کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں بشیر اور نذیر نامی دو گہرے دوست ہوا کرتے تھے۔ تھے تو وہ دوست، لیکن دونوں میں اتنی گہری دوستی تھی کہ کسی کو اندازہ ہی نہ ہو پاتا کہ دوست ہیں یا سگے بھائی۔ بلکہ کوئی اجنبی جب پہلی بار ان سے ملتا تو اسے یہی گماں ہوتا کہ دونوں بھائی ہیں اور ان کے درمیان بہت ہی گہرا تعلق ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ دونوں کی شادیاں بھی اکٹھی ہوئیں۔ گاؤں کی روایت کے مطابق دونوں نے اپنی بیویوں کے لیے سونے کا جو زیور بنوایا وہ بالکل ایک جیسا بنوایا۔ خیر وقت گذرتا رہا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد نذیر نے بشیر کو اپنے گھر دعوت پر بلایا۔ طرح طرح کے لذیذ کھانے بنائے گئے۔ خوب محفل جمی اور برخواست ہوئی۔ دعوت کو ایک ہی روز گذرا تھا کہ نذیر کھیتوں سے کام کاج کر کے گھر لوٹا تو دیکھا صحن کے بیچوں بیچ اس کی بیوی سر پر دوپٹہ باندھے، سینے پر دوہتڑ مارتی بین کر رہی ہے۔
“ہائے، ہم لٹ گئے، ہم برباد ہو گئے، ہمارا کچھ نہ رہا، تمہارا دوست ہی تمہارا دشمن نکلا”
نذیر نے گھبرا کر پوچھا کہ بھلی لوگ کچھ بتا تو سہی، ہوا کیا آخر؟؟؟؟
بیوی کہنے لگی۔۔۔”وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ تمہارا دوست اور اس کی گھر والی کل آئے تھے، تو جاتے ہوئے ہمارے سونے کے زیور چرا کر لے گئے، ہائے ہمارا تو وہی سب کچھ تھا”
نذیر کو بھلا کہاں یقین آتا۔ بیوی کو سمجھا بجھا کر چپ کرایا۔ اور گھر میں ہی زیور ڈھونڈنے کی تلقین کی۔ لیکن زیور نہ ملنا تھا نہ ملا۔
دن پر دن گذرتے رہے، نزیر کی بیوی اصرار کرتی رہی کہ ایک بار اپنے دوست سے پوچھ کر تو دیکھو، شاید غلطی تسلیم کر لیں اور زیور واپس مل جائیں۔ نذیر پہلے پہل تو ٹال مٹول کرتا رہا لیکن بالآخر ہار مان کر اپنے دوست بشیر کے پاس جا پہنچا۔۔۔۔۔ ساری بات سنائی، اور درخواست کی کہ اگر اس کی گھر والی نے غلطی کر لی ہے تو کوئی بات نہیں زیور واپس کر دے یہی کافی ہے۔ ہو سکتا ہے غلط فہمی میں آ گئے ہوں۔
بشیر کچھ دیر سوچتا رہا پھر اس نے نذیر سے ایک دن کا وقت مانگا کہ اپنی سے پوچھ کر بتا دے گا۔ اگلے دن بشیر اپنے نذیر کے گھر پہنچا۔ اور کہا۔۔۔۔
“نذیر مجھے معاف کر دینا میرے بھائی میری بیوی نے واقعی غلطی میں آپ کے زیور اٹھا لیے تھے۔ اور شرمندگی سے بتا نہیں پا رہی تھی۔ میں بے حد شرمندہ ہوں۔ اپنے زیور واپس لے لو اور مجھے اور میری بیوی کو اللہ کی خاطر معاف کر دو۔”
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ نذیر نے خاموشی سے پوٹلی لی اور گھر والی کو پکڑا دی کہ زیور بچا سو لاکھوں پائے۔ ادھر نذیر کی بیوی پھولے نہ سماتی تھی کہ دیکھا میں نہ کہتی تھی کہ تمہارا دوست چور نکلا۔
وقت گذرتا رہا۔ کئی ہفتے بعد نذیر کی بیوی گھر کی جھاڑ پونجھ کر رہی تھی کہ پرانے بستروں کو جھاڑتے وقت کوئی چیز چھن سے نیچے گذری۔ اٹھا کر دیکھا تو زیورات کی پوٹلی تھی۔ یہ ان کے اپنے زیور تھے۔ حسن اتفاق نذیر بھی وہیں کھڑا یہ ماجرا دیکھ رہا تھا۔ وہ اسی وقت اپنے دوست بشیر کی طرف بھاگا۔ ملتے ہی زاروقطار روتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“تم نے زیورات نہیں چرائے تھے، اس کے باوجود میرے پوچھنے پر صفائی دینے کی بجائے اپنے پاس موجود زیور کیوں ہمیں دیے۔ کاش کہ زیور ایک جیسے نہ ہوتے تو میں پہچان پاتا”
بشیر نے اس کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“بھائی، تم نے جب زیورات کے بارے میں مجھ سے آ کر پوچھا تو میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ہمارے رشتے میں اعتماد کا فقدان آ گیا ہے۔ اگر میں اپنی صفائی دے بھی دیتا تب بھی تمہارے دل میں یہ بات رہتی، کہ میں نے وہ زیور چرائے ہیں۔ اس لیے اپنی بیوی سے مشورہ کر کے میں نے اپنے زیورات تمہارے حوالے کر دیے۔ کہ زیور تو پھر بھی بن جائیں گے۔ لیکن یہ تعلق ٹوٹ گیا تو کبھی نہ بن پائے گا۔ ہمارا تعلق ان زیورات سے کہیں بڑھ کر ہے۔ پریشان نہ ہو۔ مجھے خوشی ہے کہ تمہارے دل میں اب میرے لیے کوئی میل نہیں۔ ہم کل بھی بھائی تھے، ہم آج بھی بھائی ہیں۔”
یہ کہتے ہی اس کی آواز رندھ گئی۔ اور دونوں آپس میں بغگیر ہو کر نہ جانے کتنی دیر روتے رہے۔
یہ سچ ہے کہ تعلق مضبوط ہو تو اسے دنیا کی کوئی بھی چیز توڑ نہیں سکتی۔ لیکن اس تعلق میں اعتماد کی ہلکی سی دراڑ بھی آ جائے تو یہ ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ زندگی میں اگر ایسی کوئی نوبت آ جائے تو یہ مت دیکھو کہ نقصان کتنا ہو رہا ہے یہ دیکھو کہ تعلق کتنا گہرا تھا اور کیسے بچ سکتا ہے۔ خوش رہیے، خوشیاں بانٹیے، اپنا اور اپنوں کا خیال رکھیے۔


