جامن والا بابا اور تنہائی کا خاتمہ

جامن والا بابا اور تنہائی کا خاتمہ



کسی محلے میں ایک بڑا سا مکان تھا۔ اتنا بڑا کہ اس میں کئی خاندان آرام سے رہ سکتے تھے۔ اس مکان میں بڑے میاں اکیلے رہتے تھے۔ بڑے میاں کا گھر بھائیوں بھائیوں کا کرتا تھا، کوئی نہیں تھا جس سے باتیں کرکے بڑے میاں اپنا دل بہلاتے۔ بڑے میاں کی بیوی اللہ میاں کو پیاری ہو چکی تھیں، کوئی اولاد بھی نہیں تھی۔ دو بھائی تھے، دونوں خوب تعلیم حاصل کرکے پرائے دیسوں میں بس گئے، وہیں شادیاں کر لیں اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔
محلے میں بڑے میاں کے قرابت دار تھے مگر ان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ بڑے میاں کے گھر آکر ان کی خیریت معلوم کرتے اور ان سے باتیں کرتے۔ نوجوان اپنے کام دھندوں میں مصروف رہتے اور بزرگ اپنے ناتی پوتے میں مگن رہتے۔ کبھی کبھار کوئی رشتہ دار گھڑی دو گھڑی کے لیے آ بھی جاتا تو وہ بڑے میاں کی تنہائی اور محرومی کی باتیں کرتا۔ بڑے میاں زیادہ اداس ہو جاتے اور اللہ میاں سے شکایت کرتے ہوئے کہتے، “اے اللہ! تو دو جہاں کا مالک ہے، تو دو جہاں کا مالک ہے، رحیم و کریم ہے۔ انسان کو سب کچھ دے سکتا ہے، پھر یہ کیا کہ تو نے کسی کو تو بہت سے بچوں سے نواز دیا اور کسی کو ایک اولاد بھی نہیں دی۔ زیادہ نہیں تو کم از کم ایک بیٹا یا ایک بیٹی مجھے دے دیتے، اس کی شادی کرتا، ناتی پوتے ہوتے، کھیلتے کودتے، تماشے کرتے، گھر میں کتنی رونق رہتی، میں ان سے خوب باتیں کرتا، رات میں انہیں کہانیاں سناتا۔” اللہ میاں سے خوب شکوے شکایتیں کرنے کے بعد بڑے میاں اپنے دل کو تسلی دیتے ہوئے آخر میں کہتے، “ہو سکتا ہے اس میں بھی کوئی مصلحت ہو، تو جو کرتا ہے بہتری کرتا ہے۔”
بڑے میاں کا حلیہ درویشوں جیسا تھا، اونچا قد، چہرہ پرنور، گھنی اور لمبی سیاہ داڑھی، سر پر لمبے بے ترتیب بال، اور اتنی بڑی بڑی آنکھیں کہ جیسے حلقوں سے نکلنے ہی والی ہوں۔ ان کی شکل و صورت کی وجہ سے محلے کے بچے انہیں جن بابا کہتے تھے اور انہیں دیکھ کر ایسے بھاگتے تھے کہ جیسے بڑے میاں ان بچوں کو پکڑ کر جانور یا کیڑا مکوڑا بنا دیں گے۔ بچے بڑے میاں سے دور بھاگتے تو انہیں پھر تنہائی کا احساس ستانے لگتا اور وہ اللہ میاں سے کہتے، “اے اللہ! اگر تو نے مجھے اولاد دی ہوتی تو میرے اس عالیشان اور بڑے مکان میں ویرانی نہ ہوتی۔ میری اولاد کی اولادیں ہوتیں، بچوں سے خوب باتیں کرتا، ان کے تماشے دیکھتا، روزانہ رات کو کہانیاں سناتا۔” اللہ میاں سے شکوہ شکایت کرنے کے بعد بڑے میاں اپنے دل کو تسلی دیتے ہوئے کہتے، “اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی، تو جو بھی کرتا ہے بہتری کرتا ہے۔”
ایک دن کی بات ہے، بڑے میاں دالان میں تسبیح پڑھ رہے تھے۔ اسی وقت ان کی نگاہ ایک پرندے پر پڑی۔ نہایت خوبصورت پرندہ دیوار پر بیٹھا تھا۔ وہ اپنے سر کو جنبش دے کر حلق سے بانسری کی سی دلفریب آوازیں نکال رہا تھا۔ اس کی آواز میں بڑی تاثیر تھی۔ بڑے میاں کا دل اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ انہوں نے اپنے کھیتوں اور باغوں میں طرح طرح کے پرندے دیکھے تھے، مگر ایسا خوش رنگ اور خوش آواز پرندہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پرندہ ذرا دیر تک اپنی دھن میں گاتا رہا پھر اچانک پھر سے اڑ کر بڑے میاں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا، ان کو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی جادو کا کھلونا تھا جو ابھی تھا اور ابھی نہیں تھا۔ وہ ذرا دیر تک گم صم بیٹھے دیوار کی طرف دیکھتے رہے۔ پرندے کو دیکھ کر اور اس کی آواز سن کر بڑے میاں کے دل میں ایک نا معلوم سی خوشی بیدار ہوئی جیسے پرندہ ان کے لیے کوئی خوشی کا پروانہ لے کر آیا تھا۔ انہوں نے وظیفہ پڑھا، تسبیح تکیے کے نیچے رکھی اور کھپالے کر کھیتوں کی جانب چل پڑے۔
برسات کا موسم تھا، ہوا سے اڑ کر آنے والے بیجوں سے سب طرف ننھے ننھے پودے اگ رہے تھے۔ بڑے میاں نے زمین سے کھود کر جامن کا ایک پودا نکالا اور گھر لے آئے۔ پودے کو آنگن میں ایسی جگہ پر لگا دیا جہاں اسے ہوا اور دھوپ مل سکتی تھی۔ بڑے میاں نے پودے کی جڑ کے پاس ایک بڑا سا تالا بنا دیا اور تھالے کی منڈیر کو کھرپے سے برابر کر کے خوب سخت کر دیا تاکہ تھالے کا پانی منڈیر کو کاٹ نہ سکے۔ پھر تھالے میں تھوڑا پانی ڈال دیا۔ اس طرح مٹی نم ہو گئی، اب پودے کی جڑیں آسانی سے پھیل سکتی تھیں۔
بڑے میاں کی اداس زندگی میں تھوڑی سی بہار آ گئی تھی۔ وہ صبح و شام تھالے میں پانی ڈالتے، کچھ دنوں کے وقفے سے تھالے کی گڑائی کرتے اس طرح پانی جڑوں تک چلا جاتا اور ہوا مٹی کو نرم رکھتی۔ پودے کو پانی دیتے اور آبیاری کرتے ہوئے وہ اس سے باتیں بھی کرتے رہتے: “آج دھوپ بہت تیز تھی، تم کو بہت پیاس لگ رہی ہوگی، لو جی بھر کے پانی پی لو، گرمیاں اب جانے والی ہیں۔ کچھ دن میں برسات کا موسم آ جائے گا۔ خوب بارشیں ہوں گی، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چلیں گی، تمہاری پتیوں میں نکھار آ جائے گا، قد بھی بڑھے گا اور ایک دن تم اتنے بڑے ہو جاؤ گے کہ دیوار کے باہر اپنے آپ جیسے درختوں کو دیکھ سکو گے، خوب دور تک پھیلے ہوئے آسمان کو بھی دیکھ سکو گے۔”
وقت بڑی جلدی گزر گیا۔ بڑے میاں نے جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر ان کے سامنے تھی۔ جامن کا وہ ننھا سا پودا توانا درخت بن کر آسمان سے باتیں کرنے لگا، تنا خوب موٹا ہو گیا اور شاخیں پتوں سے بھر گئیں۔ ہر وقت کوئی پرندہ وہاں موجود رہتا، شام کو تو دنیا بھر کے پرندے آکر درخت پر بسیرا کرتے، خوب چہچہاتے اور رات کو وہیں سو جاتے۔ صبح ہوتے ہی پھر ان کی چہچہاہٹیں گھر میں گونجنے لگتیں۔ گرمیوں کے دنوں میں بڑے میاں کونڈے میں پانی بھر کے درخت کے نیچے رکھ دیتے، پیاسے پرندے کونڈے کی کگار پر بیٹھ کر میٹھا اور تازہ پانی پیتے، زیادہ گرمی ستاتی تو کگار سے کونڈے میں اتر جاتے اور پروں کو پھیلا کر پانی سے کچھ دیر تک نہاتے پھر باہر نکل کے پروں کو ہلا کر پانی خشک کرتے اور پھر سے اڑ کر جامن کے درخت پہ بیٹھ جاتے۔
جامن کے درخت میں فصل آتی تو زیادہ پرندے آ جایا کرتے، بعض پرندے یہیں اپنا گھونسلہ بنا کر انڈے دیتے، انڈوں سے بچے نکل کر اڑنا سیکھتے۔ کبھی کسی پرندے کا بچہ نیچے گر جاتا تو بڑے میاں سیڑھی لگاتے اور درخت پر چڑھ کر بچے کو گھونسلے میں بٹھا دیتے اور انگلی سے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگا کر نصیحت کرتے ہوئے کہتے، “اتنی عجلت نہ کرو، ابھی تمہارے پر کچے ہیں، جب پک کر مضبوط ہو جائیں تب اڑنا ورنہ کسی دن چوٹ لگ جائے گی پھر کبھی نہیں اڑ سکو گے۔”
چڑیا کا بچہ بھلا ان کی بات کیا سمجھتا وہ تو اپنی چونچ حلق تک پھیلا کر بڑے میاں کی انگلی کی طرف دیکھتا، اپنے بازوؤں کو خوب ہلاتا، چون چون کی آوازیں نکالتا، وہ سمجھتا کہ اس کے لیے کھانا لے کر آئی ہے۔ پرندے تو خوب آتے ہی تھے محلے کے بچے بھی جامن کی لالچ میں بڑے میاں کے گھر کے آنے لگے تھے۔ اگر کوئی بچہ جامن توڑنے کے لیے درخت پر چڑھنے کی کوشش کرتا تو بڑے میاں اسے سمجھاتے۔ “درخت پر نہیں چڑھنا چاہیے، گر گئے تو چوٹ لگ جائے گی۔” بچے بڑی سعادت مندی سے ان کی بات مان لیتے، بڑے میاں سیڑھی پر چڑھ کر جامن توڑتے، انہیں کھلاتے اور ان سے مزے مزے کی باتیں کرتے۔
ایک دن بڑے میاں نے سوچا جب جامن کی فصل کا موسم چلا جائے گا تو یہ بچے نہیں آئेंगे۔ اس لیے انہوں نے درخت کی شاخ میں رسی ڈال کر جھولا بنا دیا، اب بچے ہر موسم میں وہاں آتے جھولا جھولتے اور خوش ہوتے، بچے بڑے میاں سے خوب مانوس ہو گئے تھے، اب وہ انہیں جن بابا نہیں بلکہ جامن والے بابا کہتے تھے، بڑے میاں کے گھر میں تو جیسے بہار آ گئی تھی، اب وہ بھی خوش رہتے اور اللہ میاں سے کوئی شکوہ نہیں کرتے، انہیں تو بس یہ افسوس تھا کہ میں نے پیڑ لگانے میں اتنی دیر کیوں کر دی۔

Leave a Reply

NZ's Corner