سائبیریا کے گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک خوبصورت خرگوش اور اس کا گھرانہ رہتا تھا، یہ نرم نرم مٹی میں گھر بنا کر رہتا تھا۔گوکہ خرگوش خاصا سمجھدار تھا لیکن کچھ بزدل بھی تھا۔ایک دن دوپہر کو خرگوش اور اس کے بچے گاجر سے بنا کیک کھا کر سونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بچے آپس میں کھیل کود کرنا چاہ رہے تھے۔
اتنے میں زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کو سن کر خرگوش کے کان کھڑے ہو گئے۔پھر زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی، خرگوش ڈر کے گھر سے باہر نکل آیا اور اِدھر اُدھر دیکھے بغیر سر پٹ دوڑنے لگا۔دوڑتے دوڑتے اپنے گھر سے بے حد دور نکل گیا، اتنے میں اسے ایک ہرن ملا، ہرن نے اس سے دوڑنے کی وجہ پوچھی۔
”میں نے زمین پھٹنے کی زور دار آواز سنی تھی۔“ خرگوش گھبرائے ہوئے انداز میں بولا، یہ سنتے ہی ہرن بھی دوڑنے لگا۔
دونوں ڈر کر بھاگے جا رہے تھے، راستے میں بندر میاں ملے، وہ بھی خرگوش کی بات سن کر اس دوڑ میں شامل ہو گئے۔اس طرح اس دوڑ میں بہت سے جانور شامل ہوتے گئے۔جنگل میں خوف و ہراس پھیل گیا۔اتنے میں کسی نے شیر خان کو بھی خبر کر دی کہ سب جانور ڈر کر ایک سمت بھاگے جا رہے ہیں۔
شیر خان نے کسی سے وجہ پوچھی تو اس نے کہا:”خرگوش نے کہا ہے کہ زمین پھٹ گئی ہے، بھاگو!“
یہ دیکھ کر شیر خان نے ایک گرجدار آواز سے سب کو روکا اور خرگوش سے پوچھا:”کیا تم نے زمین پھٹتے ہوئے دیکھی ہے؟“
”نہیں جناب، صرف آواز سنی ہے۔
“ خرگوش نے ڈر کر کہا۔
”چلو ہمیں وہ جگہ دکھاؤ، جہاں تم نے زمین کے پھٹنے کی آواز سنی ہے۔“ شیر خان نے غصے سے کہا۔
شیر خان سب جانوروں کو لے کر اس جگہ پہنچا جہاں خرگوش کا گھر تھا۔سب نے دیکھا کہ وہاں تو سب کچھ صحیح سلامت تھا۔بس ایک بہت بڑا درخت ٹوٹا ہوا پڑا تھا۔شیر خان نے مسکرا کر سب جانوروں کی جانب دیکھا اور کہا:”یہ تو صرف ایک درخت ٹوٹا ہے، زمین تو نہیں پھٹی وہ تو صحیح سلامت ہے۔
“
شیر خان نے ہنستے ہوئے کہا:”یہ درخت بھی کسی بے وقوف ہاتھی نے گرایا ہو گا تاکہ وہ اس کے پتے کھا سکے۔“ سب جانوروں نے ایک دوسرے کو شرمندگی سے دیکھا، وہ سمجھ گئے کہ بغیر تحقیق کے دوڑ پڑنا حماقت ہے اور ان سے یہ حماقت سرزد ہو گئی تھی۔جب مادہ خرگوش گھر سے باہر آئی تو دیکھا خرگوش موجود نہیں تھا، وہ اسے ڈھونڈنے لگی۔جب اسے ساری بات کا پتہ چلا تو خرگوش کی حماقت پر ہنسنے لگی۔اس کو ہنستا دیکھ کر تمام جانور بھی اپنی حماقت پر ہنسنے لگے، انہیں احساس ہو گیا تھا کہ کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کے بارے میں جان لینا ضروری ہوتا ہے، یونہی کسی کی باتوں میں آ کر بھاگنے نہیں لگ جاتے
