وہ ایک ایسا بادشاہ تھا، جس کے پاس نہ سلطنت، نہ وزیر، نہ وزیرِ اعظم۔صرف ایک پرانی سی جھونپڑی، ایک بوسیدہ بستر اور ایک پلیٹ میں کل کے چاول۔اس کا نام بادشاہ خان تھا۔اس کے برابر میں ایک فقیر رہتا تھا، اس کا نام فقیر محمد تھا، لیکن ایسا فقیر جس کا اپنا محل تھا! ہاں جی، چھت بھی پکی، دروازے بھی شیشے والے اور فریج میں ہمیشہ تازہ پھل موجود رہتے تھے۔
فقیر کو بادشاہ کی جھونپڑی سے بڑی تکلیف تھی:”میرے محل کے ساتھ یہ جھونپڑی؟ یہ تو میری شخصیت خراب کر رہی ہے!“ وہ روز سوچتا۔
فقیر نے کئی حربے آزمائے۔ایک دن جھونپڑی کے سامنے بدبو والا اسپرے مارا کہ شاید بادشاہ بھاگ جائے۔دوسرے دن اس کے دروازے پر ”برائے فروخت“ کا بورڈ لگا دیا، لیکن اس سے بھی کوئی کام نہ چلا۔
تیسرے دن نیٹ پر ”جھونپڑی کیسے ہٹائیں“ لکھا، لیکن سنگل ہی نہیں آیا۔
پھر ایک دن، فقیر نے بڑا پلان بنایا۔جھونپڑی کو آگ لگا دی۔
فقیر خوشی سے ناچتا پھرتا رہا:”اب میری شان میں کوئی خلل نہیں!“
لیکن، قسمت کی بات کہ جھونپڑی سے آگ نکلی اور سیدھی محل کو لپیٹ میں لے لیا۔جھونپڑی اور محل دونوں جل کے خاک ہو گئے۔اب بادشاہ بھی خالی ہاتھ اور فقیر بھی بے گھر، دونوں سڑک پر، ایک ہی بینچ پر بیٹھے چنے کھا رہے تھے۔وقت گزرتا گیا۔دونوں دوست بن گئے۔
ایک دن فقیر نے پوچھا:”تمہارا نام بادشاہ خان کس نے رکھا؟“
بادشاہ بولا:”میرے دادا نے۔“
پھر بادشاہ نے پوچھا:”تمہارا نام فقیر محمد کس نے رکھا؟“
فقیر بولا:”میرے ابا نے۔“ دونوں خاموش ہو گئے۔پھر زور سے ہنسنے لگے، کیونکہ اس وقت وہ دونوں ایک بے بس انسان تھے۔
