بشیر صاحب کے بیٹے نظیر بھائی کی شادی تھی۔ سب کچھ طے تھا، بس ایک چھوٹی سی غلطی ھو گئی۔ 😬👇
گاؤں کا نام تھا چک نمبر 42، لیکن ڈرائیور صاحب، جو کہ راستے میں دو تین بار ٹھنڈی بوتل پی کر اونگھ رھے تھے، بارات کو لے کر چک نمبر 420 پہنچ گئے۔ 🚐😅
اتفاق سے اس گاؤں میں بھی ایک شادی ھو رھی تھی۔
جیسے ھی نظیر بھائی کی بارات پہنچی، وہاں کے لوگوں نے ڈھول بجانا شروع کر دیا۔ پپو میاں، جو سہرے کے پیچھے چھپے ہوئے تھے، سمجھے کہ سسرالی بڑے جوشیلے ہیں۔ 🥁😄
نظیر بھائی کے ابا بشیر صاحب نے لڑکی والوں کے ابا کو گلے لگایا، جو اصل میں کسی اور لڑکی کے ابا تھے۔ 😆😂
دونوں نے ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کی، مگر شور اتنا تھا کہ کسی کو سمجھ ھی نہیں آئی کہ یہ اجنبی کون ھے۔ پپو میاں کو اسٹیج پر بٹھا دیا گیا، جہاں پہلے سے ھی ایک دلہن گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی۔ 😳🥀
جب نکاح خواں صاحب تشریف لائے اور انہوں نے نام پکارا:
کیا آپ کو گلناز بیگم ولد غلام رسول قبول ھے؟ نظیر بھائی اچھل کر کھڑے ھو گئے اور بولے:
مولوی صاحب! کیا ھو گیا ھے، میری والی کا نام تو شائستہ ھے اور اس کے ابا کا نام چوہدری بشارت ھے! 🤯😕
پورے پنڈال میں سناٹا چھا گیا۔ لڑکی کے بھائی، جو کہ پہلوانی کے شوقین تھے، آگے بڑھے اور نظیر بھائی کا سہرا اٹھا کر دیکھا۔
اوئے! یہ کون سا مکوڑا ھے؟ ھمارا دولہا شیدا کہاں گیا؟ 😡👁️
اسی لمحے نظیر بھائی کے چھوٹے بھائی نے بھاگتے ھوئے آ کر خبر دی:
ابا جی! ھم غلط گاؤں آگئے ھیں، شائستہ والوں کا فون آیا ھے کہ وہ ھمارا انتظار کرتے کرتے تھک گئے ھیں 😑😬
اِس سے پہلے کہ نظیر بھائی اِن گاؤں والوں کو کچھ صفائی دیتے، شیدا کے گھر والوں کو شک ھوا کہ یہ لوگ شاید ان کی دلہن اغوا کرنے آئے ھیں۔
پھر جو ھوا وہ تاریخ کا حصہ گے۔ پھولوں کی بارش کے بجائے جوتوں کی بارش شروع ھو گئی۔ 👞😂
نظیر بھائی اپنی شیروانی بچاتے ھوئے قریبی کماد کے کھیت میں گھس گئے۔ بشیر صاحب کی پگڑی کسی بھینس کے سینگ میں پھنس گئی اور وہ پھو پھو کرتے بھاگتے رھے۔ 🐃😵
باراتیوں کی بس کا ٹائر پنکچر تھا، اس لیے آدھی بارات ایک ٹریکٹر ٹرالی پر لد کر بھاگی، جس کے پیچھے گاؤں کے کتے اور غصے والے باراتی “چور چور” پکارتے ھوئے دوڑ رھے تھے۔ 🚜🐕
