سکون کی تلاش

سکون کی تلاش

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جس کے پاس دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی نعمت تھی جو خریدی نہ جا سکتی ہو۔ محل سنگِ مرمر سے بنا تھا، فرشوں پر ریشم بچھا تھا، خواب گاہ میں نرم ترین بستر، خوشبودار عطر، قیمتی پردے اور ہر وہ آسائش موجود تھی جسے انسان سکون کا نام دے سکتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اسی محل میں ایک ایسی چیز نہیں تھی جس کے لیے بادشاہ ترس رہا تھا: نیند۔

رات آتی تو محل کی روشنیاں بجھ جاتیں، پہرے دار اپنی جگہ سنبھال لیتے، خادم خاموشی سے دروازے بند کر دیتے، مگر بادشاہ کی آنکھوں سے نیند کو جیسے کوئی پرانی دشمنی تھی۔ وہ کروٹ بدلتا، پھر دوسری کروٹ، کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی کھول دیتا۔ کبھی نرم تکیے پر سر رکھتا، کبھی بستر بدلوا دیتا۔ کبھی طبیب بلاتا، کبھی حکیم، کبھی دور دراز کے ملکوں سے لائی ہوئی دوائیں آزماتا، کبھی ایسی غذائیں کھاتا جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ نیند کو بلاتی ہیں، مگر نیند تھی کہ بادشاہ کے محل کا راستہ ہی بھول گئی تھی۔

ایک رات بادشاہ نے بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، “آخر دنیا کی ہر چیز میرے پاس ہے، پھر یہ چند ساعتوں کا سکون مجھ سے کیوں چھین لیا گیا ہے؟”

اسی دوران کسی نے اسے ایک اللہ والے کا ذکر کیا جو شہر سے کچھ فاصلے پر ایک پرانی مسجد میں دریا کے کنارے بیٹھا رہتا تھا۔ نہ اس کے پاس کوئی محل تھا، نہ خادم، نہ نرم بستر، نہ دنیاوی خزانے؛ بس مسجد، دریا کی روانی، قرآن کی آواز اور اللہ کا ذکر۔

اگلی صبح بادشاہ اپنے چند محافظوں کے ساتھ اس مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ ایک بزرگ مسجد کے صحن میں سادہ سی چٹائی پر بیٹھے تھے۔ بادشاہ ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ اسے عجیب سا سکون محسوس ہونے لگا۔ دریا کی لہروں کی آواز، مسجد کی خاموشی، قرآن کی مدھم تلاوت اور اس بزرگ کی پرسکون موجودگی نے جیسے اس کے اندر برسوں سے مچی ہوئی ہلچل پر ہاتھ رکھ دیا۔

بادشاہ نے آنکھیں بند کیں۔
اور پھر اسے کچھ خبر نہ رہی۔
جب آنکھ کھلی تو سورج ایک بار پھر اسی دریا کے کنارے روشن تھا۔ بادشاہ نے حیرت سے اپنے محافظوں کو دیکھا۔
“کتنی دیر سویا ہوں؟”
ایک محافظ نے سر جھکا کر کہا، “حضور! تقریباً ایک دن گزر چکا ہے۔”
بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے بزرگ کی طرف دیکھا اور حیرت سے پوچھا، “یہ کیسے ممکن ہے؟ میں اپنے محل کے نرم ترین بستر پر پوری رات آنکھیں بند نہیں کر پاتا، اور یہاں زمین پر بیٹھے بیٹھے مجھے ایسی نیند آ گئی کہ چوبیس گھنٹے گزر گئے؟”

اللہ والے نے مسکرا کر دریا کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا، “بادشاہ سلامت! آپ نیند کو بستر میں تلاش کر رہے تھے، حالانکہ نیند بستر کی محتاج نہیں ہوتی۔”
“آپ نے دنیا کے نرم ترین بستر خرید لیے، مگر اپنے دل کے لیے سکون نہیں خریدا۔ آپ نے اپنے محل کی دیواریں بلند کیں، مگر اپنے اور اپنے رب کے درمیان فاصلہ بھی بلند کر لیا۔”

بادشاہ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔

اللہ والے نے کہا، “یہ جگہ دیکھ رہے ہیں؟ یہ اللہ کا گھر ہے۔ یہاں کوئی غریب آتا ہے تو اپنے رب کے سامنے بیٹھ جاتا ہے، کوئی تھکا ہوا آتا ہے تو دل ہلکا کر لیتا ہے، کوئی قرآن پڑھتا ہے، کوئی نماز ادا کرتا ہے، کوئی خاموش بیٹھ کر اپنے رب کو یاد کرتا ہے۔ یہاں دلوں پر بوجھ رکھنے کے بجائے بوجھ اتارے جاتے ہیں۔ اس لیے یہاں سکون ہے۔”
“اور آپ کے محل میں کیا ہے؟”
“وہ محل جس کی ایک ایک اینٹ میں کسی کی آہ شامل ہو، جس کی زمین کسی سے چھینی گئی ہو، جس کی تعمیر میں کسی مجبور کا حق دبا ہو، جس کے دروازے پر انصاف مانگنے والے واپس لوٹتے رہے ہوں، وہاں آپ نے محل تو بنا لیا، مگر سکون کے لیے جگہ نہیں چھوڑی۔”

یہ الفاظ بادشاہ کے دل میں اترتے چلے گئے۔

اللہ والے نے کہا، “بادشاہ سلامت! یاد رکھیے، جہاں ظلم پلتا ہے وہاں سکون نہیں ٹھہرتا، اور جہاں انصاف زندہ ہو وہاں دلوں پر رحمت اترتی ہے۔”

بادشاہ نے آہستہ سے پوچھا، “تو پھر میرے محل میں نیند کیوں نہیں آتی؟”

بزرگ نے جواب دیا، “کیونکہ نیند آنکھوں سے پہلے دل میں اترتی ہے۔ اور جس دل میں مظلوموں کی آہیں، دبے ہوئے حقوق اور ناانصافی کا بوجھ ہو، وہاں دنیا کے ہزار بستر بھی سکون نہیں دے سکتے۔”

بادشاہ کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔

اللہ والے نے کہا، “اگر کسی مظلوم کی آہ آپ کے محل کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی ہو تو سمجھ لیجیے، وہاں سونے کا بستر تو ہو سکتا ہے، سکون کا بستر نہیں۔”
“انسان یہ سمجھتا ہے کہ سکون دولت سے خریدا جا سکتا ہے، مگر سکون اللہ کی رحمت سے ملتا ہے۔ اور اللہ کی رحمت وہاں آتی ہے جہاں دل میں رحم، فیصلوں میں انصاف اور ہاتھوں میں ظلم نہیں ہوتا۔”
بادشاہ نے پوچھا، “تو کیا میرے محل میں کبھی سکون نہیں آ سکتا؟”
اللہ والے نے جواب دیا، “کیوں نہیں۔ محل بدلنے کی ضرورت نہیں، محل تک پہنچنے والا راستہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ظلم چھوڑ دیجیے، حق دار کو حق دیجیے، مظلوم کی آہ سے بچیے، اور اپنے فیصلوں میں انصاف کو جگہ دیجیے۔ جب آپ کے ہاتھ سے ظلم کم ہوگا تو آپ کے محل پر رحمت کے دروازے کھلنے لگیں گے۔”
بادشاہ اٹھا تو اس کے ساتھ کوئی دوا نہیں تھی، کوئی نیا تکیہ نہیں تھا، کوئی شاہانہ نسخہ نہیں تھا۔
صرف ایک حقیقت تھی جو اس کے دل میں اتر چکی تھی:
سکون چیزوں میں نہیں، رحمت میں ہے؛ اور رحمت وہاں اترتی ہے جہاں ظلم کے بجائے انصاف زندہ ہو۔
وہ محل واپس گیا تو اس رات پہلی بار اس نے سونے سے پہلے اپنے خزانے نہیں، اپنے فیصلے یاد کیے۔ جن لوگوں کا حق دبایا تھا، ان کی فہرست منگوائی۔ جن سے ناانصافی ہوئی تھی، انہیں بلانے کا حکم دیا۔ اور جس صبح سورج طلوع ہوا، بادشاہ کی آنکھیں پہلی مرتبہ سکون سے کھلی تھیں۔

اخلاقی سبق

اللہ کی رحمت صرف عبادت گاہوں کی خاموشی میں نہیں، انسانوں کے ساتھ ہمارے انصاف میں بھی تلاش کی جانی چاہیے۔ جہاں مظلوم محفوظ ہو، حق دار کو حق ملے اور ظلم کا راستہ روکا جائے، وہاں رحمت اترتی ہے؛ اور جہاں رحمت ہو، وہاں دل کو وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کے نرم ترین بستر بھی نہیں دے سکتے۔

Leave a Reply

NZ's Corner