ایک مچھیرے کی کہانی

ایک مچھیرے کی کہانی


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب مچھیرا تھا۔ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خوش اور مطمئن رہتا تھا۔ مچھلیاں پکڑتا، اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ اس کی قناعت کا یہ عالم تھا کہ جب تک پچھلی پکڑی ہوئی مچھلی ختم نہ ہو جاتی، وہ دوبارہ شکار کے لیے نہ جاتا۔

ایک دن اس کی بیوی مچھلی صاف کر رہی تھی کہ اچانک مچھلی کے پیٹ سے ایک چمکتا ہوا موتی نکلا۔

وہ خوشی سے پکار اٹھی:

“سرتاج! جلدی آئیے، دیکھیے اللہ نے ہمیں کیا عطا کیا ہے!”

مچھیرے نے موتی دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہ اسے لے کر محلے کے سنار کے پاس پہنچا۔ سنار نے موتی دیکھتے ہی کہا:

“بھائی! یہ کوئی معمولی موتی نہیں۔ میری ساری دولت بھی اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتی۔ تم اسے دوسرے شہر کے بڑے سنار کے پاس لے جاؤ۔”

وہاں بھی کسی کی استطاعت نہ ہوئی تو اسے شہر کے حاکم کے پاس بھیج دیا گیا۔

حاکم نے موتی دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ اس نے کہا:

“یہ موتی بے مثال ہے! میں اس کی قیمت کیسے ادا کروں؟ میرے پاس ایک تجویز ہے۔ تم میرے خزانے میں جاؤ اور وہاں چھ گھنٹے گزارو۔ جو کچھ سمیٹ سکتے ہو، سمیٹ کر لے جاؤ۔”

مچھیرا یہ سن کر خوشی سے جھوم اٹھا۔

وہ خزانے میں داخل ہوا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہاں سونے، چاندی اور ہیروں جواہرات کے ڈھیر تھے۔ ایک طرف لذیذ کھانے سجے تھے اور دوسری طرف نرم و ملائم بستر بچھے تھے۔

اس نے سوچا:

“چھ گھنٹے تو بہت زیادہ ہیں! پہلے کچھ کھانا کھا لیتا ہوں، پھر اطمینان سے خزانہ سمیٹوں گا۔”

وہ کھانے بیٹھ گیا۔ ایک سے بڑھ کر ایک لذیذ کھانا کھاتا رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دو گھنٹے گزر گئے۔

اب اس کی نظر آرام دہ بستروں پر پڑی۔

اس نے سوچا:

“پیٹ بھر چکا ہے، تھوڑا سا آرام کر لیتا ہوں۔ پھر سکون سے ہیرے جواہرات جمع کروں گا۔”

وہ نرم بستر پر لیٹا اور گہری نیند سو گیا۔

اچانک ایک آواز گونجی:

“اے مچھیرے! اٹھو، تمہارا وقت ختم ہو گیا!”

وہ گھبرا کر اٹھا اور بولا:

“یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو ابھی خزانہ جمع کرنا تھا! خدارا، مجھے کچھ وقت اور دے دو!”

مگر جواب ملا:

“تمہیں پورے چھ گھنٹے دیے گئے تھے۔ تم نے اپنا وقت کھانے پینے اور سونے میں گزار دیا۔ اب تمہارے لیے مزید مہلت نہیں!”

مچھیرا روتا رہا، گڑگڑاتا رہا، لیکن وقت واپس نہ آیا۔ اتنا بڑا خزانہ سامنے تھا، مگر وہ خالی ہاتھ باہر نکال دیا گیا۔

💔 کہانی یہاں ختم ہوتی ہے، لیکن اس کا سبق ہماری زندگی سے جڑا ہوا ہے۔

ذرا سوچیے!

🔹 وہ قیمتی موتی کیا ہے؟
یہ کہانی کی تمثیل میں ہماری زندگی اور ہمیں عطا کی گئی قیمتی مہلت کی یاد دلاتا ہے۔

🔹 وہ خزانہ کیا ہے؟
یہ دنیا ہے، جہاں انسان کو عمل کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔

🔹 وہ ہیرے جواہرات کیا ہیں؟
یہ نیک اعمال، عبادات، صدقہ، خیرات اور وہ بھلائیاں ہیں جو انسان اپنے لیے آخرت کا سرمایہ بنا سکتا ہے۔

🔹 وہ لذیذ کھانے کیا ہیں؟
یہ دنیا کی خواہشات ہیں، جن میں حد سے زیادہ مشغول ہو کر انسان اپنے اصل مقصد کو بھول سکتا ہے۔

🔹 اور وہ نرم بستر؟
یہ غفلت، سستی اور ٹال مٹول کی علامت ہے، جو انسان کو عمل سے دور کر دیتی ہے۔

🌙 میرے بھائیو اور بہنو!

ہم میں سے ہر شخص کو زندگی کی ایک مہلت ملی ہے۔ کوئی جوانی میں ہے، کوئی بڑھاپے میں، کوئی صحت مند ہے اور کوئی بیماری سے لڑ رہا ہے۔

ہم دنیا بنانے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اپنی آخرت سنوارنے کا وقت ہی نہیں نکالتے۔ نماز کل پڑھیں گے، توبہ کل کریں گے، کسی کا حق کل ادا کریں گے، والدین کی خدمت کل کریں گے اور کسی ضرورت مند کی مدد بھی کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔

لیکن یاد رکھیے!

زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ گزرنے والا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ

ترجمہ: زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔

(سورۃ العصر: 1-2)

آئیے! آج ہی اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔ نمازوں کی پابندی کریں، حقوق العباد ادا کریں، والدین کی قدر کریں، دلوں کو نفرت سے پاک کریں اور نیک اعمال کا سرمایہ جمع کرنا شروع کر دیں۔

کیونکہ ایک دن یہ مہلت ختم ہو جائے گی، اور پھر انسان صرف یہی چاہے گا کہ کاش! اسے کچھ اور وقت مل جاتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں غفلت کی نیند سے بیدار فرمائے، نیک اعمال کی توفیق عطا کرے اور ہماری زندگی کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین! 🤲❤️

#سبق_آموز_کہانی #زندگی_کی_حقیقت #آخرت_کی_تیاری #نیک_اعمال #وقت_کی_قدر #اسلامی_نصیحت

Leave a Reply

NZ's Corner