بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک تاجر تجارت کی غرض سے ایک دور دراز سلطنت میں گیا۔ وہ اپنے شہر سے بہت دور تھا، مگر تجارت کا شوق اسے ایسے علاقوں تک لے گیا تھا جہاں نہ اسے زبان پوری طرح آتی تھی اور نہ لوگوں کے مزاج کا اندازہ تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس سفر میں اسے کاروبار سے زیادہ اپنے نفس کی تجارت کا سبق ملنے والا ہے۔
وہ ابھی پہلے صوبے میں ہی تھا کہ ایک سنسان راستے پر ڈاکوؤں نے اسے گھیر لیا۔ اس کا مال، سامان، نقدی، حتیٰ کہ سفر کے لیے بچا کر رکھے ہوئے پیسے تک سب کچھ چھین لیا۔ تاجر لٹ پٹ کر صوبے کے گورنر کے دربار میں پہنچا اور فریاد کی۔
گورنر رحم دل آدمی تھا۔ اس نے تاجر کی پوری بات سنی، افسوس کیا اور کہا، “جو ہو گیا، اسے واپس تو نہیں لایا جا سکتا، مگر تمہیں خالی ہاتھ واپس بھی نہیں جانے دوں گا۔”
اس نے تاجر کو اتنا مال، اتنے سکے اور اتنا سامان دیا کہ تاجر کی اگلی کئی نسلیں بھی آرام سے زندگی گزار سکتی تھیں۔
تاجر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے گورنر کا شکریہ ادا کیا اور دل میں کہا، “دنیا میں ایسے نیک لوگ بھی موجود ہیں۔”
مگر انسان کا دل بھی عجیب چیز ہے؛ کبھی نعمت ملتے ہی شکر کرتا ہے اور کبھی نعمت ملتے ہی اگلی نعمت کا حساب لگانا شروع کر دیتا ہے۔
تاجر دوسرے صوبے میں پہنچا تو اچانک اس کے دل میں ایک خیال آیا:
“اگر پہلے صوبے کے گورنر نے مجھے اتنا دے دیا ہے تو شاید دوسرے صوبے کا گورنر بھی میری مدد کرے۔”
بس پھر کیا تھا، تجارت کا سامان ایک طرف رکھا اور تاجر نے رونا شروع کر دیا۔
لوگوں نے پوچھا، “بھائی! کیا ہوا؟”
تاجر نے وہی پرانی داستان سنائی کہ ڈاکوؤں نے کیسے لوٹا، کیسے برباد کیا، کیسے وہ خالی ہاتھ رہ گیا۔
دوسرے صوبے کا گورنر بھی نرم دل نکلا۔ اس نے تاجر کی حالت دیکھی تو اسے اپنے پاس بلایا، تسلی دی اور پہلے سے بھی بڑھ کر مال و دولت عطا کر دی۔
تاجر نے مال لیا اور آگے چل پڑا۔
اب اسے یہ خیال نہیں آیا کہ “اللہ نے مجھے کتنا دے دیا۔”
اس کے ذہن میں یہ خیال آیا:
“اگر دوسرے گورنر نے اتنا دے دیا ہے تو تیسرے سے تو شاید اس سے بھی زیادہ مل جائے!”
تیسرے صوبے میں پہنچتے ہی وہ پھر مظلوم بن گیا۔
وہی آنسو، وہی آہیں، وہی ڈاکو، وہی لٹنے کی داستان۔
تیسرے گورنر نے بھی رحم کھایا اور اسے اتنا مال دیا کہ تاجر خود حیران رہ گیا۔
مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ تاجر کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی تھی، اس کی لالچ بڑھ رہی تھی۔
چوتھے صوبے میں اس نے اپنی کہانی میں چند نئے رنگ بھر دیے۔ “حضور! میں تو تباہ ہو گیا ہوں۔ میرا سب کچھ چھن گیا۔ گھر میں بچے بھوکے ہیں، کاروبار ختم ہو گیا، میرے پاس واپسی کا کرایہ تک نہیں۔”
چوتھے گورنر نے بھی اسے مال و دولت دے دی۔
پانچویں صوبے تک پہنچتے پہنچتے تاجر کو یقین ہو چکا تھا کہ اس نے ایک ایسا راز دریافت کر لیا ہے جس سے دولت کمائی نہیں، مانگی جا سکتی ہے۔
وہ جہاں جاتا، لوگ اس کی کہانی سنتے اور اس کی مدد کرتے۔ چھٹے صوبے میں تو اس نے سوچا: “اب آخری صوبہ باقی ہے۔ اگر یہاں بھی گورنر نے دل کھول دیا تو میں عمر بھر کسی تجارت کی زحمت نہیں کروں گا۔”
وہاں بھی اس نے وہی قصہ سنایا، وہی دکھڑے روئے اور گورنر نے بھی رحم کھاتے ہوئے اسے خوب نوازا۔
اب تاجر کے پاس اتنا مال جمع ہو چکا تھا کہ وہ چاہتا تو اپنے شہر واپس جا کر کئی سال تک آرام سے زندگی گزار سکتا تھا۔ مگر لالچ کبھی یہ نہیں کہتی کہ “بس، اب کافی ہے۔”
لالچ ہمیشہ کہتی ہے:
“ابھی ایک موقع اور ہے۔”
ساتویں صوبے سے آگے سلطنت کا دارالحکومت تھا۔
تاجر نے سوچا: “صوبوں کے گورنر اگر اتنا دے سکتے ہیں تو بادشاہ کے دربار سے کیا کچھ نہیں ملے گا”
وہ دارالحکومت پہنچا اور سیدھا بادشاہ کے دربار میں جا کھڑا ہوا۔
بادشاہ کے سامنے پہنچ کر اس نے نہایت غمگین چہرہ بنایا اور بولنے لگا: “بادشاہ سلامت! میں ایک بدقسمت تاجر ہوں۔ آپ کی سلطنت کے راستے میں ڈاکوؤں نے مجھے لوٹ لیا۔ میں پہلے صوبے کے گورنر کے پاس گیا، مگر وہاں بھی میری پوری مدد نہ ہو سکی۔ پھر دوسرے صوبے میں گیا، وہاں بھی کوئی خاص سہارا نہ ملا۔ تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے صوبے کے گورنروں کے پاس گیا، مگر کسی نے میری حالت نہ سمجھی۔ آخرکار انصاف کی امید لیے آپ کے دربار میں پہنچا ہوں۔”
بادشاہ خاموشی سے سنتا رہا۔
تاجر نے سمجھا کہ اب شاید خزانے کے دروازے کھلنے والے ہیں۔
مگر بادشاہ نے اچانک حکم دیا: “سلطنت کے تمام گورنروں کو فوراً میرے دربار میں حاضر کیا جائے”
تاجر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
اس نے سوچا تھا بادشاہ اسے مال دے گا، اسے کیا معلوم تھا کہ بادشاہ مال نہیں، حساب مانگنے والا ہے۔
چند دن بعد ایک ایک کر کے تمام گورنر دربار میں حاضر ہو گئے۔
بادشاہ نے سب سے پوچھا:
“کیا تم میں سے کسی کے پاس یہ تاجر آیا تھا؟”
پہلے گورنر نے کہا، “جی بادشاہ سلامت۔”
دوسرے نے کہا، “جی، میرے پاس بھی آیا تھا۔”
تیسرے نے بھی سر جھکا دیا۔
پھر چوتھا، پانچواں، چھٹا اور ساتواں۔
سب نے بتایا کہ تاجر ان کے پاس آیا تھا، ہر جگہ اپنی لٹنے کی ایک ہی داستان سنائی تھی اور ہر گورنر نے اسے مال و دولت عطا کی تھی۔
بادشاہ نے تاجر کی طرف دیکھا۔
“تم کہتے تھے کہ تم ہر صوبے میں خالی ہاتھ پہنچے تھے؟”
تاجر خاموش۔
بادشاہ نے کہا: “پھر یہ کیا ہے؟”
ایک ایک گورنر نے بتایا کہ اس نے تاجر کو کیا دیا تھا۔
تاجر کے پاس اب کوئی جواب نہیں تھا۔
بادشاہ نے کہا: “تم پہلی بار میرے دربار میں ایک لٹے ہوئے تاجر کی حیثیت سے نہیں آئے۔ تم سات گورنروں کی سخاوت کو اپنی لالچ کا ایندھن بنا کر یہاں پہنچے ہو۔”
تاجر کا سر جھک گیا۔
بادشاہ نے مزید کہا: “تمہیں پہلی بار ضرورت سے زیادہ ملا تو تم نے شکر نہیں کیا۔ دوسری بار ملا تو تم نے اسے حق سمجھ لیا۔ تیسری بار ملا تو تمہاری خواہش اور بڑھ گئی۔ آخرکار تم اس مقام تک پہنچ گئے جہاں تمہارے پاس پہلے ہی اتنا تھا کہ تمہاری کئی نسلیں آرام سے رہ سکتی تھیں، مگر تمہیں پھر بھی بادشاہ کے خزانے پر نظر تھی۔”
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
بادشاہ نے حکم دیا کہ تاجر سے وہ تمام مال واپس لیا جائے جو اس نے جھوٹ اور فریب سے حاصل کیا تھا، اور اسے ایسی سزا دی جائے جو سلطنت کے لوگوں کے لیے عبرت بن جائے۔
تاجر قید میں بار بار اپنے آپ سے ایک ہی سوال کرتا رہا:
“اگر میں پہلے گورنر کے دیے ہوئے مال پر شکر کر لیتا تو آج میرے پاس سب کچھ ہوتا”
مگر اب وقت گزر چکا تھا۔
اس کے پاس کبھی کمی نہیں تھی؛ کمی صرف اس کے دل میں تھی۔
حاصل سبق:
لالچ انسان کو ہمیشہ یہ یقین دلاتی ہے کہ اگلا موقع اسے خوشحال کر دے گا، حالانکہ اکثر اگلا موقع اس سے وہ کچھ بھی چھین لیتا ہے جو پہلے ہی اس کے پاس موجود ہوتا ہے۔
جو شخص آج کی نعمت پر شکر نہیں کرتا، کل کی دولت بھی اسے مطمئن نہیں کر سکتی۔
ضرورت پوری ہونے کے بعد جو خواہش بڑھتی چلی جائے، وہ خواہش نہیں رہتی، انسان کی زنجیر بن جاتی ہے۔
اس لیے زندگی میں یہ پہچاننا ضروری ہے کہ کب آگے بڑھنا ہے اور کب رک کر کہنا ہے: “اللہ کا شکر ہے، میرے لیے اتنا کافی ہے۔”
