انسان کی زندگی ایک خوبصورت اور مسلسل سفر ہے، لیکن اس سفر میں ہر موڑ پر ہمارا سامنا مختلف رویوں سے ہوتا ہے۰ بعض لوگ ہمیں حوصلہ دیتے ہیں، جبکہ بعض اپنی منفی سوچ اور کم ظرفی سے ہمیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۰ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہر چیلنج کا جواب دینا ضروری ہے؟ نفسیات کے مطابق، انسان کا غصہ اور انا (ego) اکثر اسے ان لڑائیوں میں دھکیل دیتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۰ عقلمند اور کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو ہر میدان میں کود پڑیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کون سی جگہ ان کےلیے بہتر ہےاور کہاں خاموشی ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۰
اس بات کو سمجھنے کے لیے جنگل کے بادشاہ شیر اور ایک جنگلی سور کا قصہ ایک بہترین مثال ہے۰
ایک بار ایک طاقتور شیر نہایت سکون کے ساتھ اپنے راستے پر جا رہا تھاکہ راستے میں ایک جنگلی سور، جو سر سے پاؤں تک کیچڑ میں لت پت تھا، شیر کےسامنے آ گیا۰ اس نے نہ صرف شیر پر کیچڑ اچھالا جس سے وہ خود لت پت تھا، بلکہ اسے غرور سے شیر کو للکارا اور لڑائی کا چیلنج دیا۰ نفسیاتی طور پر یہاں شیر کے جذبات اور اس کی خود پسندی (ego) نے جنم لیا۰ شیر کو لگا کہ اگر اس نے اس کیچڑ میں لپیٹے غلیظ جانور کو جواب نہ دیا تو اس کی انا پر حرف آئے گا۰ غصے اور جذبات میں اندھا ہو کر شیر نے بغیر سوچے سمجھےسیدھاسور کو پکڑنے کے لیے اس کیچڑ کے دلدل میں چھلانگ لگا دی۰
سور کے لیے وہ کیچڑ اس کا اپنا ماحول تھا، وہ اس میں رہنے اور لڑنے کا ماہر تھا۰ اس نے شیر کو کیچٹر میں دھنستے دیکھا، ہنسا اور آسانی سے دوسری طرف سے باہر نکلنے لگا۰ اب شیر جتنا غصے میں آگے بڑھنے اور حملہ کرنے کی کوشش کرتا، اس کے سنگین اور بھاری پاؤں دلدل میں اتنے ہی گہرے دھنستے چلے گئے۰ نتائج نہایت دردناک نکلے۰ جنگل کا وہ عظیم بادشاہ کسی طاقتور حریف کے ہاتھوں نہیں، بلکہ اپنے ہی بے جا غصے، انا اور ایک غلط فیصلے کی وجہ سے اس گندے کیچڑ میں ڈوب کردم گھٹنے سے ہلاک ہو گیا۰
آگر آپ اپنی احساس کمتری سے باہر نکل کر دیکھیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ ہر معاشرے میں کچھاور خاص کر ہمارے پاکستانی معاشرے میں زیادہ تر لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں۰
ایسے افراد اکثر باطنی محرومی اور منفی جذبات کا شکار ہوتے ہیں۰ ان کے جیتنے کا واحد طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آپ کو اشتعال دلا کر، اپنے نچلے معیار اور اپنے ہی بنائے ہوئے کیچڑ میں گھسیٹ لائیں۰ جب آپ کسی کم ظرف انسان کی بات کا جواب دینے کے لیے ان کے معیار پر اترتے ہیں، تو آپ اپنے مقصد اور شخصیت کو بھول جاتے ہیں۰ آپ کی ذہنی توانائی، وقت اور سکون ان فضول بحثوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۰
زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ ہر طعنے، ہر تنقید اور ہر اشتعال انگیزی پر ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا۰ جب آپ کیچڑ سے لڑتے ہیں تو فاتح کوئی بھی ہو، گندگی آپ کے اپنے جسم اور کردار پر ہی لگتی ہے۰ اپنی جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) کو استعمال کریں اور اپنے غصے پر قابو پانا سیکھیں۰ جب بھی کوئی منفی شخص آپ کا سکون برباد کرنے یا آپ کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے، تو اپنی انا کو اپنے فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دیں۰ مسکرائیے، اپنا راستہ بدلیں اور اپنے مقصد کی طرف بڑھتے رہیں۰ یہ سب بالکل بھی آسان نہیں اور کئی دفعہ ایسا کرنا تقریبا نا ممکن ہوتا ہے لیکن ایسے موقعوں پر اپنے آپ کو یہ باور کروائیں کہ آپ کی کامیابی، وقار اور خاموشی ہی ان گھٹیا لوگوں کے لیے سب سے بڑا اور سبق آموز جواب ہے۰
