پنورگ نامی ایک شخص بحری جہاز کے سفر پر روانہ تھا۔ اسی جہاز پر بھیڑوں کا ایک تاجر دیندونو بھی سوار تھا. یہ اپنے ساتھ بھیڑوں کا ایک ریوڑ فروخت کرنے کے لیے لے جا رہا تھا۔
چنانچہ دوران سفر پنورگ اور تاجر دیندونو کے درمیان جہاز کے عرشے پر جھگڑا ہو گیا۔ لالچی سوداگر سے بدلہ لینے کے لیے پنورگ غصے سے لال نیلا ہورہا تھا، پنورگ نے اس کو سبق سکھانے کے لئے اس کی سب سے بڑی بھیڑ کو بھاری قیمت پر خریدنے کا فیصلہ کیا، اس منافع بخش سودے پر لالچی سوداگر دیندونو کو بہت خوشی ہوئی۔
پنورگ نے یکایک ایک عجیب حرکت کی، اس نے بھیڑوں کی لیڈر کو اس کے سینگوں سے پکڑا اور اسے زبردستی گھسیٹ کر جہاز کے آخری کنارے پر لے گیا، پھر اسے زور کے ساتھ دھکا دے کر سمندر میں پھینک دیا۔ پیچھے تمام بھیڑیں یہ منظر دیکھ رہی تھیں، یہ سب بھی اندھا دھند اپنی لیڈر بھیڑ کے پیچھے ایک کے بعد دوسری، تیسری اور پھر چوتھی سب ایک ایک کرکے سمندر میں کودتی گئیں. سوداگر اپنی بھیڑوں کا نقصان ہوتے دیکھ کر شدید صدمے میں آگیا تھا.
بقیہ بھیڑیں ایک لمبی قطار میں کھڑی ہو گئیں تاکہ اپنی اپنی باری آنے پر سمندر میں کود سکیں۔
بھیڑوں کا تاجر، دیندونو، اپنے ریوڑ کو سمندر میں چھلانگ لگانے سے روکنے کی کوشش میں پاگل ہوچکا تھا، لیکن اس کی یہ تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ بھیڑیں جو کچھ کررہی تھیں اس پر ان کا یقین بہت گہرا تھا جس کے سامنے تاجر بے بس ہوچکا تھا ۔
لالچی سوداگر دیندونو آخری زندہ بچ جانے والی بھیڑ کو پکڑنے کے لیے بھاگا، اس امید پر کہ اس آخری بھیڑ کے ذریعے ہی اپنی پھوٹی قسمت کو بچایا جا سکے۔ تاہم یہ آخری بھیڑ اور تاجر دونوں ہی ایک ساتھ سمندر میں کود گئے اور ڈوبنے لگے.
اس کہانی کے بعد “ماؤٹون دی پینورج(پنورگ کی بھیڑ) “
فرانسیسی زبان میں ایک عام اصطلاح بن گئئ. جس کا مطلب ہے کسی بھی انسانی حیوانی گروہ ریوڑ کا دوسروں کی رائے یا عمل پر لاشعوری اور غیر ارادی طور پر آنکھیں بند کر اندھا دھند پیروی کرتے چلے جانا.


