یہ برصغیر کے اُن دنوں کی بات ہے جب ریاستیں اپنے اپنے رنگ میں آباد تھیں، کہیں مندروں کی گھنٹیاں صبح کے سناٹے کو توڑتی تھیں، کہیں مسجدوں کی اذانیں فضا میں پھیلتی تھیں، کہیں دور تک پھیلے کھیت زمین کو سبز چادر اوڑھائے رکھتے تھے اور کہیں ایسے گھنے جنگل تھے کہ دن کے وقت بھی سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے کے لیے پتوں سے اجازت مانگتی محسوس ہوتی تھی۔ انہی دنوں مالوا کے ایک سرسبز علاقے، دھار کے قریب، ایک برہمن پنڈت رہتا تھا جس کا نام پنڈت دیو دت تھا۔ وہ صرف اپنے علاقے کا پنڈت نہیں تھا؛ دور دور کی ریاستوں میں لوگ اس سے مشورہ لینے آتے، راجے اس کے قدموں میں بیٹھتے، بڑے خاندان اس کی رائے کو اہمیت دیتے اور عام لوگ اسے علم و بصیرت کا آدمی سمجھتے تھے۔ مگر اس کی سب سے بڑی فکر اس کی شہرت یا دولت نہیں بلکہ اس کا اکلوتا بیٹا نند کشور تھا۔ نند کشور جوان تھا، ذہین بھی تھا، مگر اپنے باپ کی بات سننے کے معاملے میں عجیب طرح کا خوددار تھا۔ اسے اپنا آبائی شہر، اپنا گھر، اپنے باغ، اپنے لوگ اور اپنے اردگرد کا ماحول اس قدر عزیز تھا کہ وہ کسی دوسری جگہ کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ایک دن پنڈت دیو دت نے بیٹے کو پاس بٹھایا اور بڑی نرمی سے کہا، “بیٹا، میں چاہتا ہوں کہ تم یہ علاقہ چھوڑ کر کسی ایسی جگہ جاؤ جہاں تمہیں اپنے نام، اپنے خاندان اور اپنے باپ کی شہرت کے سہارے کی ضرورت نہ پڑے۔” نند کشور نے حیرت سے پوچھا، “آخر کیوں؟ کیا یہاں میرے لیے کوئی کمی ہے؟” پنڈت مسکرایا، “کمی تم میں نہیں، ماحول میں ہے۔ جس جگہ ہمارے جیسے لوگوں کی اکثریت ہو، وہاں ایک اور برہمن کا وجود کسی کو چونکاتا نہیں۔ تم یہاں رہو گے تو تم بھیڑ کا ایک چہرہ بن جاؤ گے؛ میں چاہتا ہوں تم ایسی جگہ جاؤ جہاں تمہارا کردار تمہاری پہچان بنے، تمہارا نام تمہارے عمل سے نکلے، نہ کہ میرے نام سے۔” بیٹا ہنس پڑا، “لوگ مجھے جانتے ہیں، آپ اتنے مشہور ہیں، مجھے یہاں کس چیز کی فکر؟” باپ نے جواب دیا، “بس یہی تو میری فکر ہے۔ جس درخت کے نیچے ہمیشہ سایہ ملتا رہے، اسے دھوپ میں کھڑے ہونے کی طاقت کا اندازہ نہیں ہوتا۔” اس نے کئی جگہوں کے نام لیے؛ گجرات کے ساحلی شہر سورت کا ذکر کیا، دکن کی کچھ ریاستوں کا بتایا، بنگال کے اُن علاقوں کا ذکر کیا جہاں مختلف قومیں اور پیشے رکھنے والے لوگ آباد تھے، مگر نند کشور ہر مرتبہ ایک ہی جواب دیتا، “میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ میری جڑیں یہی ہیں۔” پنڈت نے بحث نہ کی۔ چند دن گزرے تو ایک صبح وہ باغ میں بیٹھا درختوں کو دیکھ رہا تھا۔ آم، نیم، پیپل، برگد اور جامن کے درخت قطار در قطار کھڑے تھے۔ اس نے بیٹے کو بلایا اور کہا، “اگر آدمی کو یہ معلوم کرنا ہو کہ اس کی اصل قدر کہاں ہے تو اسے کبھی کبھی اپنی چھاؤں سے باہر نکلنا چاہیے۔” نند کشور نے پھر انکار کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور ایک دن پنڈت دیو دت واقعی موت کے قریب پہنچ گیا۔ چارپائی پر لیٹے ہوئے اس نے بیٹے کو پاس بلایا۔ اس بار اس کی آواز میں نہ نصیحت تھی نہ بحث، صرف ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔ “بیٹا، اب شاید میرے پاس تمہیں سمجھانے کا وقت نہیں۔ ایک کام کرو۔” “حکم کریں، والد صاحب۔” “تم بنگال کے اُس خطے میں جاؤ جسے لوگ سندربن کے قریب کا جنگلاتی علاقہ کہتے ہیں۔ وہاں درختوں کی اتنی کثرت ہے کہ انسان راستہ بھول جائے تو درخت اسے پہچان لیتے ہیں۔ وہاں سے میرے لیے ایک درخت کی لکڑی لے آؤ۔ جب میں دنیا سے چلا جاؤں تو اسی کی لکڑی سے میری آخری رسومات ادا کرنا۔” نند کشور نے باپ کی آخری خواہش سمجھ کر سفر اختیار کیا۔ کئی دن کی مسافت کے بعد وہ ایک ایسے علاقے میں پہنچا جہاں ہر طرف سبزہ تھا، دلدلی زمین تھی، پانی کی دھاریاں تھیں اور درختوں کے جھنڈ ایک دوسرے سے یوں جڑے تھے جیسے زمین نے آسمان تک اپنی سبز انگلیاں پھیلا دی ہوں۔ اس نے وہاں ایک مقامی شخص سے کہا، “میرے والد موت کے قریب ہیں، ان کی خواہش ہے کہ میں یہاں سے ایک درخت کی لکڑی لے جاؤں۔” مقامی آدمی نے اس کے باپ کا نام پوچھا۔ جب نند کشور نے نام بتایا تو اس شخص کا چہرہ بدل گیا۔ “پنڈت دیو دت؟ وہی جن کا ذکر دھار سے لے کر بنگال تک ہوتا ہے؟” نند کشور نے سر ہلایا۔ وہ شخص فوراً اپنے ساتھیوں کو بلانے لگا۔ کسی نے کہا، “ایک درخت کیوں؟” دوسرے نے کہا، “ایسے بزرگ کے لیے ایک درخت کافی نہیں۔” دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے کئی درخت کاٹ کر لکڑی جمع کر دی۔ نند کشور حیران کھڑا دیکھتا رہا۔ جس شخص نے ایک درخت مانگا تھا، اسے درختوں کا ڈھیر مل گیا تھا۔ وہ لکڑیاں لے کر گھر پہنچا تو پنڈت دیو دت نے انہیں دیکھا اور دیر تک خاموش رہا۔ پھر اس نے بیٹے کی طرف دیکھا، “تمہیں کتنے درخت ملے؟” نند کشور نے بتایا، “والد صاحب، میں نے تو ایک مانگا تھا، مگر آپ کا نام سنتے ہی انہوں نے کئی درخت کاٹ کر دے دیے۔” پنڈت نے آنکھیں بند کر کے ایک لمبی سانس لی۔ پھر کہا، “اچھا، اب ایک اور کام کرو۔” بیٹا چونکا، “اب کیا؟” پنڈت نے کہا، “اب راجستھان کے اُس صحرائی علاقے کی طرف جاؤ جہاں جیسلمیر کے گرد ریت کا سمندر پھیلا ہے۔ وہاں سے بھی میرے لیے ایک درخت لے آؤ۔” نند کشور نے سوچا کہ شاید وہاں بھی باپ کا نام سن کر لوگ خوشی سے درخت دے دیں گے۔ وہ سفر کرتے کرتے تھر کے اُس حصے میں پہنچا جہاں میلوں تک ریت تھی، ہوا کے ساتھ اڑتے ذرے تھے اور کہیں کہیں کیکر، کھجور یا روہی کے چند درخت اس وسیع زرد خاموشی میں زندگی کی گواہی دیتے تھے۔ اس نے وہاں کے مقامی نگران سے کہا، “میرے والد پنڈت دیو دت ہیں۔ وہ موت کے قریب ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ میں یہاں سے ایک درخت کی لکڑی لے جاؤں۔” نگران نے فوراً احترام سے سر جھکایا، “پنڈت دیو دت! میں ان کا نام جانتا ہوں۔ ان کی شہرت یہاں تک پہنچی ہے۔” نند کشور کے دل میں خیال آیا کہ اب پھر درختوں کا ڈھیر ملے گا، مگر نگران نے آہستہ سے کہا، “لیکن ایک بات ہے۔” “کیا؟” “یہاں کا قانون ہے کہ کسی زندہ درخت کو کاٹنا یا جڑ سے نکالنا ممنوع ہے۔” نند کشور نے حیرت سے پوچھا، “لیکن میں صرف ایک درخت مانگ رہا ہوں۔” نگران نے جواب دیا، “یہاں ایک درخت صرف ایک درخت نہیں۔ یہ پانی، سایہ، جانور، مسافر اور آنے والی نسل کی زندگی ہے۔ ہمارے ہاں درخت کاٹنا بعض اوقات ایک انسان کی زندگی چھیننے کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ ریاست نے حکم دیا ہے کہ کسی خاص شخص کے لیے بھی یہ قانون نہیں توڑا جا سکتا۔” نند کشور نے اپنے والد کا نام دوبارہ لیا، مگر اس بار نام نے دروازہ نہیں کھولا۔ نگران نے ادب سے کہا، “آپ کے والد ہمارے لیے قابل احترام ہیں، مگر اس سرزمین کا قانون سب کے لیے ایک ہے۔ میں ان کا مرید ہو سکتا ہوں، ان کی عزت کر سکتا ہوں، مگر اپنی ذمہ داری نہیں توڑ سکتا۔ اگر کوئی سوکھی لکڑی زمین پر پڑی ہو تو لے جائیے، مگر زندہ درخت نہیں کاٹ سکتا۔” نند کشور خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔ پنڈت دیو دت نے اسے دیکھا تو پوچھا، “لکڑی مل گئی؟” بیٹے نے سر جھکا کر کہا، “نہیں، والد صاحب۔” “کیوں؟” “وہاں درخت بہت کم ہیں۔ ریاست نے قانون بنایا ہے کہ کوئی زندہ درخت نہیں کاٹ سکتا۔ میں نے آپ کا نام بھی بتایا، مگر انہوں نے کہا کہ آپ قابل احترام ہیں، لیکن قانون سب کے لیے برابر ہے۔” پنڈت دیو دت کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ “بیٹا، اب تم نے وہ بات دیکھی جو میں برسوں سے تمہیں سمجھانا چاہتا تھا۔” نند کشور خاموش رہا۔ پنڈت نے کہا، “جہاں ہمارے جیسے لوگ بہت زیادہ ہوں، وہاں تم ایک نام ہو، مگر ایک عام نام۔ تمہارے باپ کا نام سن کر لوگوں نے تمہیں ایک درخت نہیں بلکہ کئی درخت دے دیے، کیونکہ وہاں درخت اتنے تھے کہ ایک درخت کی کمی کسی کو محسوس نہیں ہوتی تھی۔ لیکن جہاں درخت کم تھے، وہاں ایک درخت کی قیمت بہت زیادہ تھی۔ وہاں میرا نام بھی ایک درخت سے زیادہ قیمتی نہ تھا، کیونکہ قانون نے کسی ایک شخص کی خواہش کو پوری بستی کی ضرورت پر ترجیح نہیں دی۔” نند کشور پہلی بار پوری توجہ سے باپ کی طرف دیکھنے لگا۔ پنڈت نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا، “بیٹا، میں تمہیں اس لیے نہیں بھیجنا چاہتا تھا کہ تم اپنے لوگوں سے دور ہو جاؤ؛ میں تمہیں اس لیے بھیجنا چاہتا تھا کہ تم اپنے وجود کی قیمت پہچانو۔ جہاں تم اکثریت میں رہو گے، وہاں تمہیں ہر قدم پر اپنے جیسے سینکڑوں لوگ ملیں گے۔ تم اچھے بھی ہو سکتے ہو، ذہین بھی، محنتی بھی، مگر تمہاری انفرادیت بھیڑ میں چھپ سکتی ہے۔ اور جہاں تم کم ہو گے، وہاں تمہیں اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑے گا۔ وہاں تمہارے پاس میرے نام کا سہارا کم ہوگا، مگر تمہارے عمل کی گواہی زیادہ ہوگی۔ یاد رکھو، بیٹا! اکثریت ہمیشہ طاقت نہیں ہوتی اور اقلیت ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کو پہچان بنانے کے لیے بھیڑ سے نکلنا پڑتا ہے۔” چند ہی دن بعد پنڈت دیو دت دنیا سے رخصت ہو گیا۔ نند کشور نے اپنے باپ کی آخری رسومات ادا کیں، مگر اس کے دل میں اب ایک اور سفر شروع ہو چکا تھا۔ اس نے آبائی باغ، آرام دہ زندگی اور باپ کی شہرت کی چھاؤں چھوڑ دی۔ وہ ایسی ریاست میں جا بسا جہاں اس کے خاندان کے لوگ بہت کم تھے۔ ابتدا میں اسے تنہائی محسوس ہوئی۔ نہ لوگ اسے اس کے باپ کے نام سے جانتے تھے، نہ کوئی اس کے لیے دروازہ کھولتا تھا، نہ کسی راجے کو اس کے خاندان کی شہرت سے غرض تھی۔ اس نے کام شروع کیا، لوگوں کے مسائل سمجھے، علم بانٹا، بیماروں کی مدد کی، بچوں کو پڑھایا اور آہستہ آہستہ اس کا اپنا نام بننے لگا۔ برسوں بعد جب لوگ اس کا تعارف پوچھتے تو وہ اپنے والد کا نام پہلے نہیں لیتا تھا۔ لوگ خود کہتے، “یہ نند کشور ہیں، جنہوں نے اس علاقے میں تعلیم کا مرکز قائم کیا، مسافروں کے لیے کنواں کھدوایا اور قحط کے دنوں میں لوگوں کے لیے اناج جمع کیا۔” ایک دن وہ اپنے والد کی بات یاد کر کے دیر تک مسکراتا رہا: “اگر میں وہیں رہ جاتا تو شاید لوگ مجھے پنڈت دیو دت کا بیٹا کہتے؛ یہاں آ کر میں نند کشور بن گیا۔” اور شاید اس کے باپ کی آخری خواہش کا اصل مطلب بھی یہی تھا کہ بیٹا اپنے نام کا وارث بننے کے بجائے اپنے نام کا خالق بنے۔
حاصلِ سبق:
انسان کو ہمیشہ وہاں نہیں رہنا چاہیے جہاں اسے آسانی سے پہچان مل جائے؛ کبھی کبھی ایسی جگہ جانا پڑتا ہے جہاں کوئی اسے نہیں جانتا، تاکہ وہ اپنے کردار، محنت اور صلاحیت سے اپنی شناخت خود بنائے۔ اکثریت میں شامل ہونا آسان ہے، مگر اپنی الگ پہچان بنانا اُس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان بھیڑ سے نکل کر اپنے وجود کا ثبوت خود دیتا ہے۔
