پُرانے زمانے کی بات ہے۔ زاہد نامی ایک تاجر اپنی ایمانداری اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن وہ اپنے اونٹ پر سوار ایک طویل سفر پر نکلا۔
راستے میں ایک عجیب بات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
ایک خوبصورت نیلا پرندہ مسلسل اس کے اوپر اڑ رہا تھا۔
زاہد نے کئی بار اسے غور سے دیکھا، مگر پھر یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا کہ شاید یہ محض اتفاق ہے۔
کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان اور تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گیا۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور ریت کے ذرے جیسے پاؤں جلا رہے تھے۔
اچانک زاہد کے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا۔
شدید پیاس سے اس کا گلا خشک ہونے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور قدم لڑکھڑانے لگے۔
اسی لمحے اسے اوپر وہی نیلا پرندہ نظر آیا۔
پرندہ ایک پرانے کنویں کے اوپر چکر لگا رہا تھا۔
زاہد کو امید کی کرن نظر آئی۔ وہ فوراً کنویں تک پہنچا، رسی سے ڈول باندھا اور اسے نیچے اتارا۔
کچھ دیر بعد ڈول اوپر آیا۔
لیکن پانی کے بجائے اس میں چمکتے ہوئے سونے کے سکے بھرے ہوئے تھے!
زاہد کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اتنا سونا کہ شاید اس کی کئی نسلیں آرام سے زندگی گزار سکتیں۔
مگر زاہد نے چند لمحے سونے کو دیکھا، پھر اپنی پیاسی حالت کی طرف دیکھا۔
وہ مسکرایا اور بولا:
“یہ سونا میرے کسی کام کا نہیں۔ اس وقت مجھے دولت نہیں، پانی چاہیے۔”
اس نے سارا سونا واپس کنویں میں ڈال دیا۔
پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی:
“اے اللہ! مجھے دولت نہیں چاہیے، بس میری جان بچانے کے لیے پانی عطا فرما۔”
اس نے دوبارہ ڈول نیچے اتارا۔
جب ڈول واپس آیا تو اس میں شفاف، ٹھنڈا اور میٹھا پانی موجود تھا۔
زاہد نے پانی پیا، اپنے اونٹ کو پلایا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
مگر اس کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
کچھ دور جانے کے بعد اسے زمین پر پھڑپھڑانے کی آواز سنائی دی۔
وہی نیلا پرندہ زمین پر زخمی پڑا تھا!
اس کا ایک پر لہولہان تھا اور ایک زہریلا سانپ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
زاہد نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر لاٹھی اٹھائی اور سانپ کو وہاں سے بھگا دیا۔
پھر اس نے پرندے کو احتیاط سے اٹھایا، اپنے کپڑے کا ٹکڑا پھاڑ کر اس کے زخم پر باندھا اور اپنے برتن سے اسے پانی پلایا۔
اچانک ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔
پرندے نے انسانی آواز میں کہا:
“زاہد! کیا تم نے مجھے پہچانا نہیں؟”
زاہد حیرت سے پیچھے ہٹا۔
“تم… انسانوں کی طرح کیسے بول سکتے ہو؟”
پرندے نے جواب دیا:
“میں کوئی عام پرندہ نہیں ہوں۔ میں تمہاری ایک پرانی نیکی کا بدلہ ہوں۔”
زاہد حیران رہ گیا۔
پرندہ بولا:
“تین سال پہلے تم نے ایک غریب بوڑھے شخص کو سخت سردی میں دیکھا تھا۔ تم نے اپنا گرم کوٹ اور کھانا اسے دے دیا تھا۔ تم نے یہ نیکی کسی کو بتائے بغیر کی اور پھر اسے بھول بھی گئے۔”
“لیکن نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔”
“آج جب تم صحرا میں پیاسے تھے تو تمہارے سامنے سونے اور پانی کا امتحان آیا۔ تم نے سونے کے بجائے پانی کو ترجیح دی۔ پھر جب تم نے مجھے زخمی دیکھا تو اپنی جان کی پروا کیے بغیر میری مدد کی۔”
پرندے نے مسکرا کر کہا:
“تم نے اس دن ایک غریب کی مدد کی تھی، آج تمہاری وہی نیکی تمہارے راستے میں امید بن کر آئی۔”
یہ کہتے ہی نیلا پرندہ آسمان کی طرف بلند ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
زاہد دیر تک آسمان کو دیکھتا رہا۔
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
اس دن اسے ایک ایسی حقیقت سمجھ آئی جسے وہ زندگی بھر نہیں بھولا:
نیکی ہمیشہ فوراً واپس نہیں آتی، مگر وہ کبھی ضائع بھی نہیں ہوتی۔
اس لیے کسی کی مدد کرتے وقت یہ نہ سوچیں کہ آپ کو اس کا بدلہ کیا ملے گا۔
بس نیکی کریں، خلوص کے ساتھ کریں، اور اسے اللہ کے سپرد کر دیں۔
کبھی کبھی ایک چھوٹی سی نیکی، زندگی کے سب سے مشکل سفر میں روشنی بن جاتی ہے۔
