ایک زمانے کی بات ہے، ایک سرسبز پہاڑی علاقے کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ کوئی کھیتی باڑی کرتا، کوئی مویشی پالتا اور کوئی جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا گزر بسر کرتا تھا۔
اسی گاؤں میں حامد نام کا ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کے گھر میں بوڑھی ماں، بیوی اور دو چھوٹے بچے تھے۔ حامد دن بھر جنگل میں محنت کرتا اور شام کو لکڑیاں بیچ کر جو کچھ ملتا، اسی سے گھر کا چولہا جلتا۔
حامد غریب ضرور تھا، مگر ایماندار بہت تھا۔ گاؤں کے لوگ اکثر کہتے:
“حامد کے پاس دولت نہ ہو، لیکن اس کے دل میں خیانت نہیں۔”
ایک دن صبح حامد حسبِ معمول اپنی کلہاڑی لے کر جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ اس روز موسم کچھ عجیب تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور جنگل میں غیر معمولی خاموشی تھی۔
حامد نے کافی دور جا کر ایک سوکھا ہوا درخت دیکھا۔ وہ درخت کاٹنے لگا تو اچانک اس کی کلہاڑی کسی سخت چیز سے ٹکرائی۔
“ٹھک!”
حامد رک گیا۔
اس نے زمین سے پتے ہٹائے تو وہاں لکڑی کا ایک پرانا صندوق دبا ہوا تھا۔ صندوق بہت پرانا تھا، مگر اس پر لوہے کا مضبوط تالا لگا ہوا تھا۔
حامد نے حیرت سے ادھر اُدھر دیکھا۔
“یہ صندوق یہاں کس نے دفن کیا ہوگا؟”
اس نے کافی کوشش کی، مگر تالا نہ کھلا۔ آخرکار اس نے صندوق کو باہر نکالا اور اپنے گھر لے آیا۔
گھر پہنچ کر اس نے اپنی بیوی کو سارا واقعہ بتایا۔
بیوی نے کہا:
“اگر یہ کسی کی امانت ہے تو ہمیں اسے اپنے پاس نہیں رکھنا چاہیے۔”
حامد نے جواب دیا:
“تم ٹھیک کہتی ہو۔ کل میں گاؤں کے بزرگوں کو یہ صندوق دکھاؤں گا۔ اگر مالک کا پتا نہ چلا تو پھر وہی فیصلہ کریں گے جو مناسب ہوگا۔”
رات گزر گئی۔
اگلی صبح حامد صندوق اٹھا کر گاؤں کے چوہدری کے پاس پہنچا۔ وہاں کئی بزرگ بیٹھے تھے۔ حامد نے پوری بات بتائی اور صندوق ان کے سامنے رکھ دیا۔
چوہدری نے صندوق کو غور سے دیکھا۔
“یہ بہت پرانا معلوم ہوتا ہے۔ اسے کھولا جائے۔ شاید اندر کوئی نشانی ہو۔”
تالا توڑا گیا۔
جیسے ہی صندوق کھلا، سب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
صندوق کے اندر سونے کے سکے، چاندی کے زیورات اور قیمتی پتھر موجود تھے۔
ایک بزرگ نے بے اختیار کہا:
“اتنی دولت تو پورے گاؤں کی قسمت بدل سکتی ہے!”
حامد بھی چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا۔ اس کے ذہن میں اپنے بچوں کا خیال آیا۔ اسے یاد آیا کہ گھر کی چھت ٹپکتی ہے، ماں کی دوا ختم ہوچکی ہے اور کئی دنوں سے گھر میں گوشت نہیں پکا۔
اس کے دل نے کہا:
“یہ دولت لے لو، تمہاری ساری پریشانیاں ختم ہوجائیں گی۔”
لیکن فوراً اس کے ضمیر نے جواب دیا:
“یہ تمہاری دولت نہیں۔”
حامد نے صندوق بند کیا اور بولا:
“چوہدری صاحب! ہمیں اس کے مالک کو تلاش کرنا چاہیے۔”
چوہدری نے کہا:
“لیکن اگر مالک نہ ملا تو؟”
حامد نے جواب دیا:
“پھر بھی یہ فیصلہ میں اکیلا نہیں کروں گا۔”
کئی دن تک گاؤں میں اس صندوق کے مالک کو تلاش کیا گیا، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔
ایک ہفتے بعد ایک بوڑھا مسافر گاؤں میں داخل ہوا۔ اس کے کپڑے گرد سے اٹے ہوئے تھے اور چہرے پر تھکن نمایاں تھی۔ وہ سیدھا چوہدری کے پاس گیا اور بولا:
“کیا اس علاقے میں کبھی میرے باپ کا نام سنا گیا ہے؟ اس کا نام عبدالرحمن تھا۔ بہت سال پہلے وہ اس جنگل سے گزرا تھا اور اس کے پاس ایک صندوق تھا۔”
چوہدری چونک اٹھا۔
اس نے فوراً حامد کو بلایا۔
بوڑھے مسافر نے صندوق دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
“یہی صندوق ہے!”
اس نے صندوق پر کندہ ایک چھوٹا سا نشان دکھایا جو اس کے والد کی مہر تھی۔
بوڑھے نے بتایا:
“میرے والد ایک تاجر تھے۔ ڈاکوؤں کے خوف سے انہوں نے اپنی دولت جنگل میں دفن کردی تھی۔ مگر واپسی پر وہ شدید بیمار ہوگئے اور کچھ ہی عرصے بعد وفات پا گئے۔ ہم برسوں سے یہ صندوق تلاش کر رہے تھے۔”
حامد نے صندوق اس کے حوالے کردیا۔
بوڑھے نے سونے کے چند سکے نکال کر حامد کی طرف بڑھائے اور کہا:
“یہ تمہارا حق ہے۔ اگر تم چاہتے تو پوری دولت اپنے پاس رکھ سکتے تھے، لیکن تم نے ایسا نہیں کیا۔”
حامد نے صرف ایک سکہ لینے سے بھی انکار کردیا۔
“میں نے صرف وہی کیا جو ایک مسلمان اور ایک انسان کو کرنا چاہیے۔ امانت، امانت ہی ہوتی ہے۔”
بوڑھا بہت متاثر ہوا۔ اس نے کہا:
“اگر تم انعام نہیں لیتے تو میری ایک درخواست ضرور قبول کرو۔”
حامد نے پوچھا:
“کیا؟”
بوڑھے نے کہا:
“میں ایک دور شہر میں تجارت کرتا ہوں۔ تم میرے ساتھ چلو۔ میں تمہیں لکڑی کے کاروبار میں شریک کرلوں گا۔ تم اپنی محنت سے کماؤ گے اور میں تمہیں کاروبار سکھاؤں گا۔”
حامد نے کچھ سوچا اور اس کی پیشکش قبول کرلی۔
چند سال بعد حامد ایک کامیاب تاجر بن گیا۔ اس نے اپنے گاؤں میں ایک کنواں بنوایا، غریبوں کے لیے اناج کا انتظام کیا اور اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوائی۔
گاؤں کے لوگ جب بھی اس کی کامیابی دیکھتے تو کہتے:
“حامد کو سونا جنگل میں ملا تھا، مگر اصل دولت اسے اس کی ایمانداری نے دی۔”
حامد مسکرا کر جواب دیتا:
“حرام یا خیانت کی دولت انسان کو کچھ وقت کے لیے خوش کر سکتی ہے، لیکن حلال کمائی اور امانت داری انسان کو عزت بھی دیتی ہے اور سکون بھی۔”
سبق
لالچ وقتی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن امانت داری انسان کو عزت، اعتماد اور دیرپا کامیابی عطا کرتی ہے۔ جو شخص دوسروں کے حق کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کامیابی کے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔

