احمد ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔وہ شرارتی، ہنس مکھ اور سب کا دوست تھا، لیکن اس کے گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں تھے۔اس کے پاس اسکول جانے کے لئے صرف ایک ہی جوڑا جوتے کا تھا، اور وہ بھی کئی سال پرانا۔ایک دن صبح اسکول جاتے ہوئے وہ کیچڑ والے راستے سے گزر رہا تھا کہ اچانک جوتے کا اگلا حصہ پھٹ گیا۔
احمد نے جوتے کو دیکھ کر آہ بھری۔
”ارے یہ کیا ہوا! اب سب میرا مذاق اُڑائیں گے۔“ اس نے جلدی سے جوتے کو ہاتھ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی، مگر وہ اور زیادہ عجیب لگنے لگا۔بہرحال، وہ دل میں تھوڑی شرمندگی لئے اسکول پہنچ گیا۔
جیسے ہی وہ کلاس میں داخل ہوا، اس کے دوست اکٹھے ہو گئے۔ایک دوست بولا:”واہ احمد! یہ تو کمال کا نیا ڈیزائن ہے۔
کہاں سے لیا؟“
احمد نے حیرانی سے کہا:”یہ؟ اوہ، یہ میں نے خود بنایا ہے!“
سب بچے ہنسنے لگے، لیکن مذاق اُڑانے کے بجائے وہ اس ڈیزائن کو پسند کرنے لگے۔
اگلے دن اسکول کے دو لڑکے جان بوجھ کر اپنے جوتوں کے آگے سے کٹ لگا کر لائے۔تیسرے دن تو آدھی کلاس اسی فیشن میں نظر آئی۔
احمد اب گاؤں کا فیشن ماسٹر بن چکا تھا۔لوگ بازار میں بھی اس کے جوتے دیکھ کر کہتے:”یہ ہے وہ لڑکا جس نے نیا اسٹائل شروع کیا!“
کچھ ہفتوں بعد گاؤں میں میلے کا اعلان ہوا، جس میں سب سے منفرد لباس کا مقابلہ تھا۔احمد نے سوچا، چلو اپنے جوتے کے ساتھ ہی حصہ لیتا ہوں۔
مقابلے کے دن احمد نے پرانا پھٹا ہوا جوتا صاف کر کے پالش کیا اور اوپر رنگ برنگے فیتے باندھ دیے۔جب وہ اسٹیج پر چڑھا تو سب نے تالیوں سے استقبال کیا۔جج نے اعلان کیا:”پہلا انعام جاتا ہے احمد کو جس نے ٹوٹے ہوئے جوتے کو فیشن میں بدل دیا!“
احمد نے انعام جیتا اور ہنستے ہوئے کہا:”اصل بات جوتے کی نہیں، سوچ کی ہوتی ہے۔“
اس دن کے بعد احمد کو کبھی اپنے پرانے جوتے پر شرمندگی محسوس نہیں ہوئی، بلکہ وہ فخر سے پہنتا رہا، کیونکہ وہ صرف جوتا نہیں، ایک کہانی بن چکا تھا
۔
