بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دن مرزا صاحب نے بیگم کی روز روز کی ڈانٹ سے بچنے اور گھر میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بازار گئے اور ایک چمکتا ہوا سمارٹ روبوٹک ویکیم کلینر خرید لائے۔ مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ اب گھر میں صفائی کے لیے کسی کی منتیں نہیں کرنی پڑیں گی، کیونکہ یہ ننھی سی گول مشین مصنوعی ذہانت سے لیس ہے!
بیگم نے مشکوک نظروں سے اس کالے رنگ کے ڈش نما روبوٹ کو دیکھا اور بولیں:
“مرزا! یہ جھاڑو ہے یا ہمارے گھر کے سکون کا صفایا کرنے والی کوئی نئی مصیبت؟”
مرزا صاحب نے فخریہ گردن اکڑا کر کہا:
“بیگم! یہ جدید سائنس کا شاہکار ہے۔ تم بس بٹن دبتے دیکھو، یہ روبوٹ اس گھر کا سب سے عقل مند رکن ثابت ہوگا!”
مرزا صاحب نے بڑی شان سے موبائل ایپ کھولی اور سٹارٹ کا بٹن دبا دیا۔ روبوٹ نے ایک ہلکی سی ‘بیپ’ کی اور فرش پر یوں چکر کاٹنے لگا جیسے کسی نے اس میں گلی کے آوارہ کتوں کی روح پھونک دی ہو۔ شروع کے دس منٹ تو ماحول معطر رہا۔ روبوٹ نے صوفے کے نیچے سے مرزا صاحب کی چھ ماہ پرانی کھوئی ہوئی جراب ڈھونڈ نکالی۔ مرزا صاحب نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ بیگم کی طرف دیکھا، جیسے انہوں نے نوبل پرائز جیت لیا ہو۔
لیکن اصل ہنگامہ تب شروع ہوا جب مرزا صاحب کے کاہل بلّے “شیرو” کی نظر اس گھومتی ہوئی مشین پر پڑی۔ شیرو نے اسے کوئی خلائی مخلوق سمجھا اور چھلانگ لگا کر سیدھا روبوٹ کے اوپر جا بیٹھا! روبوٹ نے جیسے ہی بلّے کا وزن محسوس کیا، اس کے سینسرز کا توازن بگڑ گیا۔
روبوٹ نے اپنا رخ سیدھا باورچی خانے کی طرف موڑا، جہاں بیگم نے شام کی چائے کے لیے گرم گرم پکوڑوں کی پلیٹ بنا کر رکھی تھی۔ روبوٹ نے اپنی بے مثال صفائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پکوڑوں کی ڈش کو قالین پر گرایا اور پھر بڑی محنت و لگن سے ان پکوڑوں کا قیمہ بناتے ہوئے پورے ڈرائنگ روم کے قالین پر برابر پھیلا دیا!
مرزا صاحب چیخے:
“روکو اسے! بیگم، وائی فائی بند کرو! اس کی ایپ ہینگ ہو گئی ہے!”
بیگم نے کچن سے روایتی بانس کا جھاڑو اٹھاتے ہوئے کہا:
“مرزا! میں نے کہا تھا نا کہ اس مصنوعی عقل سے میری یہ اصلی جھاڑو ہزار درجے بہتر ہے!”
اب منظر کچھ یوں تھا کہ آگے آگے روبوٹ پکوڑوں کا ملغوبہ بناتا ہوا بھاگ رہا تھا، اس کے اوپر سوار بلّا “شیرو” شاہی سواری کا لطف لیتے ہوئے میاؤں میاؤں کر رہا تھا، ان کے پیچھے مرزا صاحب موبائل ہاتھ میں لیے پاسورڈ بھولے ہوئے پاگلوں کی طرح دوڑ رہے تھے، اور سب سے پیچھے بیگم ہاتھ میں روایتی جھاڑو لیے مرزا اور روبوٹ دونوں کو ایک ساتھ سیدھا کرنے کے لیے تعاقب میں تھیں!
آخر کار روبوٹ صوفے کی ٹانگ سے زور دار ٹکر کھا کر بے ہوش ہو گیا۔ مرزا صاحب نے ہانپتے ہوئے پسینہ پونچھا اور دھیمی آواز میں بولے:
“بیگم! دیکھا؟ روبوٹ نے پکوڑوں کی صفائی تو کر دی… بس ذرا جدید انداز میں!”
بیگم نے مسکرا کر روایتی جھاڑو مرزا صاحب کے ہاتھ میں تھمایا اور بولیں:
“مرزا صاحب! اب اس جدید روبوٹ کو چارجنگ پر لگائیں اور اگلے ایک گھنٹے کے لیے اس قالین کو پرانے زمانے والے ہاتھوں سے صاف کریں!”
اس دن کے بعد سے مرزا صاحب نے کبھی کسی سمارٹ ڈیوائس کو گھر کا عقل مند رکن کہنے کی جرات نہیں کی۔

Leave a Reply

NZ's Corner