بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک چھوٹی سی ریاست میں سلطان جلال الدین حکومت کرتا تھا۔ وہ ایک نیک دل مگر کچھ بھلکڑ بادشاہ تھا۔ اس کے دربار میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے۔ کوئی عقل مند تھا تو کوئی خوشامدی، کوئی بہادر تھا تو کوئی ایسا بھی تھا جسے دیکھ کر عقل بھی اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔
انہی لوگوں میں ایک سپاہی بھی تھا جس کا نام فیقو خان تھا۔ فیقو خان شکل و صورت سے تو بڑا رعب دار تھا۔ لمبا قد، گھنی مونچھیں، سر پر بڑی سی پگڑی اور کمر سے لٹکتی ہوئی تلوار۔ لیکن اس کی عقل کا حال یہ تھا کہ اگر اسے کوئی کہتا کہ سامنے والے دروازے سے باہر نکل جاؤ تو وہ پہلے یہ پوچھتا کہ دروازہ کھول کر نکلنا ہے یا دیوار پھلانگ کر؟
ایک دن سلطان نے اپنے وزیرِاعظم، حکیم الدین کو بلایا اور کہا:
“وزیر صاحب! ہمارے ملک میں چوری کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ کل رات شاہی اصطبل سے میرا پسندیدہ گھوڑا بھی غائب ہو گیا۔ آخر یہ چور پکڑے کیوں نہیں جاتے؟”
وزیر نے ادب سے سر جھکایا اور کہا:
“حضور! اگر اجازت ہو تو میں شہر میں ایک خاص پہرے کا انتظام کروں۔”
سلطان نے فوراً حکم دیا کہ شہر کے تمام دروازوں پر پہرے بٹھائے جائیں اور مشکوک افراد کی سخت نگرانی کی جائے۔
وزیر نے سپاہیوں کی ایک جماعت تیار کی، جس میں فیقو خان بھی شامل تھا۔ اسے شہر کے مشرقی دروازے پر تعینات کیا گیا۔
روانگی سے پہلے وزیر نے تمام سپاہیوں کو سمجھایا:
“دیکھو! جو شخص بھی رات کے وقت شہر سے باہر نکلے، اس سے پوچھ گچھ کرنا۔ اگر کوئی مشکوک چیز نظر آئے تو فوراً مجھے اطلاع دینا۔”
فیقو خان نے بڑے اعتماد سے سینہ پھلایا اور کہا:
“حضور! آپ بے فکر رہیں۔ جب تک فیقو خان زندہ ہے، شہر سے ایک مکھی بھی اجازت کے بغیر باہر نہیں جا سکتی۔”
وزیر نے حیرت سے پوچھا:
“مکھی کا کیا کرو گے؟”
فیقو خان نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے جواب دیا:
“اسے بھی روک کر پوچھوں گا کہ کہاں جا رہی ہے!”
دربار میں موجود لوگ ہنسنے لگے۔ وزیر نے اپنا سر پکڑ لیا اور اسے روانہ کر دیا۔
رات ہوئی تو فیقو خان اپنی چوکی پر جا بیٹھا۔ اس کے ساتھ ایک نوجوان سپاہی بھی تھا۔ آدھی رات کے قریب ایک گدھا شہر کے دروازے سے باہر جانے لگا۔ اس کی پیٹھ پر دو بڑی بوریاں لدی ہوئی تھیں۔
فیقو خان فوراً اچھل کر کھڑا ہوا اور چلایا:
“رک جاؤ! کون ہو تم؟”
گدھا خاموش رہا۔
فیقو خان نے دوبارہ آواز لگائی:
“میں تم سے پوچھ رہا ہوں، کہاں جا رہے ہو؟”
گدھے نے حسبِ عادت سر ہلایا اور آگے بڑھنے لگا۔
فیقو خان نے اسے پکڑ لیا اور اس کی بوریوں کی تلاشی لینے لگا۔ بوریاں خالی تھیں۔
وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر اپنے ساتھی سے بولا:
“یہ گدھا ضرور کسی بڑی سازش میں ملوث ہے۔ خالی بوریاں لے کر رات کے وقت باہر جا رہا ہے۔”
نوجوان سپاہی نے کہا:
“جناب! یہ تو عام سا گدھا ہے۔ شاید کسی کسان کا ہو۔”
فیقو خان نے غصے سے اسے گھورا۔
“تم ابھی بچے ہو۔ دنیا کے معاملات نہیں سمجھتے۔ بڑے بڑے چور اسی طرح خالی بوریاں لے کر جاتے ہیں اور واپس سونا بھر کر لاتے ہیں!”
یہ کہہ کر اس نے گدھے کو چھوڑ دیا، لیکن دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اگر یہ گدھا چور نکلا تو اس کی ترقی یقینی ہے۔
اگلی صبح وزیر نے چوکیوں کا معائنہ کیا تو فیقو خان نے فخر سے بتایا:
“حضور! رات میں نے ایک خطرناک مجرم کو پکڑا تھا۔”
وزیر نے خوش ہو کر پوچھا:
“کون تھا؟”
“ایک گدھا!”
وزیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“گدھا؟ اس نے کیا جرم کیا تھا؟”
فیقو خان نے سنجیدگی سے جواب دیا:
“اس کے پاس دو خالی بوریاں تھیں اور وہ رات کے وقت شہر سے باہر جا رہا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ کسی چور کا ساتھی ہے۔”
وزیر نے پیشانی پر ہاتھ مارا اور آگے بڑھ گیا۔
چند دن گزرے۔ شہر میں چوریاں بدستور جاری رہیں۔ ایک رات سلطان نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ خود بھیس بدل کر شہر کا دورہ کرے اور چوروں کا پتا لگائے۔
وزیر نے ایک عام تاجر کا لباس پہنا، سر پر پرانی پگڑی باندھی اور رات کے وقت شہر کے دروازے کی طرف چل پڑا۔
جب وہ دروازے پر پہنچا تو فیقو خان نے اسے روک لیا۔
“اے شخص! کہاں جا رہے ہو؟”
وزیر نے جان بوجھ کر اپنی آواز بدلتے ہوئے کہا:
“میں ایک غریب تاجر ہوں۔ اپنے گاؤں واپس جا رہا ہوں۔”
فیقو خان نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
“تمہارے پاس کیا سامان ہے؟”
وزیر نے کہا:
“صرف چند کپڑے اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں۔”
فیقو خان نے اس کی گٹھڑی کھولی۔ اس میں ایک روٹی، کچھ کھجوریں اور ایک پرانا کمبل تھا۔
وہ بولا:
“یہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن تمہاری داڑھی مشکوک لگ رہی ہے!”
وزیر نے حیران ہو کر پوچھا:
“داڑھی میں کیا خرابی ہے؟”
فیقو خان نے جواب دیا:
“اتنی چھوٹی داڑھی والا آدمی رات کو شہر سے باہر کیوں جا رہا ہے؟ ضرور کوئی راز ہے!”
وزیر نے بمشکل اپنی ہنسی روکی اور کہا:
“بھائی! اگر داڑھی بڑی ہوتی تو کیا تم مجھے جانے دیتے؟”
فیقو خان نے فوراً جواب دیا:
“بالکل نہیں! پھر تو میں تمہیں بزرگ سمجھ کر مزید پوچھ گچھ کرتا!”
وزیر نے سر جھکا لیا۔ اسے یقین ہو گیا کہ اس سپاہی کے ساتھ بحث کرنا وقت ضائع کرنے کے برابر ہے۔
آخرکار اس نے اپنی جیب سے ایک سکہ نکالا اور فیقو خان کو دکھاتے ہوئے کہا:
“یہ لو، اگر مجھے جانے دو تو یہ تمہارے لیے انعام ہے۔”
فیقو خان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے فوراً سکہ جیب میں ڈال لیا اور بولا:
“جاؤ، لیکن آئندہ رات کو سفر نہ کرنا۔”
وزیر نے حیرت سے پوچھا:
“کیوں؟”
فیقو خان نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا:
“کیونکہ رات کو چور نکلتے ہیں، اور میں تمہیں بار بار نہیں روک سکتا۔ میری بھی کوئی زندگی ہے!”
وزیر ہنستا ہوا وہاں سے روانہ ہو گیا۔
اگلی صبح وزیر نے سلطان کے سامنے پوری رات کا قصہ سنایا۔ سلطان ہنستے ہنستے اپنے تخت سے تقریباً گر پڑا۔
اس نے حکم دیا کہ فیقو خان کو فوراً دربار میں حاضر کیا جائے۔
فیقو خان جب دربار میں پہنچا تو اس نے حسبِ معمول زور سے سلام کیا اور سینہ تان کر کھڑا ہو گیا۔
سلطان نے پوچھا:
“فیقو خان! کیا تم جانتے ہو کہ گزشتہ رات تم نے کس شخص کو رشوت لے کر شہر سے باہر جانے دیا تھا؟”
فیقو خان نے بے فکری سے جواب دیا:
“حضور! وہ ایک غریب تاجر تھا۔ میں نے اس کی مدد کی ہے۔”
سلطان نے کہا:
“وہ تمہارا وزیرِاعظم تھا!”
یہ سنتے ہی فیقو خان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس نے گھبرا کر اپنی جیب سے سکہ نکالا اور وزیر کے قدموں میں رکھ دیا۔
“حضور! میں یہ سکہ واپس کرتا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ وزیر صاحب ہیں۔ اگر پتا ہوتا تو میں دو سکے مانگتا!”
دربار میں ایک بار پھر قہقہے گونج اٹھے۔
سلطان نے ہنستے ہوئے کہا:
“فیقو خان! تمہیں سپاہی کی نوکری سے فارغ کیا جاتا ہے۔”
فیقو خان نے فوراً ہاتھ جوڑ لیے۔
“حضور! مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کر دیں۔ میں آئندہ کسی گدھے کو بھی نہیں روکوں گا!”
سلطان نے مسکراتے ہوئے کہا:
“نہیں، تمہیں ایک نئی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ آج سے تم شاہی اصطبل کے نگران ہو۔”
فیقو خان خوشی سے اچھل پڑا۔
“حضور! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اب میں گھوڑوں کی حفاظت کروں گا۔”
سلطان نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا:
“لیکن یاد رکھنا، گھوڑوں کو پہچاننا ضروری ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی گدھے کو بھی گھوڑا سمجھ کر شاہی اصطبل میں داخل کر لو۔”
فیقو خان نے فخر سے جواب دیا:
“حضور! اب میں اتنا بھی بے وقوف نہیں ہوں۔ گدھے کو تو میں پہلی نظر میں پہچان لیتا ہوں۔”
چند دن بعد سلطان صبح سویرے اصطبل پہنچا تو دیکھا کہ اس کا سب سے قیمتی گھوڑا غائب ہے۔ اس نے غصے میں فیقو خان کو بلایا۔
“فیقو خان! میرا گھوڑا کہاں ہے؟”
فیقو خان نے بڑے اطمینان سے جواب دیا:
“حضور! آپ کا گھوڑا بالکل محفوظ ہے۔”
سلطان نے حیرت سے پوچھا:
“تو پھر اصطبل میں کیوں نہیں ہے؟”
فیقو خان نے سر کھجاتے ہوئے کہا:
“حضور! کل رات ایک گدھا اصطبل کے باہر کھڑا تھا۔ میں نے سوچا شاید وہ آپ کے گھوڑے سے ملنے آیا ہے۔ میں نے دونوں کو کچھ دیر باتیں کرنے دیں۔ پھر صبح دیکھا تو آپ کا گھوڑا گدھے کے ساتھ کہیں چلا گیا تھا۔”
سلطان نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔
“اے خدا! آخر اس سلطنت میں عقل مند آدمی کہاں سے لاؤں؟”
فیقو خان نے فوراً جواب دیا:
“حضور! اگر آپ کو عقل مند آدمی مل جائے تو مجھے بھی ضرور بتائیے گا۔ میں بھی اس سے ملنا چاہتا ہوں!”
اور یوں پورے دربار میں ایک بار پھر ایسا قہقہہ بلند ہوا کہ محل کے باہر بیٹھے کبوتر بھی پھڑپھڑا کر اڑ گئے۔
سبق: صرف رعب دار شکل، اونچی آواز اور بڑے بڑے دعوے انسان کو عقل مند نہیں بنا دیتے۔ اصل عقل مندی یہ ہے کہ انسان اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور کام کرنے سے پہلے سوچے۔

