مشکل حالات میں ثابت قدمی، حوصلہ اور مسلسل کوشش ہی انسان کو کامیابی تک پہنچاتی ہے۔

مشکل حالات میں ثابت قدمی، حوصلہ اور مسلسل کوشش ہی انسان کو کامیابی تک پہنچاتی ہے۔

روسی سلطنت اور قفقاز کے پہاڑی قبائل کے درمیان جاری خونریز جھڑپوں کے زمانے میں، ایک بہادر مگر نہایت سادہ مزاج روسی فوجی افسر ژلن اپنے ایک ساتھی افسر کے ساتھ فوجی مہم سے واپس لوٹ رہا تھا۔ دونوں کو یقین تھا کہ وہ جلد ہی اپنے محفوظ کیمپ تک پہنچ جائیں گے، مگر قسمت نے ان کے لیے ایک اور ہی امتحان لکھ رکھا تھا۔ راستے میں اچانک پہاڑوں کی اوٹ سے مسلح قبائلی جنگجو نمودار ہوئے۔ شدید مزاحمت کے باوجود دونوں گرفتار کر لیے گئے اور انہیں دور دراز پہاڑی گاؤں میں قید کر دیا گیا۔

قبائلی سردار نے اعلان کیا کہ دونوں کی رہائی صرف اس وقت ممکن ہوگی جب ان کے اہلِ خانہ بھاری تاوان ادا کریں گے۔ ژلن جانتا تھا کہ اس کی بوڑھی ماں اتنی بڑی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اس لیے اس نے جان بوجھ کر ایک غلط پتہ لکھوا دیا تاکہ اس کی ماں مزید تکلیف میں نہ پڑے۔ دوسری طرف اس کا ساتھی افسر فوراً اپنے گھر والوں کو خط بھیج دیتا ہے اور رہائی کی امید باندھ لیتا ہے۔

قید کے دن آسان نہ تھے۔ سخت نگرانی، زنجیریں، بےیقینی اور ہر لمحہ موت کا خوف۔ مگر ژلن نے مایوسی کو خود پر غالب نہ آنے دیا۔ اس نے گاؤں کے لوگوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا، ان کی زبان کے چند الفاظ سیکھے، بچوں کے لیے لکڑی کے خوبصورت کھلونے تراشنے لگا، گھڑیاں اور چھوٹی چیزیں مرمت کر دیتا، جس سے آہستہ آہستہ کچھ دیہاتی اس سے مانوس ہونے لگے۔

انہی لوگوں میں ایک ننھی سی قبائلی لڑکی دینا بھی تھی۔ ابتدا میں وہ دور سے اس اجنبی قیدی کو حیرت سے دیکھا کرتی، مگر جب ژلن نے اس کے لیے لکڑی کی ایک خوبصورت گڑیا بنائی تو اس کے دل میں ہمدردی پیدا ہوگئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ خاموشی سے اس کے لیے دودھ، روٹیاں اور کبھی کبھی پھل بھی لے آنے لگی۔ ژلن اس معصوم بچی کی انسان دوستی کو کبھی فراموش نہ کر سکا۔

قید کے دوران ژلن نے کئی دنوں تک زمین، پہرہ داروں کی ڈیوٹی اور گاؤں کے راستوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔ آخرکار ایک رات اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ فرار کا منصوبہ بنایا۔ دونوں اندھیرے میں نکل تو گئے، مگر پہاڑوں کے دشوار راستوں، بھوک، تھکن اور غلط سمت اختیار کرنے کی وجہ سے زیادہ دور نہ جا سکے۔ قبائلیوں نے انہیں دوبارہ پکڑ لیا۔ اس بار ان پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت پہرہ لگا دیا گیا، بھاری زنجیروں میں جکڑ دیا گیا اور ان کی نگرانی کئی گنا بڑھا دی گئی۔

اس ناکامی کے بعد ژلن کا ساتھی مکمل طور پر ہمت ہار بیٹھا۔ کچھ عرصے بعد اس کے گھر والوں نے مطلوبہ تاوان بھیج دیا اور وہ رہا ہو گیا، مگر ژلن جانتا تھا کہ اس کے لیے آزادی صرف حوصلے، صبر اور اپنی تدبیر سے ہی ممکن ہے۔

ایک رات دینا خاموشی سے اس کے پاس آئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ جانتی تھی کہ اگر ژلن یہیں رہا تو شاید کبھی زندہ واپس نہ جا سکے۔ اس نے بڑی ہمت سے ایک لمبی لکڑی کی چھڑی اور کچھ کھانے کا سامان لا کر اسے دیا اور سرگوشی میں فرار ہونے کا راستہ بھی بتایا۔ ژلن نے اس معصوم بچی کا شکریہ ادا کیا، زنجیروں سے خود کو آزاد کیا اور رات کی تاریکی میں پہاڑوں کی طرف نکل پڑا۔

یہ سفر موت سے کم نہ تھا۔ کہیں نوکیلی چٹانیں، کہیں گہری کھائیاں، کہیں گھنے جنگلات اور کہیں دشمنوں کے گشت کرتے دستے۔ زخمی پاؤں، بھوک اور شدید تھکن کے باوجود ژلن ایک لمحے کے لیے بھی نہ رکا۔ ہر قدم کے ساتھ اس کے دل میں آزادی کی امید مزید مضبوط ہوتی گئی۔ کئی گھنٹوں کی جان لیوا جدوجہد کے بعد، طلوعِ آفتاب کے وقت، اسے دور روسی فوجی چوکی کے جھنڈے دکھائی دیے۔ وہ آخری طاقت جمع کر کے وہاں پہنچ گیا، اور اپنے ساتھی فوجیوں کی بانہوں میں گر کر بےہوش ہو گیا۔ وہ آزاد ہو چکا تھا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ جس ساتھی نے تاوان دے کر آزادی حاصل کی تھی، وہ کچھ عرصے بعد دوبارہ انہی قبائلیوں کے ہاتھ لگ گیا اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، جبکہ ژلن اپنی ہمت، عقل اور ایک معصوم بچی کی بےلوث مہربانی کی بدولت ہمیشہ کے لیے آزادی پا گیا۔

اخلاقی سبق:
مشکل حالات میں ثابت قدمی، حوصلہ اور مسلسل کوشش ہی انسان کو کامیابی تک پہنچاتی ہے۔ کبھی کبھی ایک معمولی سی نیکی، ایک معصوم دل کی ہمدردی اور امید کی ایک کرن، پوری زندگی بدل دیتی ہے۔ آسان راستہ ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتا، جبکہ صبر اور عزم انسان کو ناممکن دکھائی دینے والی منزل تک بھی پہنچا دیتے ہیں۔

حوالہ/مصنف:
لیو ٹالسٹائی (Leo Tolstoy)، افسانہ “A Prisoner in the Caucasus” (1872)، روسی ادب کے معروف کلاسیکی شاہکاروں میں سے ایک۔

Leave a Reply

NZ's Corner