صدیوں پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جس کے بادشاہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اس وقت تک اپنے آرام گاہ میں قدم نہیں رکھتا تھا جب تک دربار میں آنے والے ہر مظلوم کی فریاد نہ سن لیتا۔
لوگ کہتے تھے کہ اس کے تخت کے چار پائے انصاف پر کھڑے ہیں۔
اگر کسی دن کسی مظلوم کی داد رسی رہ جاتی تو اس رات بادشاہ کی آنکھوں سے نیند روٹھ جاتی۔
وہ کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون نصیب نہ ہوتا۔
ایک، دو، پھر تین راتیں گزر گئیں۔
نیند مسلسل اس کی آنکھوں سے غائب رہی۔
بادشاہ حیران تھا۔
“آخر کس کا حق مجھ سے رہ گیا؟”
چوتھی صبح اس نے پورا دربار طلب کیا۔
دروغہ، کوتوال، قاضی، وزیر، سب حاضر تھے۔
بادشاہ نے پوچھا:
“کیا میری سلطنت میں کوئی ایسا شخص آیا جو انصاف لیے بغیر واپس چلا گیا ہو؟”
سب نے ایک زبان ہو کر جواب دیا:
“حضور! آپ کے عہد میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔”
بادشاہ خاموش ہو گیا، مگر دل مطمئن نہ ہوا۔
اتنے میں بوڑھا وزیر آگے بڑھا۔
اس نے ادب سے کہا:
“حضور! ایک بات عرض کروں؟”
“کہو۔”
“تین دن سے ایک چڑیا روز دربار کی کھڑکی پر آتی ہے۔ باقی پرندوں کی طرح چند لمحے نہیں بیٹھتی، بلکہ مسلسل چہچہاتی رہتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو، پھر مایوس ہو کر اُڑ جاتی ہے۔”
بادشاہ نے فوراً حکم دیا:
“کل اگر وہ آئے تو اسے کسی طرح نقصان پہنچائے بغیر میرے سامنے لایا جائے۔”
اگلے دن سورج نکلا۔
چڑیا حسبِ معمول آئی۔
سپاہیوں نے بڑی احتیاط سے اسے پکڑا اور بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔
بادشاہ نے نرم لہجے میں کہا:
“اے اللہ کی مخلوق! اگر تو میری رعیت میں سے ہے تو تجھے بھی انصاف ملے گا۔ بتا، تیرا دکھ کیا ہے؟”
کہتے ہیں اللہ نے اس دن اس چڑیا کی زبان بادشاہ پر کھول دی۔
چڑیا بولی:
“حضور! سلطنت کے آخری کنارے پر ایک قدیم کنواں تھا۔ انسان بھی وہیں سے پانی لیتے تھے، ہم پرندے بھی، جنگلی ہرن بھی، اور بے زبان جانور بھی۔”
“مگر وہاں کے جاگیردار نے اپنے باغ کے لیے وہ کنواں بند کر دیا۔”
“اب نہ پرندوں کو پانی ملتا ہے، نہ مسافروں کو، نہ جانوروں کو۔”
“میں اپنی نہیں، ان سب بے زبانوں کی فریاد لے کر آئی تھی جن کی آواز آپ تک نہیں پہنچ سکتی۔”
یہ سنتے ہی بادشاہ کا چہرہ بدل گیا۔
اس نے فوراً لشکر روانہ کیا۔
چند ہی گھنٹوں میں جاگیردار گرفتار کر لیا گیا۔
کنواں کھول دیا گیا۔
اس کے گرد یہ فرمان بھی لکھوا دیا گیا:
“جو نعمت اللہ نے سب کے لیے پیدا کی ہو، اس پر کسی ایک کا قبضہ ظلم ہے۔”
شام ہوئی۔
پرندے پھر وہاں اترنے لگے۔
ہرن پانی پینے لگے۔
مسافر سیراب ہونے لگے۔
اور وہی چڑیا اگلے دن دربار کی کھڑکی پر آئی،
مگر اس مرتبہ اس کی آواز میں فریاد نہیں، شکر تھا۔
اس رات تین دن بعد پہلی مرتبہ بادشاہ سکون سے سویا۔
صبح وزیر نے پوچھا:
“حضور! کیا واقعی صرف ایک چڑیا کی وجہ سے آپ کی نیند اڑی ہوئی تھی؟”
بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“نہیں، میری نیند چڑیا نے نہیں اڑائی تھی۔”
“میری نیند میرے ضمیر نے اڑائی تھی۔”
“یاد رکھو، جب کسی حکمران کی نیند مظلوم کی آہ سے نہ ٹوٹے، تو سمجھ لو اس کی سلطنت گرنے میں زیادہ دیر نہیں۔”
اخلاقی سبق
انصاف صرف انسانوں کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ ہر اس مخلوق کا حق ہے جو اللہ نے پیدا کی ہے۔ زندہ ضمیر وہ ہے جو بے زبان کی خاموش فریاد بھی سن لے، کیونکہ کبھی کبھی سب سے بلند آواز وہ ہوتی ہے جو زبان سے نہیں، مظلومیت سے اٹھتی ہے۔
