ایک دفعہ احمد کہیں جا رہا تھا۔اس نے راستے میں ایک بھکاری کو دیکھا، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور گرمی کی تیزی سے رنگت کچھ سیاہ ہو گئی تھی۔اس کے سامنے ایک برتن پڑا ہوا تھا، جس میں تھوڑے سے پیسے تھے۔احمد جب اس کے قریب سے گزرا تو بھکاری نے صدا لگائی:”اللہ کے نام پہ کچھ دے دو بیٹا!“
احمد رُکا اور اس سے کہنے لگا:”آپ بھیک کیوں مانگ رہے ہیں؟ اسلام میں بھیک مانگنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔
“
بھکاری کہنے لگا:”بیٹا! تو پھر میں کیا کروں؟ آج کل مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ بازار سے کچھ بھی نہیں خرید سکتا۔گھر میں بیوی بچے اکثر بھوکے سو جاتے ہیں۔“
احمد نے کہا:”بابا! میں آپ کی مدد کروں گا۔آپ میرے ساتھ گھر چلیں۔
“
احمد، بابا کو اپنے گھر لے آیا اور امی سے کہا:”امی جان! یہ ایک مجبور بھکاری ہے۔میں نے سوچا کہ اس کو بھیک والی لعنت سے پاک کر دوں۔
“
امی نے کہا:”بیٹا! یہ تو بہت اچھی بات ہے جو تم اس کی مدد کر رہے ہو۔“ پھر انھوں نے بھکاری کے سامنے کھانا رکھا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔احمد کی امی نے بھکاری کے بچوں کے لئے بھی کھانا دے دیا۔احمد نے بھکاری کے گھر کا پتا معلوم کر لیا۔بھکاری نے احمد کو بہت دعائیں دیں۔
احمد کے ابا جان گھر آئے تو احمد نے بھکاری والا واقعہ سنایا تو اس کے ابا جان خوش ہوئے اور کہا:”ٹھیک ہے بیٹا! ہم اس کی مدد ضرور کریں گے۔
“
صبح احمد اور اس کے ابا جان اس مجبور شخص کے گھر آئے اور اسے اپنے ساتھ بازار لے گئے۔وہاں اس کے لئے سبزی کا ٹھیلا لگا دیا اور اس سے کہا:”ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں، یہ بھیک مانگنا بہت بُرا عمل ہے۔“
اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آئے اور روتے ہوئے کہا:”یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تُو نے مجھ حقیر پر اتنا کرم کر دیا میں تو اتنا محتاج تھا کہ میں نے بھیک مانگنے کا راستہ اختیار کیا تھا۔“ اس کے بعد بھکاری نے دونوں کا بہت شکریہ ادا کیا اور ان کو بہت دعائیں دیں۔
