو کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے کوئی ایک خوبصورت نام ضرور لکھیں۔
جس نام سے آپ اللہ پاک کو پکارنا سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner