ایک مسافر پہاڑی علاقے میں سفر کرتے ہوئے رات کو ایک ویران مسافر خانے میں ٹھہرا جسے مقامی لوگ “منحوس” کہہ کر گزرتے تھے۔ رات گئے ایک بوڑھا شخص، سفید لباس میں ملبوس، اس کے کمرے میں داخل ہوا اور بغیر کچھ کہے اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ مسافر ڈر گیا، مگر بوڑھے کی آنکھوں میں کوئی بدی نہ تھی، بلکہ ایک عجیب اداسی تھی۔
بوڑھے نے آہستہ سے کہا: “ڈرو مت، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ میں یہاں صدیوں سے پھنسا ہوں کیونکہ اپنی زندگی میں، میں نے ایک مسافر کو دھوکہ دے کر اس کا سارا مال لوٹ لیا تھا اور اسے بھوکا پیاسا چھوڑ دیا تھا، جس سے اس کی موت ہو گئی۔ تب سے میری روح اسی گناہ کی وجہ سے یہاں بھٹک رہی ہے۔” مسافر نے ہمت کر کے پوچھا کہ کیا وہ اس کی کوئی مدد کر سکتا ہے۔ بوڑھے نے کہا: “میرے اہلِ خانہ کی نسل اب بھی زندہ ہے۔ اگر تم میری طرف سے ان کے پاس جا کر معافی مانگ لو اور کچھ صدقہ ان کے نام پر کر دو، تو شاید میری روح کو سکون مل جائے۔”
مسافر نے صبح ہوتے ہی وہ نشانیاں تلاش کیں جو بوڑھے نے بتائی تھیں، اور واقعی اسے وہ خاندان مل گیا۔ اس نے ان سے معافی مانگی اور کچھ صدقہ ان کے نام پر کیا۔ اس رات کے بعد وہ مسافر خانہ کبھی “منحوس” نہ رہا اور مسافر آرام سے وہاں ٹھہرنے لگے۔
اخلاقی سبق: ظلم اور دھوکہ دہی کا بوجھ انسان کی روح پر ہمیشہ کے لیے چھپ جاتا ہے، جبکہ توبہ، معافی اور صدقہ ہی اس بوجھ کو ہلکا کر سکتے ہیں۔ کسی کا حق مارنا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
حوالہ/مصنف: روایتی عوامی حکایت، پہاڑی علاقوں کی زبانی روایت پر مبنی (لوک ادب، مستند حدیث نہیں)۔
