ایک قصبے میں ایک شخص نے اپنا پرانا کنواں اپنے پڑوسی کو فروخت کر دیا۔ سودا طے ہو گیا، رقم بھی ادا کر دی گئی اور نیا مالک خوشی خوشی کنویں سے پانی نکالنے آیا۔ مگر اچانک پرانا مالک وہاں پہنچا اور بولا: “میں نے تمہیں صرف کنواں بیچا ہے، اس کے اندر موجود پانی نہیں۔ اگر پانی استعمال کرنا ہے تو الگ قیمت ادا کرو!” یہ سن کر آس پاس کے لوگ بھی حیران رہ گئے۔
نیا مالک خاموش رہا، مگر اسے یقین تھا کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ 🤲 وہ سیدھا علاقے کے قاضی کے پاس گیا اور پورا واقعہ سنا دیا۔ قاضی نے دونوں فریقوں کو عدالت میں طلب کر لیا تاکہ انصاف کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔
قاضی نے پہلے پرانے مالک سے پوچھا: “کیا واقعی تم نے کنواں بیچا ہے؟” اس نے فخر سے جواب دیا: “جی ہاں، کنواں بیچا ہے، مگر پانی نہیں بیچا۔ پانی اب بھی میرا ہے۔” عدالت میں موجود لوگ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔
قاضی نے چند لمحے سوچا، پھر نہایت حکمت سے فرمایا: “اگر پانی تمہارا ہے اور کنواں دوسرے شخص کا، تو پھر تم اپنے پانی کو دوسرے کی ملکیت میں کیوں رکھے ہوئے ہو؟ یا تو فوراً اپنا پانی اس کنویں سے نکال لو، یا پھر اس شخص کے کنویں میں اپنا پانی رکھنے کا کرایہ ادا کرو!” ⚖️
یہ فیصلہ سنتے ہی پرانے مالک کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ 😔 اسے اپنی چالاکی پر شرمندگی ہوئی۔ اس نے فوراً معافی مانگی اور کہا: “میں اپنا دعویٰ واپس لیتا ہوں۔ آج مجھے سمجھ آگیا کہ انصاف عقل، دیانت اور حق کے ساتھ ہوتا ہے، نہ کہ چالاکی کے ساتھ۔”
قاضی نے فرمایا: “یاد رکھو! جو شخص دوسروں کا حق کھانے کے لیے بہانے تلاش کرتا ہے، وہ وقتی فائدہ تو اٹھا سکتا ہے، مگر اللہ کی عدالت سے نہیں بچ سکتا۔ انصاف ہمیشہ حق دار کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔” ❤️
📖 اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں: “بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔” (سورۃ النساء: 58)
آج بھی بہت سے لوگ کاروبار، جائیداد یا لین دین میں چالاکی سے دوسروں کا حق مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، دنیا کی عدالت سے بچ بھی جائیں تو اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہر چھوٹے بڑے حق کا حساب دینا ہوگا۔ اصل کامیابی سچائی، دیانت اور انصاف میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق کمانے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے، انصاف پر قائم رہنے اور ہر قسم کی بے ایمانی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
