بلاعنوان

بلاعنوان

جنگل کی ریاست پر برسوں سے بھیڑیوں کا اثر تھا، مگر جنگل کے قانون کے مطابق بادشاہ صرف شیر ہی بن سکتا تھا، اس لیے بھیڑیوں نے ایک لنگڑے شیر کو بادشاہ بنا دیا۔

شیر نام کا بادشاہ تھا، مگر حکومت کے فیصلے بھیڑیے کرتے تھے، خزانے کی چابیاں بھیڑیوں کے پاس تھیں، جنگل کے راستے بھیڑیوں کے قبضے میں تھے اور شکار کی تقسیم بھی انہی کی مرضی سے ہوتی تھی۔ شیر کی سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ ہر مہینے کی یکم تاریخ کو اسے جانوروں کے سامنے حکومتی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرنا پڑتی تھی۔ اس دن کا خیال آتے ہی شیر کے چہرے کا رنگ بدل جاتا، رات بھر کروٹیں بدلتا اور کبھی کبھی اپنے لنگڑے پن کو کوسنے لگتا کہ کاش جنگل میں بادشاہ بننے کے لیے صرف شیر ہونا ضروری نہ ہوتا۔

کیونکہ یکم تاریخ کو بندر رپورٹر اپنی پوری تیاری کے ساتھ آتا تھا۔ اس کے پاس سوالات کی ایک لمبی فہرست ہوتی؛ جنگل کے درخت کیوں کاٹے گئے؟ خوراک کہاں گئی؟ ندی کا پانی گدلا کیوں ہے؟ شکار کے قوانین صرف کمزور جانوروں پر کیوں لاگو ہوتے ہیں؟ خزانے میں کمی کیوں ہوئی؟ بھیڑیوں کے ریوڑ کو ہر معاملے میں خصوصی رعایت کیوں ملتی ہے؟ شیر کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہ ہوتا۔ وہ کبھی دائیں دیکھتا، کبھی بائیں، کبھی پانی پیتا اور کبھی دربان کو گھورتا، مگر بندر سوال پر سوال کیے جاتا۔ آخرکار جانوروں نے اس کی ویڈیوز بنانا شروع کر دیں اور جنگل کے درختوں پر بیٹھے طوطے اس کے بیانات کی نقلیں اتارنے لگے۔ شیر کی بے بسی پورے جنگل کی تفریح بن چکی تھی۔

ایک دن شیر محل کے ایک کونے میں بیٹھا رو رہا تھا۔
اسی وقت لومڑی اندر داخل ہوئی۔ اس نے بادشاہ کو دیکھا تو پوچھا، “حضور! آنکھوں میں نمی اور چہرے پر ایسی پریشانی؟” بادشاہ نے آہ بھری، “وہ بندر مجھے جینے نہیں دیتا۔ ہر مہینے ایسے سوال کر دیتا ہے کہ میری حکومت کی ساری حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔” لومڑی مسکرائی، “بس اتنی سی بات؟ کل کی بریفنگ مجھے جانے دیجیے۔” بادشاہ نے حیرت سے کہا، “مگر قانون تو کہتا ہے کہ بادشاہ کو خود بریفنگ دینی ہوگی۔” لومڑی نے آنکھ دبا کر کہا، “قانون اپنی جگہ، بیماری بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔ آپ بیمار ہو جائیے، باقی حکومت کی خدمت میں حاضر ہوں۔” اگلے دن بندر بڑی تیاری سے بریفنگ ہال پہنچا۔ اس نے رات بھر سوالات تیار کیے تھے۔ آج اس کا ارادہ تھا کہ بادشاہ کی ایسی خبر لے گا کہ جنگل کا ہر جانور مہینوں یاد رکھے گا۔ دروازے پر پہنچا تو دربان نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور پوچھا، “آپ کون ہیں؟” بندر چونکا، “کیا مطلب؟ میں جنگل کا سب سے مشہور صحافی ہوں!” دربان نے سنجیدگی سے کہا، “اچھا! ہمیں تو آج پہلی بار معلوم ہوا۔” بندر نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا اور اندر چلا گیا۔ ابھی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ اس کے پیچھے بیٹھے خرگوشوں کا ایک جتھا اسے دیکھ کر ہنسنے لگا۔ بندر نے پلٹ کر پوچھا، “کیا ہوا؟” ایک خرگوش نے ہنسی دباتے ہوئے کہا، “کچھ نہیں، بس آپ کو دیکھ کر ہنسی آ گئی۔” بندر مزید حیران ہوا۔ اتنے میں لومڑی اندر داخل ہوئی۔ اس نے آتے ہی بندر کو غور سے دیکھا، پھر بولی، “ارے بندر بھائی! آپ کے ایک کان کو کیا ہوا ہے؟” بندر نے فوراً اپنا کان چھوا، “کیا ہوا میرے کان کو؟” لومڑی بولی، “ایک کان دوسرے سے چھوٹا لگ رہا ہے۔ یا شاید میری نظر میں کچھ کمی ہے کہ دور سے صحیح نظر نہیں آرہا ہے، پیچھے بیٹھے خرگوش فوراً بول اٹھے، “جی جی! ہم بھی یہی دیکھ کر ہنس رہے تھے” دروازے پر کھڑے دربان نے بھی سر ہلایا، “میں بھی صبح سے یہی سوچ رہا تھا کہ بندر صاحب کے کانوں میں آخر فرق کیا ہے!” بندر اب اپنے سوالات بھول کر دونوں کانوں کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگا۔ لومڑی نے اطمینان سے کاغذات ترتیب دیے اور بولی، “خیر، یہ تو قدرت کا معاملہ ہے، آپ برا نہ مانیں۔ اب آئیے بریفنگ شروع کرتے ہیں۔” بندر نے ابھی پہلا سوال نکالا ہی تھا کہ لومڑی نے پھر کہا، “ایک منٹ! ذرا اپنا دوسرا کان بھی دکھائیے، مجھے لگتا ہے وہ بھی کچھ ٹیڑھا ہے۔” بندر پھر کان پکڑ کر بیٹھ گیا۔ خرگوش پھر ہنسنے لگے۔ دربان پھر سر ہلانے لگا۔ کسی نے کہا، “واقعی عجیب کان ہیں!” کسی نے کہا، “اتنے مشہور صحافی ہیں اور ہمیں آج معلوم ہوا کہ کان ایسے ہیں!” بندر کا سارا دھیان اب اپنے کانوں پر تھا۔ وہ آئینے میں دیکھتا، کان کھینچتا، ایک طرف جھکاتا، دوسری طرف سیدھا کرتا اور ہر چند لمحوں بعد کسی سے پوچھتا، “سچ بتاؤ، واقعی فرق ہے؟” لومڑی ہر بار بڑی سنجیدگی سے کوئی نیا سوال اٹھا دیتی۔ کبھی کہتی، “آپ کا کان اوپر سے زیادہ لمبا ہے”، کبھی کہتی، “نہیں، شاید نیچے سے ٹیڑھا ہے”، اور کبھی پیچھے بیٹھے خرگوشوں سے کہتی، “آپ لوگوں کو بھی تو نظر آ رہا ہے نا؟” خرگوش ایک ساتھ بولتے، “جی جی، بالکل!” اور پھر قہقہہ لگا دیتے۔ بندر کی پریشانی بڑھتی گئی اور وقت گزرتا گیا۔ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ جس بریفنگ کے لیے وہ بادشاہ سے جنگل کی خوراک، خزانے، امن، انصاف اور حکومت کی کارکردگی کا حساب لینے آیا تھا، اس کی پوری نشست اس کے اپنے کانوں کے گرد گھوم کر ختم ہو چکی تھی۔ آخرکار دربان نے اعلان کیا، “بریفنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔” بندر چونکا، “کیا؟ ختم؟ میں نے تو ایک سوال بھی نہیں پوچھا!” لومڑی نے مسکرا کر کہا، “ارے بھائی! آپ کو تو اپنے کانوں سے فرصت ہی نہیں ملی۔” بندر باہر نکلا تو راستے بھر اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتا رہا۔ اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک پورا دن وہ ایک ایسے مسئلے میں الجھا رہا جس کا جنگل کی بھوک، خزانے کی خالی حالت، ناانصافی یا بادشاہ کی کارکردگی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ محل کے اندر لنگڑا بادشاہ اپنی کرسی پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ لومڑی نے آ کر کہا، “حضور! آج آپ سے ایک بھی سوال نہیں ہوا۔” بادشاہ نے سکون کا سانس لیا، “مگر تم نے یہ کیا کیسے؟” لومڑی نے کہا، “حضور! عوام کو جواب دینے کی ضرورت تب پڑتی ہے جب وہ سوال یاد رکھیں۔ ہم نے انہیں سوال سے پہلے ایک ایسا مسئلہ دے دیا جس میں وہ الجھ جائیں۔” بادشاہ نے خوش ہو کر کہا، “واہ! تو آج حکومت بھی بچ گئی اور بریفنگ بھی!” لومڑی نے جھک کر کہا، “حضور! یہی تو حکومت چلانے کا ہنر ہے۔ جب اصل سوال مشکل ہو جائے تو عوام کو کسی چھوٹے سوال میں مصروف کر دو۔” اگلے دن جنگل میں کسی کو یہ یاد نہیں تھا کہ بادشاہ سے کیا پوچھنا تھا۔ سب صرف بندر کے کانوں پر بحث کر رہے تھے۔ کوئی کہتا، “واقعی ایک کان چھوٹا ہے!” کوئی کہتا، “نہیں، دونوں برابر ہیں!” کوئی کہتا، “مجھے تو دونوں ٹیڑھے لگتے ہیں!” اور بندر بیچارہ خود بھی یہی ثابت کرنے میں لگا ہوا تھا کہ اس کے کان اصل میں کیسے ہیں۔ ادھر محل میں بادشاہ نے اپنی حکومت کا ایک اور مہینہ گزار لیا۔
اگلی یکم تاریخ آئی تو بندر پہلے سے زیادہ تیار تھا۔ اس مرتبہ اس نے فیصلہ کیا تھا کہ کانوں کے مسئلے میں نہیں پڑے گا۔ وہ دربار میں داخل ہوا، فائل میز پر رکھی اور کہا، “آج میں صرف حکومتی خزانے کا حساب پوچھوں گا۔” لومڑی نے بڑی سنجیدگی سے اس کی بات سنی اور پھر اچانک بولی، “خزانے سے پہلے ایک اہم مسئلہ حل کر لیں۔ جنگل میں آخر یہ طے کیوں نہیں ہو رہا کہ مور کو اپنے پروں پر اتنا فخر کیوں ہے؟” بندر نے حیرت سے کہا، “یہ حکومتی سوال نہیں!” لومڑی نے فوراً جواب دیا، “تو پھر آپ اتنے جذباتی کیوں ہو رہے ہیں؟ کیا آپ کو مور سے کوئی ذاتی مسئلہ ہے؟”
پیچھے بیٹھے خرگوش فوراً بول اٹھے، “ہاں! ہمیں بھی لگتا ہے مور خود کو بہت سمجھتا ہے۔” دربان نے کہا، “میں نے تو کل اسے درخت کے پاس دیکھا تھا، اپنے پروں کو دیکھ دیکھ کر چل رہا تھا۔” چند جانور فوراً مور کے خلاف بولنے لگے، کچھ مور کے حق میں۔ بندر خزانے کا سوال بھول کر مور کے دفاع میں تقریر کرنے لگا۔ آدھا اجلاس مور کے پروں، اس کی چال اور اس کے غرور پر بحث میں گزر گیا۔ آخر میں لومڑی نے بڑے اطمینان سے کہا، “دیکھا؟ اصل مسئلہ تو یہی تھا، باقی سب بعد میں۔”
تیسری یکم تاریخ کو بندر نے عہد کیا کہ اب وہ کسی بات میں نہیں آئے گا۔ اس نے کاغذ پر بڑے حروف میں لکھا: “آج صرف جنگل کے وسائل اور حکومت کی کارکردگی پر سوال ہوں گے۔” وہ دربار پہنچا اور پہلا سوال شروع ہی کرنے والا تھا کہ لومڑی نے میز پر ایک خوب صورت سیب رکھ دیا اور بولی، “یہ سیب سرخ کیوں ہے؟” بندر نے آنکھیں بند کر کے کہا، “مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔” لومڑی نے فوراً کہا، “دلچسپ! یعنی آپ کو رنگوں سے بھی مسئلہ ہے؟” دربان نے کہا، “میں نے بھی نوٹ کیا ہے کہ بندر صاحب ہمیشہ سبز پھل پسند کرتے ہیں۔” خرگوش بولے، “یہ ضرور کوئی خفیہ معاملہ ہے!” چند جانور سیب کے حق میں اور چند اس کے خلاف ہوگئے۔ کوئی کہنے لگا سرخ سیب صحت کے لیے بہتر ہے، کوئی کہنے لگا سبز سیب زیادہ اچھا ہے، کوئی بولنے لگا اصل مسئلہ پھلوں کی قیمت ہے، اور بندر ایک بار پھر اسی بحث میں گھسیٹ لیا گیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اجلاس ختم ہو چکا تھا۔
جنگل بھوکا تھا، خزانہ خالی تھا، انصاف کمزور تھا اور حکومت بدستور ناکام تھی، مگر جانوارو کے پاس ہر یکم کو بحث کے لیے ایک نیا موضوع موجود تھا۔ 

حاصل سبق:

نااہل حکومتیں ہمیشہ عوام کو خاموش نہیں کرتیں، انہیں صرف مصروف رکھتی ہیں؛ کبھی کان کے مسئلے میں، کبھی معمولی اختلاف میں، کبھی ایسی بحث میں جس کا ان کی زندگی کے اصل مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کیونکہ جو عوام اصل سوال پوچھنا چھوڑ دے، اس سے حکومت کو جواب دینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ سبق یہ ہے کہ ہر شور اہم نہیں ہوتا اور ہر بحث ضروری نہیں۔ عقل مند وہ ہے جو شور کے پیچھے چھپی خاموش حقیقت کو پہچانے، اصل سوال یاد رکھے اور اس شخص سے جواب مانگے جس کے پاس اختیار ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner