جنگل کے ایک نسبتاً سنسان حصے میں ایک گدھا رہتا تھا۔ محنت مزدوری سے اسے کوئی خاص دشمنی نہیں تھی، البتہ محنت اسے کچھ زیادہ پسند بھی نہیں تھی۔ اس کا فلسفہ بڑا سادہ تھا: اگر قسمت میں گھاس لکھی ہے تو گھاس خود راستہ ڈھونڈ کر منہ تک آ جائے گی، اور اگر قسمت میں بادشاہی لکھی ہے تو آدمی کو لکڑیاں اٹھانے کی کیا ضرورت؟ بس اسی فلسفے کے ساتھ وہ دن بھر کبھی درخت کے سائے میں کھڑا رہتا، کبھی ندی کے کنارے بیٹھا رہتا اور کبھی اپنی زندگی کے سنہرے مستقبل کے بارے میں سوچتے سوچتے سو جاتا۔ ایک رات اسے ایک عجیب خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ ایک لمبی، سنسان وادی میں اکیلا چل رہا ہے۔ چاروں طرف گھنا اندھیرا تھا، آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور دور کہیں بجلی چمک رہی تھی۔ اچانک اس کے سامنے زمین پھٹنے لگی، درخت جڑوں سمیت گرنے لگے اور پہاڑ سے مٹی، پتھر اور بڑے بڑے چٹانیں لڑھک کر اس کی طرف آنے لگیں۔ گدھا جان بچانے کے لیے بھاگا مگر جتنا بھاگتا، وہی آفت اس کے پیچھے بڑھتی آتی۔ آخرکار ایک بہت بڑا پتھر اس کے بالکل قریب آ کر رکا اور اسی لمحے اس کی آنکھ کھل گئی۔ گدھا ہانپ رہا تھا، پسینہ بہہ رہا تھا اور دل اس طرح دھڑک رہا تھا جیسے واقعی پہاڑ سے بھاگ کر آیا ہو۔ صبح ہوتے ہی اس نے سوچا کہ یہ کوئی عام خواب نہیں۔ مگر خواب کی تعبیر سمجھنے کے لیے عقل درکار تھی اور عقل کے استعمال میں اسے ہمیشہ کچھ سستی محسوس ہوتی تھی، اس لیے اس نے سیدھا جنگل کے مشہور پیر، بابا بگلا شاہ کا رخ کیا۔ بابا بگلا شاہ ایک بڑے تالاب کے کنارے اپنی جھونپڑی میں بیٹھتے تھے۔ ان کی شہرت یہ تھی کہ وہ جانوروں کے خواب سنتے، ستاروں کی چال بتاتے، کبھی کبھی پانی میں اپنا عکس دیکھ کر مستقبل کا حال بیان کرتے اور ہر مشکل کا حل اس چیز سے نکالتے تھے جو اتفاق سے اس وقت ان کے پاس موجود نہ ہو۔ گدھا پہنچا تو بابا بگلا شاہ ایک چٹائی پر آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے۔ سامنے تسبیح، ایک پیالہ، چند خشک پتے اور ایک خالی تھیلی رکھی تھی۔ گدھے نے سلام کیا۔ بابا نے آنکھیں آدھی کھولیں، گدھے کو دیکھا اور پھر فوراً دوبارہ بند کر لیں، جیسے اتنی بڑی روحانی شخصیت کو کسی گدھے کا چہرہ دیکھنا بھی معمول سے زیادہ مشقت ہو۔ “کہو بیٹا، کیا پریشانی ہے؟” گدھے نے عرض کیا، “حضور! رات بڑا عجیب خواب دیکھا ہے۔ دل گھبرا رہا ہے، تعبیر جاننے آیا ہوں۔” بابا نے فوراً پوچھا، “خواب کس وقت دیکھا؟” گدھے نے کہا، “حضور! رات کے دوسرے پہر۔” یہ سنتے ہی بابا بگلا شاہ نے اپنی کمر سیدھی کی، تسبیح کو ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑا اور کچھ لمحے آسمان کی طرف دیکھتے رہے۔ پھر نہایت سنجیدگی سے بولے، “دوسرے پہر کا خواب ہے؟ پھر معاملہ معمولی نہیں۔ دوسرے پہر کے خواب اکثر سچے ہوتے ہیں۔” گدھے کے کان کھڑے ہوگئے۔ “تو حضور، اس کی تعبیر کیا ہے؟” بابا نے گہری سانس لی، آنکھیں بند کیں اور فرمایا، “تم نے خواب میں جو دیکھا، وہ صرف خواب نہیں تھا، ایک اشارہ تھا۔ تم پر ایک بڑی آفت آنے والی ہے۔ ایسی آفت کہ اگر پہلے سے بندوبست نہ کیا گیا تو جان چھڑانا مشکل ہو سکتا ہے۔” گدھے کے قدموں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔ “حضور! کیسی آفت؟” بابا نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا، “آفت کی شکل مختلف ہو سکتی ہے۔ گھر، روزگار، جان، مال… کچھ بھی۔” گدھا مزید گھبرا گیا۔ “تو پھر اس سے بچنے کا کوئی راستہ بھی ہے؟” بابا نے تسبیح کا ایک دانہ گھمایا، دوسرا دانہ گھمایا، پھر تیسرے دانے پر رک کر بولے، “راستہ ہے، مگر آسان نہیں۔ تمہارے لیے ایک خاص چلہ نکالنا پڑے گا۔” گدھے نے جلدی سے پوچھا، “کیا چاہیے؟” بابا نے کہا، “ایک صحت مند بکرا۔” گدھے نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر دل میں حساب لگایا کہ جان زیادہ قیمتی ہے یا بکرا۔ چونکہ اپنی جان اسے خاصی قیمتی لگتی تھی، اس لیے فوراً بولا، “حضور! بکرا حاضر ہوگا۔” وہ جنگل میں ادھر ادھر پھرا، ایک بکرا تلاش کیا، اسے بڑی مشکل سے پکڑا اور بابا بگلا شاہ کے حوالے کر دیا۔ بابا نے بکرے کو دیکھا، پھر گدھے کو دیکھا اور بڑی شفقت سے فرمایا، “اللہ تمہیں سلامت رکھے، اب فکر نہ کرو۔ آفت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔” گدھے نے اطمینان کی سانس لی اور واپس چلا گیا۔ اس دن کے بعد جب بھی کوئی معمولی پریشانی آتی، وہ اسے آفت سمجھتا اور پھر خود کو تسلی دیتا کہ بابا نے پہلے ہی جان بچا لی تھی۔ یوں کچھ عرصہ گزر گیا۔ ایک رات گدھے کو ایک اور خواب آیا۔ اس بار منظر بالکل مختلف تھا۔ اس نے دیکھا کہ جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا تخت رکھا ہے، چاروں طرف جانور قطار میں کھڑے ہیں، ہاتھی اس کے سامنے سر جھکا رہے ہیں، شیر اس کے دائیں طرف کھڑا ہے، لومڑیاں ہاتھ باندھے کھڑی ہیں، بندر نعرے لگا رہے ہیں اور خود گدھا ایک شاندار تاج پہنے تخت پر بیٹھا ہے۔ اس کے سامنے ایک بڑا سا سنہری تختہ لگا ہے جس پر لکھا ہے: “جنگل کا بادشاہ، عالی جاہ گدھا صاحب”۔ خواب میں گدھا حکم دیتا ہے، “آج سے جنگل میں ہر گدھے کو شاہی گھاس دی جائے!” سب جانور ایک آواز میں کہتے ہیں، “جو حکم بادشاہ سلامت!” گدھا خوشی سے ایسا مسکراتا ہے کہ اسی مسکراہٹ میں اس کی آنکھ کھل گئی۔ صبح ہوتے ہی وہ اپنے آپ کو پہلے والا گدھا سمجھنے پر تیار ہی نہ تھا۔ وہ کبھی اچھلتا، کبھی دم ہلاتا اور کبھی بے وجہ اپنی گردن اونچی کر کے چلتا۔ اسے راستے میں اپنا دوست گھوڑا ملا۔ گھوڑے نے اسے دیکھا تو حیرت سے پوچھا، “گدھے میاں! آج تمہارے اندر اتنی بجلی کہاں سے آ گئی؟” گدھے نے فخر سے کہا، “اب مجھے گدھے میاں مت کہنا، مستقبل کے بادشاہ کہنا۔” گھوڑا ہنسا۔ “اچھا! اور یہ بادشاہی کہاں سے آ گئی؟” گدھے نے رازدارانہ انداز میں کہا، “خواب میں دیکھا ہے۔” گھوڑے نے کہا، “خواب؟ بھائی، خواب اپنی جگہ، مگر بادشاہ وہ بنتا ہے جو قابلیت دکھائے، محنت کرے، لوگوں کا اعتماد حاصل کرے۔ صرف خواب دیکھنے سے کوئی بادشاہ نہیں بنتا۔” گدھے نے فوراً گردن ہلائی، “تمہیں معلوم نہیں، یہ عام خواب نہیں تھا۔” گھوڑے نے پوچھا، “کیوں؟” گدھے نے فخر سے کہا، “یہ بھی رات کے دوسرے پہر کا خواب تھا!” گھوڑے نے اپنا سر پکڑ لیا۔ “اچھا، پھر میں کچھ نہیں کہتا۔” مگر گدھا کہاں رکنے والا تھا۔ وہ سیدھا بابا بگلا شاہ کے پاس پہنچا۔ بابا ابھی صبح کی دھوپ میں آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے۔ گدھا دور سے ہی بولا، “حضور! مبارک ہو!” بابا نے آنکھیں کھولیں، “کس بات کی؟” گدھے نے کہا، “میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں جنگل کا بادشاہ بن گیا ہوں!” بابا نے پوچھا، “کب دیکھا؟” گدھے نے فخر سے کہا، “رات کے دوسرے پہر!” بابا بگلا شاہ کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے ایسی خاموشی چھا گئی جیسے کسی نے ان کے سامنے ان کی اپنی لکھی ہوئی کتاب کھول دی ہو۔ انہیں اچانک اپنا ہی جملہ یاد آیا: “دوسرے پہر کے خواب اکثر سچے ہوتے ہیں۔” اب اگر وہ کہتے کہ یہ خواب سچا نہیں تو گدھا فوراً پوچھتا، “پھر میری پچھلی آفت والا خواب کیوں سچا تھا؟” اور اگر کہتے کہ سچا ہے تو گدھا روز بادشاہی کا حال پوچھنے آتا۔ بابا نے کچھ دیر تسبیح گھمائی، پھر بڑی متانت سے فرمایا، “بیٹا… یہ خواب بھی سچا ہے۔ تم بادشاہ ضرور بنو گے۔” گدھے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ “کب؟” بابا نے فوراً جواب دیا، “یہ اللہ کے علم میں ہے۔” “کتنے دن بعد؟” “روحانی معاملات میں وقت لگتا ہے۔” “مہینہ؟” “صبر کرو۔” “سال؟” بابا نے آنکھیں بند کر لیں، “اللہ بہتر جانتا ہے۔” گدھا مطمئن ہوگیا۔ اب اس نے بادشاہی کو حقیقت نہیں بلکہ آنے والی حقیقت سمجھ لیا تھا۔ اگلے مہینے پھر پہنچا۔ “حضور! بادشاہی؟” بابا نے کہا، “اشارے آ رہے ہیں۔” دوسرے مہینے آیا۔ “حضور! کچھ پیش رفت؟” جواب ملا، “روحانی رکاوٹیں ہیں، مگر دور ہو رہی ہیں۔” تیسرے مہینے آیا تو بابا نے کہا، “تمہارے ستارے حرکت میں ہیں۔” چھٹے مہینے کہا، “وقت قریب ہے۔” نویں مہینے کہا، “بس آخری مرحلہ باقی ہے۔” گدھے کے لیے یہ “آخری مرحلہ” اتنا ہی طویل نکلا جتنا بعض لوگوں کے لیے “بس پانچ منٹ”۔ پورا ایک سال گزر گیا، مگر گدھا نہ بادشاہ بنا، نہ اس کے لیے کوئی تخت آیا، نہ کسی ہاتھی نے اسے سلام کیا۔ البتہ ہر مہینے بابا بگلا شاہ کے پاس حاضری ضرور لگتی رہی۔ آخر ایک دن بابا اس قدر تنگ آ گئے کہ انہوں نے سوچا، “یہ گدھا بادشاہ بننے سے پہلے مجھے ضرور فقیر بنا دے گا۔” چنانچہ انہوں نے گدھے کو غور سے دیکھا اور کہا، “گدھے میاں! میں نے تمہاری کنڈلی دوبارہ دیکھی ہے۔ معاملہ بڑا عجیب ہے۔ تمہاری قسمت میں بادشاہ بننا صاف صاف لکھا ہے۔ بلکہ اگر میں روحانی دنیا کے حساب سے دیکھوں تو تم وہاں بادشاہ بن بھی چکے ہو!” گدھے نے حیرت سے پوچھا، “وہاں بن گیا ہوں؟” “بالکل!” “پھر یہاں کیوں نہیں بنا؟” بابا نے فوراً چہرہ سنجیدہ کر لیا۔ “بس یہی تو مسئلہ ہے۔” گدھا آگے جھک گیا۔ بابا نے آہستہ سے پوچھا، “تم نے اپنا خواب کسی کو بتایا تھا؟” گدھے نے فوراً کہا، “جی، صرف اپنے دوست گھوڑے کو۔” بابا نے دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے۔ “ہائے! یہی تو تم سے غلطی ہوگئی!” گدھے نے گھبرا کر پوچھا، “کیا ہوگیا حضور؟” بابا بولے، “تمہاری بادشاہی روحانی دنیا میں مکمل ہو چکی تھی، مگر تم نے خواب گھوڑے کو بتا دیا۔ اس کی نظر لگ گئی!” گدھے نے آنکھیں پھیلا دیں۔ “گھوڑے کی؟” “ہاں!” بابا نے پورے یقین سے کہا، “تمہیں معلوم نہیں، بعض لوگوں کی نظر اتنی تیز ہوتی ہے کہ سامنے والے کی خوشی بھی برداشت نہیں کرتی۔ تمہاری بادشاہی وہاں بن گئی، مگر اس کی نظر نے تمہاری بادشاہی کا راستہ اس دنیا میں بند کر دیا۔” گدھے نے سر پکڑ لیا۔ اسے اچانک گھوڑے کی وہ بات یاد آئی: “خواب سے بادشاہ نہیں بنتے، محنت کرنی پڑتی ہے۔” اب اسے وہ نصیحت نہیں، سازش محسوس ہونے لگی۔ وہ واپس آیا تو راستے میں گھوڑا مل گیا۔ گھوڑے نے خوشی سے پوچھا، “کہو بادشاہ سلامت، تخت کب سنبھال رہے ہو؟” گدھے نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ گھوڑے نے پوچھا، “کیا ہوا؟” گدھے نے غصے سے کہا، “تم نے میری بادشاہی پر نظر لگا دی!” گھوڑا حیران رہ گیا۔ “میں نے؟” گدھا بولا، “ہاں! پیر صاحب نے بتایا ہے۔ میں خواب میں بادشاہ بن چکا تھا، تمہیں بتایا اور میری بادشاہی یہیں رک گئی!” گھوڑا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا، پھر بولا، “گدھے میاں، میں نے تو صرف تمہیں یہ کہا تھا کہ بادشاہ بننے کے لیے محنت بھی کرنی پڑتی ہے۔” گدھے نے فوراً جواب دیا، “بس! یہی تمہاری نظر تھی!” اور اس دن کے بعد گدھے نے گھوڑے سے بات کرنا چھوڑ دی۔ آج تک دونوں کے درمیان بول چال بند ہے۔ گدھا آج بھی جنگل میں اپنی بادشاہی کے انتظار میں ہے اور بابا بگلا شاہ آج بھی اس کی کنڈلی میں بادشاہی ڈھونڈ رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ گدھا اب ہر ناکامی کا سبب اپنی سستی، اپنی نااہلی یا اپنی بے عملی کو نہیں سمجھتا؛ اسے یقین ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی گھوڑے کی نظر ضرور لگی ہوئی ہے۔ اور بابا بگلا شاہ؟ ان کے دربار میں آج بھی جانور آتے ہیں، خواب سناتے ہیں، مستقبل پوچھتے ہیں، اور بابا بڑے اطمینان سے ان کی بات سنتے ہیں؛ کیونکہ جب سامنے والا اپنی عقل گھر چھوڑ کر آئے تو پیر کے پاس کرامت دکھانے کے لیے زیادہ سامان درکار نہیں ہوتا۔
حاصلِ سبق: ہر خواب بشارت نہیں ہوتا اور ہر تعبیر علم نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان اپنی خواہش کو حقیقت سمجھنے کے لیے ایسی بات ڈھونڈ لیتا ہے جو اس کی امید کو سہارا دے۔ پھر جب حقیقت اس کے مطابق نہ نکلے تو اپنی غلطی دیکھنے کے بجائے نظر، قسمت، ستاروں، دشمنوں اور دوسروں کی نیت میں وجہ تلاش کرنے لگتا ہے۔ سب سے خطرناک شخص وہ نہیں جو جھوٹا بہانہ بناتا ہے؛ خطرناک وہ ہے جو ہماری کمزوری کو پہچان کر ہمیں ایسا بہانہ دے دے جس پر ہم خود خوشی سے یقین کر لیں۔ کامیابی کا راستہ خواب سے نہیں، خواب کے بعد کیے گئے عمل سے بنتا ہے؛ اور ناکامی کی وجہ ہر بار کسی گھوڑے کی نظر نہیں ہوتی، بلکہ ہماری اپنی کاہلی اور کمیاں ہوتی ہیں۔
