مولانا رومی نے ایک طوطے کی حکایت لکھی کہ ایک سوداگر نے سونے کے پنجرے میں بولنے والا طوطا رکھا ہوا تھا۔ سوداگر سفر پر جانے لگا تو اپنے طوطے سے پوچھا کہ تیری کوئی خواہش ہے تیرے لئے کیا لاؤں؟
طوطے نے کہا بس اگر کوئی طوطوں کا جھنڈ دیکھو تو میری طرف سے اتنا پیغام دینا کہ آزاد فضاؤں میں رہنے والو تمہیں سلام۔ کبھی اس قیدی کو بھی دیکھنے آجاؤ۔
سوداگر سفر پر نکلا اور ایک جگہ اسے درختوں پر طوطے نظر آئے تو اس نے باآواز وہ پیغام دیدیا۔ سن کر ایک بوڑھا طوطا نیچے گرا اور مرگیا۔ اسکے بعد دوسرے طوطے بھی درخت سے گر کر زمین پر مرگئے۔ سوداگر بے حد حیران ہوا اور واپسی پر اس نے اپنے طوطے کو آکر یہ سارا ماجرا سنایا تو اسکا پالتو طوطا بھی وہیں گرکر مرگیا۔
سوداگر نے اسے پنجرے سے نکال کر باہر پھینک دیا تو فوری وہ طوطا سیدھا ہوا اور پُھرسے اُڑ گیا۔ جاتے جاتے اس نے کہا اے سوداگر وہ بوڑھا طوطا میرا استاد تھا اس نے مجھے یہ پیغام دیا کہ مرنے سے پہلے مرجاؤ تم آزاد ہوجاؤگے۔
اس حکایت میں سونے کا پنجرہ یہ دنیا ہے جو قید خانہ ہے۔ سوداگر دنیاوی خواہشات ہیں جن کی قید میں انسان رہتے ہیں۔ بس ایسے برحق مرشد کو ڈھونڈو جو تمہیں یہ گُر سکھادے کہ مرنے سے پہلے کیسے مرنا ہے تاکہ زندگی بھر آزاد رہو۔
