ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج: لوہے اور پگھلے تانبے کا وہ ملٹری پراجیکٹ جسے آج کی ٹیکنالوجی بھی نہ بنا سکی! – بلال شوکت آزاد
کیا آپ جدید تاریخ کے کسی ایسے ملٹری انجینئرنگ پراجیکٹ کا تصور کر سکتے ہیں جسے آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی، لیزر کٹنگ اور ہیوی مشینری بھی نہ بنا سکے؟
ایک ایسی دیوہیکل دیوار جو سیمنٹ یا اینٹوں سے نہیں، بلکہ خالص لوہے کے بلاکس اور پگھلتے ہوئے تانبے سے بنائی گئی ہو!
اور جس کا مقصد کسی عام دشمن کو نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کی سب سے وحشی، جنگجو اور خونخوار آرمی کو قیامت تک کے لیے قید کرنا ہو۔
ذرا ہالی ووڈ کی خیالی دیواروں کے طلسم سے باہر نکلیں اور کائنات کے اس حقیقی اور لرزہ خیز ملٹری آپریشن میں قدم رکھیں!
تاریخ کے اس سب سے بڑے عالمی فاتح اور عادل حکمران کو قرآنِ مجید ‘ذوالقرنین’ کے نام سے پکارتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں اس وقت کی دنیا کی سپر پاور، بے پناہ وسائل اور کمال درجے کی اسٹریٹجک بصیرت عطا کی تھی۔
سورت الکہف (آیت 84) گواہی دیتی ہے:
“إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا”
(بے شک ہم نے اسے زمین میں اقتدار دیا اور ہر چیز کا سامان عطا کیا)۔
انہوں نے عالمی سطح پر زمین کا کونا کونا چھان مارا۔
مغرب میں سورج ڈوبنے کے مقام (سیاہ چشمے) سے لے کر مشرق کے اس انتہائی کنارے تک کا سفر کیا جہاں آباد قبائل کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے مکانات یا خیمے تک نہ تھے۔
اس طویل عالمی مہم کے دوران ان کا لشکر ایک ایسے جغرافیائی مقام پر پہنچا جہاں دو عظیم الشان پہاڑوں کے درمیان ایک خطرناک درہ تھا۔
وہاں آباد مقامی لوگوں کی زبان اتنی اجنبی تھی کہ بمشکل ہی کوئی بات سمجھی جا سکتی تھی۔
ان مظلوموں نے ذوالقرنین کے سامنے اس وقت کا سب سے بھیانک سکیورٹی خطرہ رکھا:
“إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ”
(بے شک یاجوج اور ماجوج زمین میں زبردست فساد مچانے والے ہیں – الکہف: 94)۔
انہوں نے گڑگڑا کر پیشکش کی کہ ہم آپ کو ٹیکس (خراج) جمع کر کے دیتے ہیں، بس آپ ہمارے اور ان درندوں کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیں۔
ایک سچا اور عادل حکمران عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر اقتدار کا نشہ پورا نہیں کرتا۔
ذوالقرنین نے وہ تاریخی جواب دیا جو آج کے کرپٹ حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے:
“مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ”
(میرے رب نے مجھے جو اقتدار اور خزانہ دیا ہے، وہ تمہارے مال سے بہتر ہے)۔
انہوں نے فنڈز کے بجائے ان سے محنت (مین پاور) مانگی۔
پھر تاریخِ انسانی کا وہ محیر العقول میٹلرجیکل (Metallurgical) معجزہ ظہور پذیر ہوا۔
ذوالقرنین نے لوہے کے دیوہیکل بلاکس (زُبَرَ الْحَدِيدِ) پہاڑوں کی چوٹیوں تک چنوائے اور ان کے درمیان بھٹی جلا دی۔
جب لوہا آگ کی طرح دہکنے لگا تو اس پر پگھلا ہوا تانبہ (قِطْرًا) انڈیل دیا گیا۔
ان دونوں دھاتوں کے ملاپ (Alloy) نے ایک ایسی ناقابلِ تسخیر، ٹھوس اور چکنی دیوار کھڑی کر دی جسے یاجوج ماجوج نہ پھلانگ سکتے تھے، اور نہ ہی ان کے اوزار اس میں سوراخ کر سکتے تھے۔
یہاں اسماء الرجال اور علمِ حدیث کی چھلنی سے ایک بہت بڑے دیومالائی افسانے کا پردہ چاک کرنا لازمی ہے۔
قدیم تفاسیر، عوامی مجالس اور ‘عجائب المخلوقات’ جیسی کتب میں یاجوج ماجوج کے متعلق یہ بھیانک کہانیاں عام ہیں کہ ان کا قد محض ایک یا دو بالشت ہے، یا ان کے کان اتنے بڑے ہیں کہ وہ ایک کان بچھاتے ہیں اور دوسرا اوڑھ کر سوتے ہیں، اور وہ عجیب الخلقت جانوروں جیسے ہیں۔
علمائے نقدِ حدیث، علامہ ابن حزمؒ اور حافظ ابن کثیرؒ کے نزدیک یہ تمام ڈرامائی حلیے اور تفصیلات خالصتاً “اسرائیلیات” (وہب بن منبہ، کعب الاحبار اور اہلِ کتاب کی من گھڑت داستانیں) ہیں!
صحیح بخاری اور مسلم کی متفق علیہ احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ یاجوج ماجوج کوئی ایلین یا عجیب مخلوق نہیں، بلکہ حضرت آدمؑ ہی کی عام انسانی نسل ہیں، جن کی تعداد ناپید کنار ہے اور وہ طبعاً انتہائی فسادی اور جنگجو ہیں۔
یہ خونخوار قوم آج بھی اس دھاتی دیوار کے پیچھے قید ہے۔
مستند احادیث کے مطابق وہ روزانہ اس دیوار کو کھودتے ہیں، مگر شام کو تھک کر ان کا سردار کہتا ہے کہ باقی کل کھودیں گے، اور اگلی صبح رب کے حکم سے دیوار پھر سے جڑ کر اتنی ہی مضبوط ہو جاتی ہے۔
یہاں تک کہ قیامت کے قریب وہ “ان شاء اللہ” (اگر اللہ نے چاہا) کہیں گے، تو ان کی کھدائی برقرار رہے گی اور دیوار ٹوٹ جائے گی۔
یہ ایسا ہولناک عالمی فتنہ ہوگا جس کا خوف نبی کریم ﷺ پر بھی طاری ہوا۔
صحیح بخاری (حدیث: 3346) میں ہے کہ آپ ﷺ ایک دن گھبراہٹ کے عالم میں بیدار ہوئے اور فرمایا:
“وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ”
(عربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے) اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے حلقہ بنا کر دکھایا۔
ذوالقرنین کی یہ فولادی دیوار اور یاجوج ماجوج کا یہ ابدی طوفان آج کے انسان کو ایک حتمی کائناتی حقیقت بتاتا ہے۔
آپ دنیا کی سپر پاور ہوں، آپ کے پاس جدید ترین ڈیفنس سسٹم، آئرن ڈوم (Iron Dome) یا لوہے اور تانبے کی دیوہیکل دیواریں کیوں نہ ہوں؛ جب کائنات کے رب کا طے شدہ وقت آتا ہے، تو وہ ان ناقابلِ تسخیر قلعوں اور دیواروں کو ریت کے ذروں کی طرح اڑا کر برابر کر دیتا ہے
(فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ – الکہف: 98)۔

