ایک بادشاہ اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا کہ اس کی نظر قریب کے ایک گھر کی چھت پر پڑی، جہاں ایک نہایت خوب صورت عورت کپڑے سکھا رہی تھی۔
بادشاہ نے اپنی ایک خادمہ سے پوچھا:
“یہ عورت کون ہے؟”
خادمہ نے جواب دیا:
“حضور! یہ آپ کے وفادار غلام فیروز کی بیوی ہے۔”
یہ سن کر بادشاہ کے دل میں اس عورت کو حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہو گئی۔ اس نے فوراً فیروز کو بلا بھیجا اور کہا:
“فیروز! یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کے پاس لے جاؤ اور جواب لے کر واپس آؤ۔”
فیروز نے حکم کی تعمیل کی، لیکن روانگی سے پہلے وہ خط تکیے کے نیچے رکھ کر سفر کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ صبح سویرے وہ روانہ ہو گیا، مگر اسے خبر نہ تھی کہ اس کے پیچھے کیا ہونے والا ہے۔
فیروز کے جاتے ہی بادشاہ اس کے گھر پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔
“کون؟” اندر سے آواز آئی۔
بادشاہ نے جواب دیا:
“میں بادشاہ ہوں۔”
دروازہ کھلا تو بادشاہ اندر داخل ہو گیا۔ فیروز کی بیوی حیرت سے بولی:
“حضور! آپ ہمارے غریب خانے میں کیسے تشریف لائے؟”
بادشاہ نے کہا:
“میں تمہارا مہمان بن کر آیا ہوں۔”
عورت فوراً اس کے ارادے کو بھانپ گئی۔ اس نے نہایت ادب سے کہا:
“بادشاہ سلامت! میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ مجھے آپ کے اس آنے میں کوئی خیر نظر نہیں آتی۔”
بادشاہ نے غصے سے کہا:
“کیا تم جانتی نہیں کہ میں کون ہوں؟”
عورت بولی:
“حضور! شیر خواہ کتنا ہی بھوکا کیوں نہ ہو، وہ مردار نہیں کھاتا۔”
پھر اس نے مزید کہا:
“اور آپ اس برتن سے پانی پینے آئے ہیں، جس سے آپ کے ایک وفادار خادم نے پانی پیا ہے۔”
یہ سن کر بادشاہ شرمندہ ہو گیا اور خاموشی سے واپس لوٹ گیا، لیکن جلدی میں اپنی چپل وہیں بھول گیا۔
ادھر فیروز کو آدھے راستے میں یاد آیا کہ وہ خط تو گھر ہی میں رہ گیا ہے۔ وہ فوراً واپس پلٹا۔ جب اس نے تکیے کے نیچے سے خط اٹھایا تو اس کی نظر پلنگ کے نیچے پڑی ہوئی بادشاہ کی چپل پر پڑی۔
وہ سب کچھ سمجھ گیا، لیکن اس نے اپنی زبان بند رکھی۔
واپس آ کر اس نے بیوی سے کچھ نہ کہا، بلکہ اسے قیمتی کپڑے اور تحفے دے کر اس کے میکے پہنچا دیا۔ پھر کئی ہفتوں تک اسے واپس نہ بلایا۔
آخرکار معاملہ قاضی کے پاس پہنچ گیا۔
لڑکی کے بھائیوں نے کہا:
“قاضی صاحب! ہم نے ایک سرسبز باغ اس شخص کے حوالے کیا تھا، لیکن اس نے وہ باغ ہمیں واپس کر دیا۔”
قاضی نے فیروز سے پوچھا:
“تم نے ایسا کیوں کیا؟”
فیروز نے جواب دیا:
“میں نے باغ اس لیے چھوڑ دیا کہ ایک دن مجھے وہاں شیر کے قدموں کے نشان دکھائی دیے۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں شیر مجھے نقصان نہ پہنچا دے، اس لیے میں نے وہاں جانا ہی چھوڑ دیا۔”
یہ سن کر بادشاہ، جو وہیں موجود تھا، فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور بولا:
“فیروز! اطمینان سے اپنے باغ میں واپس جاؤ۔ خدا کی قسم! شیر وہاں ضرور آیا تھا، مگر نہ وہ کوئی پھل کھا سکا، نہ کوئی شاخ توڑ سکا اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکا۔ وہ خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا، کیونکہ تمہارے باغ کے گرد بہت مضبوط دیواریں تھیں۔”
یہ سن کر فیروز مطمئن ہو گیا اور اپنی بیوی کو گھر لے آیا۔
قاضی اور وہاں موجود دوسرے لوگ اس گفتگو کا مطلب نہ سمجھ سکے، لیکن بادشاہ اور فیروز دونوں حقیقت جانتے تھے۔
سبق:
عقلمند لوگ اپنے گھروں کے راز دوسروں پر ظاہر نہیں کرتے، کیونکہ عزت کی حفاظت خاموشی، صبر اور دانائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
