یہ اُس زمانے کی بات ہے جب انسان بستیاں نہیں بسایا کرتے تھے۔ وہ قبیلوں کی صورت میں جنگلوں کے کناروں پر رہتے، اکٹھے شکار پر نکلتے اور ایک دوسرے کے لیے جان تک قربان کر دیتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے، کندھوں پر تیر و کمان، اور دلوں میں ایسا اتحاد کہ بڑے سے بڑا درندہ بھی ان کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر پاتا۔
ادھر جنگل میں ہر روز کوئی نہ کوئی جانور شکار ہو جاتا۔ کبھی ہرن، کبھی نیل گائے، کبھی جنگلی بیل، کبھی خرگوش۔ وقت گزرتا گیا، اور ایک دن ایسا آیا کہ جنگل کی خاموشی خود چیخنے لگی۔ جانوروں کی تعداد کم ہونے لگی تھی۔
بادشاہ شیر نے فوراً ہنگامی اجلاس بلایا۔
تمام جانور جمع ہو گئے۔
ہاتھی نے کہا، “ہمیں بھی انسانوں پر حملہ کر دینا چاہیے”
ریچھ بولا، “نہیں، بہتر ہے جنگل چھوڑ دیں۔”
بھیڑیا غصے سے بولا، “رات کے اندھیرے میں ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں”
ہر جانور اپنی اپنی رائے دیتا رہا۔
آخر میں خاموش بیٹھی لومڑی کھڑی ہوئی۔
اس نے نہایت سکون سے کہا، “ہمیں انسانوں سے نہیں لڑنا، ہمیں صرف ان کا اتفاق ختم کرنا ہے۔”
پورا دربار قہقہوں سے گونج اٹھا۔
بندر ہنستے ہوئے بولا،
“ہمیں نیزے نہیں ملے، اس لیے اب لومڑی باتوں سے جنگ جیتنا چاہتی ہے”
مگر شیر خاموش رہا۔
وہ لومڑی کو برسوں سے جانتا تھا۔
اس نے کہا، “آج تک اس نے کوئی مشورہ بے سوچے نہیں دیا۔ پہلے اس کی بات سنو۔”
لومڑی نے کہا، “انسان طاقتور نہیں، ان کا اتحاد طاقتور ہے۔ جس دن ہر انسان خود کو دوسروں سے بڑا سمجھنے لگے گا، اسی دن ان کے ہاتھوں سے نیزے گر جائیں گے۔”
شیر نے اجازت دے دی۔
چند ہی دنوں بعد عجیب خبریں آنے لگیں۔
کبھی ایک شکاری دوسرے سے الگ ہو گیا۔
کبھی ایک گروپ نے کہا، “ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔”
کبھی کسی نے دعویٰ کیا،
“اصل شکاری تو صرف میں ہیں”
کبھی کوئی بولا،
“دوسرے ہمارا شکار چھین لیتے ہیں۔”
آہستہ آہستہ گروپ ٹوٹنے لگے۔
جو پہلے بیس آدمی مل کر شکار کرتے تھے، اب ایک ایک کر کے نکلنے لگے۔
ہر شخص خود کو سب سے بہادر ثابت کرنا چاہتا تھا۔
پہلے وہ شکار ڈھونڈتے تھے،اب اپنی انا بچاتے پھرتے تھے۔
ادھر جنگل بدلنے لگا۔ ہرنوں کے ریوڑ پھر سے دوڑنے لگے۔
خرگوش بے خوف کھیلنے لگے۔
پرندوں کی آوازیں لوٹ آئیں۔
اور انسان، جو کبھی شکاری تھے،
اب ایک ایک کر کے خود شکار بننے لگے۔
ایک شام شیر نے لومڑی سے پوچھا،
“تم نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا؟”
لومڑی مسکرائی اور بولی،
“کچھ بھی نہیں”
“میں نے صرف ہر ایک کے کان میں ایک ہی بات کہی تھی”
شیر نے پوچھا،
“کون سی بات؟”
لومڑی نے جواب دیا،
“میں نے ہر ایک سے کہا تھا،
‘تم باقی سب سے بہتر ہو، تمہیں کسی کی ضرورت نہیں۔'”
شیر خاموش ہو گیا۔
لومڑی نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا،
“تلواریں اکثر جسموں کو زخمی کرتی ہیں، لیکن غرور، قوموں کو۔”
حاصلِ سبق
دشمن کی سب سے خطرناک چال ہمیشہ ہتھیار نہیں ہوتی، بلکہ وہ خیال ہوتا ہے جو لوگوں کے دلوں سے اتحاد نکال کر انا بھر دیتا ہے۔ جب اتفاق ٹوٹ جائے تو طاقتور بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
