*بادشاہ اور درویش*

*بادشاہ اور درویش*


ایک دفعہ کا ذکر ہے، خلیفہ ہارون رشید اپنے محل کے جھروکے میں بیٹھے تھے، جہاں سے دریا کا خوبصورت منظر نظر آ رہا تھا۔ دور افق پر جہاز چل رہے تھے اور ریاست کی خوشحالی کا منظر تھا۔ اسی دوران، ان کی نظر نیچے صحن میں کھڑے بہلول دانا پر پڑی، جو اپنی درویشانہ حالت میں موجود تھے۔ ہارون رشید، جو بہلول کی دانشمندی اور بے باکی کے قائل تھے، اکثر ان سے پیچیدہ مسائل پر رائے لیا کرتے تھے۔
خلیفہ نے بہلول کو اوپر بلایا اور ان سے ایک سوال پوچھا۔ یہ سوال ظاہری طور پر سادہ تھا، لیکن اس کے اندر ریاست کے عدالتی نظام اور حکمران کی ذمہ داریوں کا گہرا امتحان چھپا ہوا تھا۔
ہارون رشید نے پوچھا: “بہلول! چور کے بارے میں کیا حکم ہے؟”
خلیفہ کا سوال اسلامی شریعت کی حد کی طرف اشارہ کر رہا تھا، جس میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ بہلول اس سخت سزا کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔
بہلول، جو ہمیشہ سیدھی اور حق بات کہنے کے عادی تھے، انہوں نے خلیفہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔ ان کا جواب ہارون رشید کی توقع سے بالکل مختلف تھا اور اس نے پورے سوال کا زاویہ ہی بدل دیا۔
بہلول نے کہا: “عالی جاہ! اگر چور پیشہ ور ہو، تو اس کا ہاتھ کاٹ دینا چاہیے۔”
یہ جواب قانون کی حکمرانی اور جرم کی روک تھام کی عکاسی کرتا تھا۔ جو شخص عادت کا چور ہو، جو لالچ کی وجہ سے لوگوں کی محنت کی کمائی لوٹتا ہو، اس کے لیے قانون کی سخت گرفت ضروری ہے تاکہ معاشرے میں امن و امان قائم رہے۔
لیکن بہلول یہاں نہیں رکے۔ انہوں نے کہانی کا دوسرا رخ پیش کیا، جو زیادہ چونکا دینے والا تھا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
“اور اگر چوری مجبور ہو کر کی ہو، تو حاکمِ وقت کی گردن اڑا دینی چاہیے۔”
یہ جملہ کسی دھماکے سے کم نہیں تھا۔ خلیفہ ہارون رشید سکتے میں آ گئے۔ ایک معمولی درویش نے بادشاہ کی گردن اڑانے کی بات کر دی تھی!  
لیکن ہارون رشید ایک عاقل حکمران تھے۔ انہوں نے غصہ کرنے کے بجائے بہلول کے اس جواب کے پیچھے چھپی گہری دانشمندی پر غور کیا۔ بہلول کا اشارہ یہ تھا کہ اگر معاشرے میں کوئی شخص بھوک، فقر اور مجبوری کی وجہ سے چوری کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، تو اس کا اصل مجرم وہ چور نہیں، بلکہ وہ حکمران ہے جو اپنے عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ریاست کا کام صرف قانون بنانا اور سزائیں دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ ایک ایسا عادلانہ نظام قائم کرے جہاں کوئی شخص بھوک سے نہ مر رہا ہو، جہاں ہر فرد کو روزگار اور سر چھپانے کی جگہ میسر ہو۔ اگر کوئی حاکم ایسا نظام فراہم نہیں کر پاتا اور لوگ مجبوری میں جرائم کی طرف مائل ہوتے ہیں، تو اخلاقی طور پر اس جرم کا ذمہ دار حاکمِ وقت ہی ٹھہرتا ہے، کیونکہ اس نے اپنی رعایا کی دیکھ بھال کی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
بہلول کی یہ بے باک بات ہارون رشید کے دل میں اتر گئی۔ انہوں نے اس دن محسوس کیا کہ تاج و تخت صرف طاقت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بہت بڑی آزمائش اور ذمہ داری ہے جس کا جواب انہیں اپنے رب اور اپنی عوام کے سامنے دینا ہے۔
یہ کہانی آج کے دور میں بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی صدیوں پہلے تھی۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچا انصاف صرف مجرم کو سزا دینے میں نہیں، بلکہ جرم کے اسباب کو ختم کرنے میں ہے، اور ایک مثالی ریاست وہ ہے جہاں عدل اور سماجی فلاح و بہبود ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner