پھجا مراثی ایک دن بیمار ھو گیا۔ 🤒
وہ علاج کروانے ڈاکٹر بشیر کے پاس پہنچا۔
ڈاکٹر نے فیس بتائی تو پھجے کی آنکھیں کھل گئیں۔ 😳
پھجا بولا:
“ڈاکٹر صاحب! تھوڑا رحم کریں، میں مریض ھوں، بینک نہیں!” 😭
مگر ڈاکٹر بشیر نہ مانا۔
آخر پھجے نے دِل پر پتھر رکھ کر فیس دی، علاج کروایا اور ٹھیک ھو گیا۔
لیکن، پھجا فیس بھولا نہیں! 😏
اس نے بدلہ لینے کا ایسا طریقہ سوچا 🤔
اب جہاں چار بندے بیٹھے ہوتے، پھجا اپنا “خواب” سنانا شروع کر دیتا۔
کہتا:
“رات میں خواب میں مر گیا…” 😳
“فرشتے مجھے اوپر لے جا رھے تھے…”
میں نے کہا:
“بھائی سیدھا دوزخ لے چلو، میں نے کون سی نیکیاں کی ھیں!” 🤕
دوزخ کے دروازے پر پہنچا۔
فرشتے نے لسٹ دیکھی…
نام غائب! 😐
میں خوش ھو گیا:
“چلو جنت چلتے ھیں!” 😇
جنت کے دروازے پر گیا…
وہاں بھی لسٹ دیکھی گئی…
نام پھر غائب! 😳
میں پریشان:
“ہائے ربّا! اب میں کہاں جاؤں؟” 😭
اسی وقت سامنے چودھری صاحب نظر آ گئے۔
میں نے کہا:
“چودھری صاحب! میری سمجھ نہیں آ رھی، نہ جنت میں نام ہے نہ دوزخ میں!” 😵
چودھری صاحب نے پوچھا:
👇👇👇
“اوئے پھجے! کہیں تُو نے ڈاکٹر بشیر سے علاج تو نہیں کروایا تھا؟” 🤔
میں کہا:
“ہاں جی، انہی سے کروایا تھا!” 😐
چودھری صاحب لمبی آہ بھر کر بولے:
“پھر ٹھیک ھی ھے…”
“وہ بندے کو چار سال پہلے ھی اوپر بھیج دیتا ھے!”
“میں خود دو سال سے اِدھر اُدھر بھٹک رہا ھوں!” 😂
بس پھر کیا تھا…
یہ لطیفہ پورے علاقے میں مشہور ھو گیا۔
لوگ ڈاکٹر بشیر کو دیکھتے ھی ہنسنے لگے۔ 😆
آخر تنگ آ کر ڈاکٹر نے پھجے کو بلایا
فیس واپس کی… 💸
اور ہاتھ جوڑ کر بولا:
🙏 “پھجے! خدا کا واسطہ ھے میری عزت بخش دے!”
😆🤣🤣
