کہتے ہیں خراسان کے ایک مضافاتی علاقے میں صابر نام کا ایک نہایت غریب، مگر انتہائی نیک اور پرہیزگار کسان رہتا تھا۔
صابر سارا دن دوسروں کے کھیتوں میں محنت مزدوری کرتا اور شام کو جو تھوڑی بہت اجرت ملتی، اسی سے اپنے گھر والوں کے لیے حلال رزق کا انتظام کرتا۔
اس کا اصول بہت واضح تھا:
“جتنی محنت کی ہے، اتنی ہی اجرت لوں گا۔”
اگر کبھی کوئی مالک خوش ہو کر طے شدہ اجرت سے ایک پیسہ بھی زیادہ دینے کی کوشش کرتا تو صابر وہ اضافی رقم لینے سے انکار کر دیتا اور کہتا:
“میں نے جتنی محنت کی ہے، میں صرف اتنی ہی اجرت کا حق دار ہوں۔”
پھر ایک رات بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا…
اس نے دیکھا کہ اس کے محل کے تمام خزانے مٹی میں تبدیل ہو گئے ہیں، لیکن شہر کے ایک کونے سے ایک نورانی لکیر آسمان کی طرف بلند ہو رہی ہے۔
صبح ہوتے ہی بادشاہ نے اپنے وزیروں کو حکم دیا کہ اس نورانی جگہ کا سراغ لگایا جائے۔
شاہی کارندے تلاش کرتے کرتے شہر کے ایک کونے میں موجود صابر کی کچی جھونپڑی تک پہنچ گئے۔
وہاں کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔
جھونپڑی میں کھانے کے لیے بھی زیادہ کچھ موجود نہ تھا، غربت ہر طرف نمایاں تھی، لیکن اس چھوٹے سے گھر میں ایک عجیب سا سکون، اطمینان اور برکت محسوس ہو رہی تھی۔
جب بادشاہ کو صابر کے بارے میں بتایا گیا تو اس نے اسے اپنے محل میں طلب کر لیا۔
بادشاہ نے صابر کی غربت دیکھ کر سونے کی اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی اس کے سامنے رکھ دی۔
مگر صابر نے نہایت ادب سے سر جھکایا اور عرض کیا:
“بادشاہ سلامت! یہ سونا میرے کسی کام کا نہیں، کیونکہ میں نے اس کے لیے پسینہ نہیں بہایا۔ اگر میں اسے بغیر محنت کے قبول کر لوں تو میرے دل سے حلال روزی کی وہ مٹھاس ختم ہو جائے گی، جو مجھے سوکھی روٹی میں بھی محسوس ہوتی ہے۔”
صابر کی یہ بات سن کر بادشاہ دنگ رہ گیا۔
اس نے اپنے وزیروں سے کہا:
“حقیقی بادشاہ تو یہ کسان ہے، جو مادی دولت کا محتاج نہیں۔”
کہانی کا قیمتی سبق
حلال روزی میں اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت اور سکون رکھا ہے جو دنیا کے بڑے سے بڑے خزانے میں بھی نہیں مل سکتا۔
جب انسان اللہ کے خوف سے حرام، ناجائز یا مشکوک مال سے بچتا ہے تو اس کا دل ایسا غنی ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا کے بادشاہوں سے بھی زیادہ بے نیاز ہو جاتا ہے۔
حوالہ:
یہ واقعہ اسلامی اخلاقیات، زہد و قناعت اور حلال روزی کے مفہوم سے متاثر ہو کر سبق آموز انداز میں مرتب کیا گیا ہے۔
