ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے پنڈ میں دیسا سنگھ نامی ایک نہایت غریب اور محنتی کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس کاشتکاری کے لیے اپنی زمین نہیں تھی، اس لیے اس نے پنڈ کے ایک دوسرے کسان، کرم سنگھ سے ایک چھوٹا سا کھیت پیسوں پر خریدا۔ دیسا سنگھ نے جب اپنے نئے کھیت میں ہل چلانا شروع کیا، تو اچانک اس کا ہل زمین کے نیچے کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔
اس نے مٹی کھودی تو وہاں سے مٹی کا ایک پرانا گھڑا نکلا، جو سونے کے قیمتی سکھوں سے لبالب بھرا ہوا تھا! کوئی عام انسان ہوتا تو وہ سونا چھپا لیتا، لیکن دیسا سنگھ کا ایمان پکا تھا۔ وہ گھڑا اٹھا کر سیدھا کرم سنگھ کے گھر گیا اور بولا: “کرم سنگھ جی! یہ گھڑا مجھے کھیت سے ملا ہے، کیونکہ یہ زمین پہلے آپ کی تھی، اس لیے اس سونے پر حق بھی آپ کا ہے۔” کرم سنگھ نے گھڑا دیکھا اور بولا: “نہیں دیسا سنگھ! میں نے یہ زمین تمہیں بیچ دی ہے، اب اس زمین سے جو بھی نکلے گا، وہ تمہارا ہے، میرا نہیں۔”
دونوں کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ سونا کس کا ہے۔ معاملہ پنڈ کے سوجھوان بزرگوں کی پنچائت میں گیا۔ پنچائت کے بوڑھے سربراہ نے دونوں کا ایمان دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا: “پنڈ والو! آج کے دور میں جہاں لوگ ایک ایک انچ زمین کے لیے بھائی کا خون بہا دیتے ہیں، وہاں یہ دونوں سونا لینے سے انکار کر رہے ہیں۔” بزرگ نے حل نکالا کہ دیسا سنگھ کے بیٹے کی شادی کرم سنگھ کی بیٹی سے کر دی جائے اور یہ سونا ان بچوں کو تحفے میں دے دیا جائے۔ پنڈ میں امن اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
کہانی کا قیمتی سبق (Moral):
ایمانداری اور حلال رزق کی برکت انسان کی نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔ جب معاشرے سے لالچ ختم ہو جائے اور لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے لگیں، تو وہاں کبھی جھگڑے نہیں ہوتے بلکہ برکت خود بخود آ جاتی ہے۔
آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے!
کیا پنجاب کے روایتی پس منظر پر مبنی یہ ایمان دارانہ لوک کہانی آپ کو پسند آئی؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیں!
حوالہ جات (References):
یہ کہانی پنجاب کی قدیم لوک داستانوں اور دیہی بیٹھکوں میں امانت و دیانت کے سبق کے لیے سنائے جانے والے قصوں سے اخذ کی گئی ہے۔
