مغرور لومڑی

مغرور لومڑی

ایک بلی آبادی سے دور جنگل میں رہتی تھی،جہاں قریب میں ہی ایک لومڑی کا بھی بھٹ تھا۔آتے جاتے اکثر ان کی ملاقات ہو جاتی تھی، پھر گھنٹوں آپس میں باتیں ہوتیں۔ لومڑی کو اپنی چالاکی پر بہت غرور تھا،وہ بلی کو زیادہ تر اپنی چالاکیوں کے قصے سنایا کرتی تھی،جن میں سے زیادہ تر من گھڑت ہوتے تھے۔ایک دن جب سورج انتہائی آب و تاب سے چمک رہا تھا اور خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی،ایک گھنے پیڑ کے نیچے دونوں کی ملاقات ہوئی۔
خاصی دیر تک دونوں باتیں کرتی رہیں۔
لومڑی نے کہا،”اے بی بلی،اگر دنیا میں سو طرح کی آفتیں آجائیں یا کوئی مجھ پر حملہ کر دے تو مجھے کوئی پروا نہیں۔مجھے ہزاروں گُر اور ترکیبیں آتی ہیں،میں ان سب مصیبتوں سے بچ کر نکل جاؤں گی،لیکن خدانخواستہ اگر تو کسی آفت سے دوچار ہو جائے تو کیا کرے گی

بلی بولی،”اے بوا،مجھے تو ایک ہی گُر اور ترکیب یاد ہے“۔
اگر اس سے چوک جاؤں تو ہر گز میری جان نہ بچے اور ماری جاؤں۔یہ سن کر لومڑی کو بلی پر بہت ترس آیا اور کہنے لگی،”مجھے تیری حالت پر بہت رحم آتا ہے،میرا جی چاہتا ہے کہ ان ترکیبوں میں سے تین چار تجھے بھی بتاؤں،لیکن بہن زمانہ خراب آگیا ہے،کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا“۔
ابھی وہ دونوں باتیں ہی کر رہی تھیں کہ انہیں شکاری کتوں کی آوازیں سنائی دیں،جو بہت قریب آگئی تھیں۔
یہ آوازیں سن کر دونوں گھبرا گئیں۔بلی نے خطرہ بھانپ کر آؤ دیکھا نہ تاؤ،اپنی پرانی ترکیب پر عمل کیا اور جھٹ سے پیڑ پر چڑھ کر اونچی ڈالیوں میں دُبک کر بیٹھ گئی۔ اس دوران کتے اتنے نزدیک پہنچ چکے تھے کہ بی لومڑی اپنی کسی ترکیب پر عمل نہ کر سکیں۔ذرا سی دیر میں کتوں نے لومڑی کو دبوچ لیا اور چیر پھاڑ کر ٹکڑے کر دیئے

Leave a Reply

NZ's Corner