یہ اُس زمانے کی بات ہے جب دیہات کے زیادہ تر ماسٹر حضرات دھوتی پہنتے تھے۔ 🙂
لیکن سرکار کا حکم تھا:
📢 “ڈیوٹی کے وقت شلوار لازمی!” 👖
اب نوکری بھی بچانی تھی اور دھوتی بھی نہیں چھوڑنی تھی۔ 😅
سو ماسٹر صاحب نے کمال کا حل نکالا۔ 🤓👇
ایک سفید شلوار کلاس کے اندر کیل پر لٹکا دی۔
جیسے ھی خبر ملتی،
😳 “افسر آ رہا ھے!”
بس…
دھوتی اُتری 💨
شلوار چڑھی 👖
اور ماسٹر صاحب لمحوں میں سرکاری ملازم بن جاتے۔ 🤣
مگر ایک مسئلہ ھو گیا 😬👇
مہینوں تک کوئی افسر آیا ھی نہیں۔
شلوار بےچاری کیل پر لٹکی لٹکی دھول کھاتی رھی 😆
پھر ایک دن…
⚡ اچانک افسر معائنہ کرنے آ پہنچا! 🤯💁
ماسٹر صاحب بھاگتے ھوئے کمرے میں گئے 😰🏃 اور جلدی سے شلوار پہنی! 👖💨
ایک ٹانگ…
پھر دوسری ٹانگ…
اور جیسے ھی ناڑا باندھنے لگے…
🐝 بھڑرررررر…!! 😱
پتا چلا…
شلوار کے اندر تو کئی مہینوں سے بھڑوں کی پوری کالونی آباد تھی! 😕🤣
بس پھر کیا تھا، ماسٹر صاحب نے تگنی کا ناچ شروع کر دیا 😆🤣
🐝 ایک طرف بھڑوں کا حملہ 🙅
🔥🏃 دوسری طرف ماسٹر صاحب کی دوڑ 😨🥀
ایسے بھاگے کہ اسکول کے بچے بھی تالیاں بجانے لگے۔ 👏😂
چپڑاسی پانی کی بالٹی لے کر پیچھے اور افسر حیران کھڑا سوچ رہا تھا:
🤔 “یہ اسکول ھے یا اولمپک ٹرائل؟” 😂
آخرکار بھڑوں نے فتح حاصل کر لی اور ماسٹر صاحب نے ہمیشہ کے لیے سرکاری شلوار سے توبہ کر لی۔ 😰🙅
بعد میں کسی نے پوچھا:
“ماسٹر صاحب! معائنہ کیسا رہا؟” 😁😆
ماسٹر صاحب نے لمبی سانس لی اور بولے:
“افسر تو آدھے گھنٹے بعد چلا گیا لیکن بھڑوں کا رزلٹ آج تک میرے جسم پر محفوظ ھے!” 🤕🤣
سبق:
کبھی بھی کپڑوں کو بغیر چیک کیے نہ پہنیں ھو سکتا ھے وہ سرکاری نہیں، بھڑوں کی سرکاری رہائش بن چکی ھو! 🐝🤣
