حد سے زیادہ آسان اور پرکشش فائدہ اکثر کسی چھپے ہوئے نقصان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔

حد سے زیادہ آسان اور پرکشش فائدہ اکثر کسی چھپے ہوئے نقصان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔

پرانے بازار میں، ہر جمعرات کی شام، ایک عجیب سوداگر نمودار ہوتا جو نایاب اور خوبصورت اشیاء نہایت کم قیمت پر بیچتا۔ لوگ للچا کر اس سے سودا کرتے، مگر جو بھی اس سے کوئی چیز خریدتا، اگلے دن اس کے گھر میں کوئی نہ کوئی نقصان یا جھگڑا ضرور ہو جاتا۔ ایک بزرگ نے یہ بات محسوس کی اور غور کرنا شروع کیا۔
ایک جمعرات، ایک بزرگ نے جان بوجھ کر اس سوداگر کے پاس گئے اور اس سے سودا کرنے سے پہلے بلند آواز سے “بسم اللہ” پڑھی۔ جیسے ہی انہوں نے یہ کلمہ کہا، سوداگر کا چہرہ بگڑ گیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ بزرگ نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں۔ انہوں نے بلند آواز میں آیت الکرسی پڑھنی شروع کر دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوداگر اپنے اسٹال سمیت دھویں کی طرح غائب ہو گیا، اور اس کی جگہ صرف خالی زمین رہ گئی۔
بزرگ نے بازار والوں کو جمع کر کے سمجھایا کہ جو بھی سودا غیر معمولی طور پر آسان اور فائدہ مند لگے، بغیر اللہ کا نام لیے اس میں پڑنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے، کیونکہ لالچ ہی وہ دروازہ ہے جہاں سے پوشیدہ مخلوقات انسان کو آسانی سے پھنسا لیتی ہیں۔ تب سے بازار والوں نے کسی بھی سودے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی عادت اپنا لی۔
اخلاقی سبق: حد سے زیادہ آسان اور پرکشش فائدہ اکثر کسی چھپے ہوئے نقصان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ ہر کام کا آغاز اللہ کے نام سے کرنا انسان کو لالچ اور پوشیدہ خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔
حوالہ/مصنف: روایتی بازاری لوک حکایت، سرحدی علاقوں کی زبانی روایت پر مبنی (لوک ادب، مستند حدیث نہیں)۔

Leave a Reply

NZ's Corner