ففٹی ففٹی –

ففٹی ففٹی –

چراغ دین ایک کسان تھا۔سیدھا سادہ اور محنتی۔دن رات کام کرتا۔کھیتوں میں بیج بوتا، پانی دیتا، سبزیاں اُگاتا۔ان کو بیچ کر اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا۔آرام اور سکون سے زندگی گزر رہی تھی۔ایک دن چراغ دین اپنے کھیت پر تھا کہ ایک ہٹا کٹا، موٹا تازہ اور خوف ناک ریچھ آ دھمکا۔
اس کو دیکھ کر چراغ دین پیچھے ہٹا اور بھاگنا چاہتا تھا کہ ریچھ نے اس کو پکڑ لیا اور کہا کہ مجھ سے کوئی بچ کر نہیں جا سکتا۔میں جس پر حملہ کرتا ہوں، اس کو کھائے بغیر نہیں چھوڑتا۔بے چارہ چراغ دین سہم گیا۔پریشانی کی وجہ سے اس کی عقل جواب دینے لگی، لیکن پھر اس نے اپنے آپ پر قابو پایا۔ہوش حواس درست کیے اور ریچھ سے بڑی لجاجت سے کہا:”بھالو بھائی! آپ ٹھیک کہتے ہیں۔

آپ طاقتور ہیں، میں کمزور۔آپ کا کیا مقابلہ کروں گا۔آپ کا جو دل چاہے کیجیے، لیکن اگر اجازت دیں تو ایک بات کہوں؟“
ریچھ نے چراغ دین کو گھور کر دیکھا، پھر بولا:”اچھا کہو۔“
چراغ دین نے کہا:”میں تو آپ کی ایک دن کی خوراک ہوں، لیکن آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں آپ کو آدھی فصل دینے کو تیار ہوں۔“
ریچھ نے تھوڑی دیر سوچا اور راضی ہو گیا۔چراغ دین نے کہا:”فصل پکنے میں چند دن ہیں۔
فصل تیار ہوتے ہی آپ آ جائیں اور اپنا حصہ لے لیں۔“
ریچھ بولا:”ففٹی ففٹی؟“
چراغ دین نے کہا:”جی ہاں، پوری آدھوں آدھ، لیکن بھالو بھائی! آپ نے یہ انگریزی کہاں سے سیکھی؟“
ریچھ ہنسا اور کہنے لگا:”اصل میں مجھے کچھ انگریز پکڑ کر لے گئے تھے۔انھوں نے کچھ دن مجھے اپنے ہاں بند رکھا۔ان کی باتیں سنتے سنتے مجھے کچھ انگریزی آ گئی۔ایک دن میں موقع پا کر بھاگ نکلا۔
اب میں جنگل میں نہیں، بلکہ جنگل کے ایک کنارے رہتا ہوں۔چونکہ انسانوں میں رہ کر میری عادتیں بدل گئیں، اس لئے جنگل کے جانور اب مجھے قبول نہیں کرتے۔“
چراغ دین نے کہا:”انگریزی زبان آ جانا تو اچھی بات ہے، لیکن اپنی زبان میں دوسری زبان کے الفاظ ملا کر اسے خراب نہیں کرنا چاہیے۔“
ریچھ سے جان چھڑا کر چراغ دین گھر پہنچا۔گھر میں اس کے بیوی بچے اس کی صورت دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ وہ کچھ پریشان ہے۔
جب چراغ دین نے اپنی پریشانی بتائی تو اس کی چھوٹی لڑکی نے کہا:”ابا! آپ نے آدھی فصل دینے کا وعدہ کیا ہے نا؟ اور اس بار آپ نے شلجم بوئے ہیں، تو پھر آپ ایسا کریں کہ اوپر اوپر کی آدھی فصل ریچھ کو دے دیں اور نیچے کی آدھی فصل خود رکھ لیں۔آپ کا قول بھی جھوٹا نہ ہو گا اور آپ نقصان سے بھی بچ جائیں گے۔“
چراغ دین کو یہ بات پسند آئی۔فصل کٹنے کے وقت جب ریچھ آیا تو چراغ دین نے اوپر کی آدھی فصل یعنی پتے پتے اس کے حوالے کیے اور خود شلجم لے لیے۔
ریچھ کی سمجھ میں اب بات آئی اور وہ لڑنے لگا کہ تم نے مجھے بے وقوف بنایا۔(ظالم تو بے وقوف ہی ہوتا ہے) چراغ دین نے اپنی جان بچانے کے لئے کہا:”تو پھر کیا چاہتے ہو بھالو بھائی!“
ریچھ فوراً بولا:”نیچے کی آدھی فصل۔“
چراغ دین نے تھوڑی دیر سوچا اور کہنے لگا:”اچھا منظور، اب کی بار ایسا ہی ہو گا۔آئندہ فصل نیچے کی تمہاری۔“
دوسری فصل کا وقت آیا تو چراغ دین نے بھنڈیاں بو دیں۔
فصل کٹنے کے بعد ریچھ کو معلوم ہوا کہ وہ اب کے بھی نہیں جیت سکا۔بھنڈیاں اوپر تھیں، جو چراغ دین نے لے لیں۔ریچھ کے حصے میں اب کے بھی پھل نہ آئے۔ریچھ سمجھ گیا کہ طاقتور ہونے کے باوجود وہ اس انسان سے نہیں جیت سکتا، اس لئے اس نے اپنی ہار مان لی اور روانہ ہو گیا۔انسان اپنی عقل سے بڑی سے بڑی طاقت کو زیر کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner