ایک تھی لومڑی اور ایک تھا خرگوش۔ دونوں ہمسائے تھے۔ لومڑی بے حد چالاک اور مکار تھی جب کہ خرگوش سیدھا سادا سا۔ لومڑی رات دن مصروف پھرتی رہتی اور خرگوش ہر وقت گھوڑے بیچ کر سوتا رہتا۔ خرگوش کی تھوڑی سی زمین تھی لیکن اس پر محنت نہ کرنے کی وجہ سے بنجر پڑی تھی۔
ایک دن لومڑی خرگوش کے پاس آئی، اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد کھیتی باڑی کا ذکر چھیڑا۔ پوچھا: “خرگوش میاں! تم روز بروز کاہل ہوتے جا رہے ہو۔ تمہاری زمین ابھی تک بنجر پڑی ہے اور کاشت کا وقت نکلا جا رہا ہے۔”
بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن کیا کروں؟ مجھ سے زیادہ کام بھی تو نہیں ہوتا۔ خرگوش نے جواب دیا: “سچ پوچھو تو مجھے تمہاری بڑی فکر رہتی ہے۔ ڈرتی ہوں کہ خوراک پیدا نہیں کرو گے تو اگلی سردیوں میں بھوکے مرو گے۔” خرگوش یہ سن کر بڑا پریشان ہوا اور رونے لگا۔ لومڑی نے اسے تسلی دی اور کہا: “روتے کیوں ہو؟ تھوڑی سی ہمت پیدا کرو۔ ویسے تم اکیلے تو کاشت نہیں کر سکتے۔ کیوں نہ میں اور تم مل کر بٹائی پر کاشت کریں اور پھر پیداوار آپس میں تقسیم کر لیں؟” خرگوش یہ سن کر بڑا خوش ہوا۔ اس نے سوچا کہ یہ لومڑی بھی کتنی اچھی ہے؟ اسے میرا کتنا خیال ہے؟
کاشت کاری کا کام شروع کرنے سے پہلے لومڑی نے کہا کہ پہلے ہم یہ طے کر لیں کہ کس کی ذمے داری کیا ہو گی تاکہ بعد میں جھگڑا نہ ہو۔ “میرا خیال ہے کہ تم صرف پھال، ہل اور بیلوں کی جوڑی لے آؤ، باقی تمام چیزوں کا بندوبست میں کروں گی۔” خرگوش خوش ہوا کہ اسے صرف چند چیزیں ہی لانی پڑیں گی، باقی کا بندوبست لومڑی کرے گی۔ کاشت کے دن خرگوش پھال، ہل اور بیلوں کی جوڑی لے کر پہنچ گیا۔ لومڑی بھی درخت کی چند سیدھی لمبی ٹہنیاں کاٹ کر لے آئی تاکہ ان سے بیلوں کو ہانکا جا سکے۔ باقی چیزوں سے اس کی مراد یہی تھیں۔
ہل چلانے سے پہلے لومڑی نے پوچھا: “تم جلدی جلدی ہل چلا کر فارغ ہو جاؤ گے یا سہاگہ پھیرتے رہو گے؟” خرگوش نے ہل چلانے کی ذمے داری لی۔ بے چارہ سارا دن سخت زمین پر ہل چلاتا رہا اور لومڑی درخت کے سائے میں سوتی رہی۔ شام کو جب خرگوش سارے کھیت میں ہل چلا کر کھیت کو تیار کر چکا تو لومڑی اٹھی اور جلدی جلدی سہاگہ گھسیٹ کر چلی گئی۔
فصل کو پانی دینے کا وقت آیا تو لومڑی نے پوچھا: “تم کھیت کو جلدی جلدی پانی دے کر سو جاؤ گے یا ساری رات اس کی رکھوالی کرتے رہو گے؟” خرگوش کے لیے بھلا اس سے اچھی بات کیا ہوتی کہ جلدی فارغ ہو کر سونے کا موقع ملے۔ اس نے پانی دینے کی ذمے داری لی۔ وہ رات بھر کھڑا فصل کو پانی دیتا رہا جب کہ لومڑی نے ایک دو دفعہ نہر پر جا کر پانی کا جائزہ لیا۔ باقی وقت سوتی رہی۔
اسی طرح دھوکے سے لومڑی خرگوش سے کام کرواتی رہی اور خود آرام سے بیٹھی رہی یہاں تک کہ گندم کی فصل پک کر تیار ہو گئی۔ گندم کی کٹائی کے وقت لومڑی نے خرگوش سے کہا: “تم جلدی سے گندم کاٹ کر آرام کرو گے یا دن بھر ان کے گٹھے باندھتے رہو گے؟” خرگوش نے گندم کاٹنے کا ذمہ لے لیا۔ وہ دن بھر گندم کاٹتا۔ لومڑی شام کو آ کر ان کے گٹھے باندھ دیتی۔
کٹائی کے بعد پیداوار کی تقسیم کا مرحلہ آیا۔ لومڑی نے کہا: “دیکھو خرگوش میاں! اب تک میں نے ہر کام تمہاری مرضی پر چھوڑا ہے۔ اب اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو پیداوار کی تقسیم میں کر لوں۔” خرگوش نے بڑی خوشی سے بات مان لی۔ لومڑی نے کہا: “فصل کے دو حصے کرتے ہیں۔ اوپر کا حصہ میرا اور نیچے والا تمہارا۔” خرگوش راضی ہو گیا۔ اس طرح گندم کے سارے دانے لومڑی لے گئی اور خرگوش کے حصے میں خالی بھوسا آیا۔
اگلے سال پھر دونوں نے مل کر کاشت کرنے کا فیصلہ کیا۔ لومڑی نے تجویز پیش کی کہ اس سال پیداوار کی تقسیم کا فیصلہ کاشت سے پہلے ہی کیا جائے اور فیصلہ خرگوش کرے۔ خرگوش بڑا خوش ہوا اور فوراً فیصلہ کیا: “کہ وہ اس سال فصل کے اُوپر کا حصہ لے گا۔” لومڑی بھی مان گئی۔ اس سال لومڑی نے آلو کاشت کرنے کی تجویز دی۔ سارا سال وہ خود آرام سے بیٹھی رہی اور خرگوش سے کام لیتی رہی۔ جب فصل تیار ہو گئی تو فصل کا نچلا حصہ یعنی سارے آلو لومڑی لے گئی اور خرگوش کے حصے میں اوپر کا حصہ یعنی آلو کے پتے آئے۔
