پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔
اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔
بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔
جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔
اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی وجہ سے دربار میں اہم عہدے تک پہنچ گیا۔
وہ نہ رشوت لیتا، نہ کسی پر ظلم کرتا۔ بادشاہ اس پر بہت اعتماد کرتا تھا۔ لیکن اس کی بڑھتی ہوئی عزت سے دربار کے کچھ امیر اور وزیر حسد کرنے لگے۔
ایک دن انہوں نے بادشاہ سے شکایت کی:
“محمد علی نے اتنے بڑے محل اور سرائیں کیسے بنوا لیں؟ ضرور اس نے رشوت لے کر دولت جمع کی ہے۔”
بادشاہ نے محمد علی سے حساب مانگا۔
محمد علی نے عرض کیا:
“جہاں پناہ! کل ہی حساب پیش کر دوں گا۔”
اگلے دن بادشاہ نے اس کی دولت اور سامان کی مکمل جانچ کی۔ ایک پیسے کی بھی خیانت نہ ملی۔ پھر بادشاہ اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ گھر کا سامان انتہائی سادہ اور غریبانہ تھا۔
واپسی کے وقت ایک غلام کی نظر ایک چھوٹی سی کوٹھڑی پر پڑی۔ دروازے پر تین مضبوط تالے لگے تھے۔
بادشاہ نے پوچھا:
“اس میں ایسا کیا خزانہ ہے جس کی اتنی حفاظت کی جا رہی ہے؟”
محمد علی نے ادب سے جواب دیا:
“حضور! جو کچھ آپ نے دیکھا، وہ سب آپ کا عطا کیا ہوا ہے۔ لیکن اس کوٹھڑی میں میرا اپنا ماضی محفوظ ہے۔”
بادشاہ کے حکم پر تینوں تالے کھولے گئے۔
اندر نہ سونا تھا، نہ چاندی، نہ قیمتی جواہرات۔
وہاں ایک گڈریے کی لاٹھی، ایک تھیلا، پانی کی مشک، بانسری اور پرانے گڈریے کے کپڑے رکھے تھے۔
بادشاہ حیران رہ گیا۔
محمد علی نے کہا:
“حضور! یہ وہی چیزیں ہیں جو میرے پاس اس وقت تھیں جب آپ کے والد نے مجھے عزت دی تھی۔ میں آج محل میں رہتا ہوں، لیکن اپنی اصل کبھی نہیں بھولا۔ اگر آج آپ مجھے اس عہدے سے نکال دیں تو کل میں پھر گڈریا بن کر زندگی گزارنے کے لیے تیار ہوں۔”
یہ سن کر بادشاہ کی آنکھوں میں خوشی آ گئی۔ اس نے محمد علی کی دیانت داری اور عاجزی کی قدر کی اور اسے مزید عزت و انعام سے نوازا۔
پیارے دوستو!
انسان کتنا ہی بڑا عہدہ حاصل کر لے، کتنا ہی مالدار بن جائے، اسے اپنی اصل اور اپنے گزرے ہوئے دن کبھی نہیں بھولنے چاہئیں۔
دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ سچائی، عاجزی اور ایمانداری اسے عزت دیتی ہے۔
