دو گھڑے

دو گھڑے

ایک کمہار روزانہ اپنے بنائے ہوئے گھڑے بھٹے میں پکاتا۔ ایک دن دو گھڑے، جو ساتھ ساتھ پکائے گئے تھے، آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ایک گھڑا شکایت کرنے لگا: “دیکھو، ہمیں کتنی تیز آگ میں جھونکا گیا، کتنی تکلیف سہنی پڑی، یہ کتنا ظلم ہے۔” دوسرا گھڑا خاموشی سے سنتا رہا۔ کچھ عرصے بعد دونوں گھڑے بازار میں فروخت ہونے کے لیے رکھے گئے۔ ایک گاہک نے دونوں کو ٹھونک ٹھونک کر آواز پرکھی۔ جو گھڑا آگ کی تپش پوری طرح جھیل کر مضبوط ہوا تھا، اس میں سے صاف اور بلند آواز نکلی، جبکہ جو گھڑا آدھا پکا رہ گیا تھا، اس میں دراڑ پڑ گئی اور وہ ٹوٹ کر رہ گیا۔
مضبوط گھڑا برسوں تک ٹھنڈے پانی اور اناج کو محفوظ رکھنے کے کام آیا، لوگوں کے گھروں کی رونق بنا رہا، جبکہ کمزور گھڑا جلد ہی کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ کمہار نے، جو یہ سب دیکھ رہا تھا، اپنے شاگرد سے کہا: “میں نے جس گھڑے کو زیادہ تیز آگ میں رکھا، دراصل اسی پر مجھے زیادہ بھروسہ تھا کہ وہ اسے برداشت کر لے گا اور مضبوط بنے گا۔”
اخلاقی سبق: زندگی کی مشکلات اور آزمائشیں دراصل انسان کو مضبوط اور کارآمد بنانے کے لیے آتی ہیں، نہ کہ اسے توڑنے کے لیے۔ جو صبر سے تپش برداشت کرے، وہی بعد میں مضبوط اور قابلِ اعتماد ثابت ہوتا ہے۔
حوالہ/مصنف: روایتی مشرقی حکایت، تعلیمی و اخلاقی حکایتی مجموعوں میں رائج، مصنف نامعلوم۔

Leave a Reply

NZ's Corner