سچے موتی اور سخی کسان

سچے موتی اور سخی کسان



کسی پرانے زمانے میں ایک سرسبز و شاداب وادی میں “احمد” نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ احمد مٹی سے جڑا ہوا ایک محنتی اور صابر انسان تھا، جس کے پاس دنیا کی دولت تو زیادہ نہیں تھی، لیکن اس کا دل بہت بڑا اور سخی تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا، اپنے کھیتوں میں ہل چلاتا اور جو کچھ بھی اللہ اسے دیتا، اس میں سے غریبوں اور مسافروں کا حصہ ضرور نکالتا تھا۔
ایک شام جب سورج ڈوبنے کو تھا اور کھیتوں پر اندھیرا پھیل رہا تھا، احمد اپنے ہل کو سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ایک بوڑھا مسافر زمین پر نڈھال پڑا دکھائی دیا۔ مسافر کے چہرے پر تھکن کے گہرے آثار تھے اور وہ بھوک پیاس سے بے حال لگ رہا تھا۔ احمد سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ وہ فوراً دوڑ کر گیا، اپنے لانے والے کھانے میں سے روٹی اور پانی مسافر کو پیش کیا۔ مسافر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد بولا:
> “بیٹا! تو نے ایک اجنبی پر جو احسان کیا ہے، وہ رائیگاں نہیں جائے گا۔ میں اس وادی کا عام مسافر نہیں ہوں۔ میں حقیقت میں اس پہاڑ کے پیچھے بستی کا ایک پرانا باشندہ ہوں، اور میرے پاس ایک ایسا راز ہے جو تمہاری پوری زندگی بدل سکتا ہے۔”
>
احمد مسکرایا اور نرمی سے بولا: “بابا جی! میں نے نیکی بدلے کی امید پر نہیں کی، بلکہ انسانیت کے ناطے کی ہے۔ مجھے کسی دولت کی ہوس نہیں، بس سکونِ قلب چاہیے۔”
مسافر مسکرایا، اپنی جھولی سے ایک چمکتا ہوا نایاب پتھر نکالا جو ہیرے کی طرح جگمگا رہا تھا، اور احمد کے ہاتھ پر رکھ کر بولا:
“یہ کوئی عام پتھر نہیں ہے۔ اسے ‘عقل کا موتی’ کہتے ہیں۔ جب بھی تم کسی سخت مصیبت یا فیصلے میں پھنسو گے، اس پتھر کو ہاتھ میں لے کر سچے دل سے سوچنا، تمہیں غیب سے صحیح راستہ دکھائی دے گا اور مشکلات آسان ہو جائیں گی۔”
آزمائش کی گھڑی
کچھ ہی عرصے بعد، اس وادی میں شدید قحط پڑ گیا۔ بارش کا نام و نشان نہ تھا، کھیت سوکھ گئے، کنویں خشک ہو گئے اور لوگ دانے دانے کو ترسنے لگے۔ احمد کے پاس جو تھوڑا بہت غلہ تھا، اس نے وہ بھی محتاجوں میں بانٹ دیا۔ یہاں تک کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ احمد کے اپنے گھر میں بھی فاقوں کی نوبت آ گئی۔
بستی کے ایک مالدار اور چالاک شخص “نعمان” نے جب احمد کی سخاوت کے چرچے سنے تو وہ جل بھن گیا۔ نعمان نے سوچا کہ احمد کے پاس ضرور کوئی خزانہ ہے، ورنہ قحط کے اس دور میں بھی وہ کیسے گزارا کر رہا ہے۔ وہ فریب کرتے ہوئے احمد کے پاس آیا اور بولا:
“احمد بھائی! سنا ہے تمہارے پاس ایک ایسا نایاب موتی ہے جو تمہاری تمام مشکلات حل کر دیتا ہے۔ مجھے کچھ دنوں کے لیے وہ موتی بطورِ امانت دے دو، میں تمہیں اس کے بدلے اپنی آدھی زمین اور ڈھیر سارا سونا دوں گا۔”
احمد نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا اور کہا: “بھائی نعمان! وہ موتی کوئی دنیاوی دولت نہیں ہے، اور نہ ہی میں اسے بیچ سکتا ہوں۔ وہ تو ایک جذبے اور ایمان کی علامت ہے۔”
نعمان دل ہی دل میں جل گیا۔ اس نے غصے میں آ کر ایک گھٹیا چال چلی۔ اس نے رات کے وقت اپنے ملازم کو بھیج کر احمد کے گھر سے کچھ سامان چوری کروایا اور الٹا الزام احمد پر لگا دیا کہ اس نے گاؤں کے سردار کے ہاں چوری کی ہے۔
گاؤں کی پنچایت بیٹھی۔ الزام سنگین تھا، اور گواہ بھی نعمان کی طرف سے جھوٹے پیش کیے گئے تھے۔ بستی کے لوگ حیران تھے کہ احمد جیسا نیک انسان ایسا کام کیسے کر سکتا ہے۔ احمد خاموش بیٹھا رہا۔ اس نے وہ بوڑھے مسافر والا موتی نکالا، اسے ہاتھ میں تھاما، اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
سچائی کی فتح
موتی ہاتھ میں لیتے ہی احمد کے ذہن میں ایک روشن خیال آیا۔ اسے سمجھ آ گیا کہ سچائی کو ثابت کرنے کے لیے شور مچانے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ صبر اور منطق کافی ہوتی ہے۔
احمد نے پنچایت سے کہا: “سرکار! مجھ پر الزام لگانے والے سے پوچھیں کہ اس نے جو چوری شدہ مال دیکھا ہے، اس کی کیا علامتیں ہیں؟”
نعمان نے فخر سے کہا: “میں نے وہ صندوق دیکھا ہے جس میں چاندی کے سکے اور قیمتی زیورات تھے! وہ صندوق بھاری اور لوہے کا بنا ہوا ہے۔”
احمد نے پرسکون لہجے میں کہا: “سرکار! میرے گھر میں تو کھانے کے لیے اناج کا ایک دانہ بھی نہیں، لوہے کا صندوق کہاں سے آئے گا؟ اور دوسری بات، اگر نعمان اتنا ہی سچا ہے تو وہ میرے گھر کے اس کونے کی کھدائی کرے جہاں وہ چوری کا مال چھپانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اگر وہاں کچھ نکلا تو میری گردن حاضر ہے، ورنہ…!”
پنچایت نے فوراً حکم دیا۔ جب اس جگہ کی کھدائی کی گئی تو وہاں سے کوئی چوری شدہ مال نہیں نکلا، بلکہ الٹا نعمان کے اپنے ہی گھر کے خاص ملازم نے گھبرا کر سچی گواہی دے دی کہ یہ سارا جھوٹا مقدمہ نعمان نے احمد کو نیچا دکھانے اور اس کی زمین ہتھیانے کے لیے رچایا تھا۔
لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ نعمان شرم سے پانی پانی ہو گیا اور پنچایت نے اسے جھوٹ بولنے پر سخت سزا سنائی، جبکہ احمد کی عزت و وقار میں مزید اضافہ ہو گیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner