کہتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
“اے اللہ کے نبی! میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جانوروں اور پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم عطا فرمایا ہے۔ مجھے بھی یہ علم سکھا دیجیے، تاکہ میں جانوروں کی باتیں سن کر اللہ کی معرفت حاصل کرسکوں۔”
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات سنی اور فرمایا:
“! ہر علم انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اللہ کی معرفت جانوروں کی بولیاں سمجھنے سے نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس خواہش سے باز آ جاؤ۔”
مگر نوجوان اپنی ضد پر قائم رہا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا:
“اچھا، تمہارے اصرار پر میں تمہیں یہ علم عطا کرتا ہوں، لیکن یاد رکھو، اس میں تمہارے لیے آزمائش بھی ہوسکتی ہے۔”
نوجوان بہت خوش ہوا۔
اگلے دن وہ اپنے گھر کے دروازے کے قریب چھپ کر بیٹھ گیا، جہاں ایک مرغ اور ایک کتا موجود تھے۔
اتنے میں خادمہ نے بچی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا باہر پھینکا۔ مرغ فوراً اسے اٹھا کر لے گیا۔ کتے نے ناراضی سے کہا:
“تم نے میرا حصہ بھی لے لیا!”
مرغ ہنسا اور بولا:
“اس چھوٹی سی روٹی کا غم نہ کرو۔ کل ہمارے مالک کا گھوڑا مرنے والا ہے۔ پھر تم خوب گوشت کھانا۔”
نوجوان نے یہ بات سنی تو گھبرا گیا۔ اس نے فوراً گھوڑا بازار میں لے جا کر بیچ دیا اور سوچا:
“دیکھا! اس علم نے مجھے نقصان سے بچا لیا۔”
اگلے دن پھر مرغ اور کتا باتیں کرنے لگے۔
کتا بولا:
“تم نے کہا تھا گھوڑا مرے گا، لیکن مالک نے تو اسے بیچ دیا!”
مرغ نے جواب دیا:
“گھوڑا تو مرنا ہی تھا، مگر اسے یہاں مرنے کے بجائے کہیں اور موت آئی۔ اب فکر نہ کرو، کل مالک کا اونٹ مرے گا۔”
نوجوان نے یہ بات سنی تو فوراً اونٹ بھی بیچ دیا۔
تیسرے دن مرغ نے کہا:
“کل مالک کا غلام مرنے والا ہے۔ اگر وہ مر گیا تو مالک فقیروں میں کھانا تقسیم کرے گا، اور تمہیں بہت سا گوشت ملے گا۔”
نوجوان نے یہ سنتے ہی غلام کو بھی بیچ دیا۔
اب وہ دل ہی دل میں خوش تھا۔
“میں نے کتنے بڑے نقصانات سے خود کو بچا لیا! اگر مجھے جانوروں کی بولیاں نہ آتیں تو گھوڑا، اونٹ اور غلام سب میرے ہاتھ سے چلے جاتے۔”
مگر اگلے دن کتے نے مرغ سے غصے میں کہا:
“اب تو مان لو کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ نہ گھوڑا مرا، نہ اونٹ، نہ غلام!”
مرغ نے سکون سے جواب دیا:
“میں نے جھوٹ نہیں کہا تھا۔ وہ سب مرنے والے تھے، مگر ہمارے مالک نے انہیں بیچ کر اپنی جان بچا لی۔ لیکن اب اصل مصیبت آنے والی ہے۔”
کتا چونک گیا۔
مرغ بولا:
“کل ہمارا مالک خود مر جائے گا۔ اگر وہ اپنے جانور اور غلام نہ بیچتا تو شاید ان میں سے کسی ایک کے نقصان کے ذریعے اس کی جان بچ جاتی۔ مگر اس نے ہر نقصان سے خود کو بچا لیا۔ اب اس کے پاس اپنی جان دینے کے سوا کچھ نہیں بچا۔”
یہ بات سن کر نوجوان کے ہوش اڑ گئے۔
وہ دوڑتا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور روتے ہوئے بولا:
“اے اللہ کے نبی! مجھے بچا لیجیے۔ مجھے اپنی موت کا پتا چل گیا ہے!”
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
“بیٹا! جب تمہیں بار بار سمجھایا گیا تھا تو تم نے بات نہ مانی۔ اب تقدیر کا فیصلہ قریب آچکا ہے۔ انسان اپنی تدبیر سے بہت کچھ بدلنے کی کوشش کرسکتا ہے، مگر اللہ کے فیصلے کو نہیں ٹال سکتا۔”
نوجوان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے دعا کی:
“اے میرے رب! اگر اس کے لیے مہلت نہیں تو کم از کم اس کا ایمان سلامت رکھ۔”
ابھی یہ دعا جاری تھی کہ نوجوان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ اس کا رنگ زرد پڑ گیا، جسم کانپنے لگا اور چند ہی لمحوں میں وہ زمین پر گر پڑا۔
اس کی زندگی کا چراغ بجھ چکا تھا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا:
“انسان ظاہری نقصان سے تو بچنے کی کوشش کرتا ہے، مگر کبھی یہی نقصان اس کے لیے بڑے نقصان سے بچنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اللہ کی حکمت کو انسان اپنی محدود عقل سے نہیں سمجھ سکتا۔”
سبق
ہمیں ہر نقصان کو فوراً مصیبت اور ہر فائدے کو فوراً نعمت نہیں سمجھنا چاہیے۔
کبھی اللہ تعالیٰ کسی چھوٹی چیز کو ہم سے لے کر ہمیں بڑی مصیبت سے بچا لیتا ہے۔ اس لیے تدبیر ضرور کرو، مگر اللہ کی تقدیر پر بھروسا بھی رکھو۔
