جنگل کا قانون

جنگل کا قانون

جنگل میں شیر کی دھاک تھی، مگر اس کی دھاک سے زیادہ اس کی خواہشات کا رعب تھا۔ جو بات اسے اپنے حق میں مناسب لگتی، وہی قانون بن جاتی، اور جب وہی بات اس کے لیے مشکل بن جاتی تو قانون کے معنی بھی بدل جاتے۔ ایک دن شیرنی نے کسی کے مشورے پر بال بڑھانے کے لیے ایک جعلی دوا استعمال کر لی۔ چند ہی روز میں اس کے سر کے بال اس طرح جھڑنے لگے کہ جہاں کبھی گھنی ایال کی شان دکھائی دیتی تھی، وہاں چمکتی ہوئی کھال نظر آنے لگی۔ شیرنی پریشان ہوئی تو شیر کی پریشانی اس سے بھی بڑھ گئی۔ اسے اپنی شریکِ حیات کے بالوں سے زیادہ جنگل میں اپنی عزت کی فکر تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ کل کو جانور آپس میں کہیں گے کہ جس بادشاہ کی شیرنی کے سر پر بال نہیں، اس کی ہیبت بھی آخر کتنی ہوگی! اس نے فوراً لومڑی کو دربار میں طلب کیا اور ساری صورتِ حال بیان کرکے بولا، ’’کچھ ایسا کرو کہ میری عزت بھی بچ جائے اور کسی کو شیرنی کے بالوں پر بات کرنے کی جرأت بھی نہ ہو۔‘‘ لومڑی نے شیرنی کے سر پر ایک نظر ڈالی، پھر بادشاہ کے چہرے پر پھیلی پریشانی دیکھی اور اطمینان سے بولی، ’’حضور، اس میں پریشان ہونے کی کون سی بات ہے؟ جنگل میں کسی چیز کی قدر تبھی تک ہے جب وہ سب کے پاس نہ ہو۔ اگر بال عظمت کی علامت ہیں تو پھر یہ اعزاز صرف بادشاہ کے خاندان تک محدود کیوں نہ ہو؟‘‘ شیر نے چونک کر پوچھا، ’’تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ لومڑی نے عرض کیا، ’’ایک شاہی فرمان جاری کر دیجیے کہ ایال اور سر کے بال شاہی عظمت کی علامت ہیں، اس لیے جنگل میں کسی عام جانور کو انہیں رکھنے کا حق نہیں۔ تمام جانور اپنے بال منڈوا دیں، اور جو حکم عدولی کرے اسے توہینِ شاہی کا مجرم قرار دے کر سزائے موت دی جائے۔‘‘ شیر کو تجویز پسند آ گئی۔ اگلی ہی صبح پورے جنگل میں منادی کروا دی گئی۔ فرمان میں لکھا تھا کہ بال رکھنا بادشاہ کی شان میں گستاخی ہے، لہٰذا ہر جانور مقررہ وقت کے اندر اپنے بال منڈوا دے۔ کسی کو یہ پوچھنے کی اجازت نہ تھی کہ قدرت نے دیے ہوئے بال بادشاہ کی ملکیت کیسے ہو گئے۔ فرمان کی سچائی پر بحث کرنے کے بجائے سب کو اپنی جان کی فکر تھی۔ شیرنی نے بھی شاہی فرمان کی تعمیل میں سب سے پہلے اپنے باقی ماندہ بال منڈوا دیے، تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ بادشاہ کا گھرانہ قانون سے بالاتر ہے۔ اس کے بعد جنگل کا منظر ہی بدل گیا۔ شیر، چیتے، بھیڑیے، ہرن، لومڑیاں، خرگوش، سب کے سب ٹنڈ منڈ ہوئے پھر رہے تھے۔ کسی کے سر پر ایک بال نہ تھا، اور جس جانور کے سر پر اتفاق سے کوئی بال نظر آ جاتا، وہ اسے چھپانے کے لیے پتے یا کپڑا باندھ لیتا۔ اس حکم سے سب سے زیادہ فائدہ بندروں کو ہوا، جن کا پیشہ ہی حجامت بنانا تھا۔ کل تک وہ سارا دن گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے رہتے تھے، مگر اب ان کے دروازوں پر جانوروں کی قطاریں لگ گئیں۔ کئی بندر تو راتوں رات مال دار ہو گئے۔ جس کے پاس سفارش تھی، وہ آگے نکلنے کی کوشش کرتا؛ کوئی کسی کا رشتہ دار بن جاتا، کوئی پرانی دوستی یاد دلاتا اور کوئی بندر کے ہاتھ میں اضافی سکے تھما کر کہتا، ’’بھائی، پہلے میری باری لگا دو، بادشاہ کا حکم ہے، دیر ہو گئی تو جان سے جاؤں گا!‘‘ بندروں نے بھی موقع سے خوب فائدہ اٹھایا۔ برسوں سے پڑے زنگ آلود استرے نکالے، انہیں کپڑے سے صاف کیا اور حجامت شروع کر دی۔ کسی جانور کی کھال چھل جاتی، کسی کے سر پر کٹ لگ جاتا، مگر کسی میں یہ کہنے کی ہمت نہ تھی کہ حضور، استرا تو زنگ آلود ہے! سب جانتے تھے کہ بال بچانے کی قیمت جان سے ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ چند ہی دن میں پورا جنگل گنجا ہو گیا۔ شیر اپنی کامیابی پر پھولا نہ سماتا تھا۔ وہ جب دربار میں آتا تو سب کے چمکتے سروں پر نظر دوڑاتا اور سمجھتا کہ اس کی عظمت اب پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ پھر قدرت نے ایک اور کروٹ لی۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد شیرنی کے سر پر نئے بال اگنے لگے۔ پہلے باریک روئیں نمودار ہوئے، پھر رفتہ رفتہ بال گھنے ہونے لگے۔ شیر نے جب یہ دیکھا تو اس کی خوشی کے بجائے پریشانی لوٹ آئی۔ وہ جانتا تھا کہ جنگل کے جانوروں نے اپنے بال اس کے حکم پر منڈوائے ہیں، اور اب اگر شیرنی کے بال واپس آ گئے تو لوگ سوال کریں گے کہ جب بادشاہ کے گھرانے کو بال رکھنے کی اجازت ہے تو رعایا کو کیوں نہیں؟ اس نے لومڑی کو دوبارہ بلایا اور کہا، ’’تمہارا فرمان تو کامیاب ہو گیا تھا، مگر اب شیرنی کے بال پھر اگ آئے ہیں۔ اگر جانوروں نے یہ دیکھ لیا تو میری ہیبت ختم ہو جائے گی۔ اب کیا کیا جائے؟‘‘ لومڑی نے حسبِ عادت اطمینان سے جواب دیا، ’’حضور، اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے؟‘‘ شیر نے جھنجھلا کر کہا، ’’تم ہر بار یہی کہتی ہو! کوئی حل بھی ہے تمہارے پاس؟‘‘ لومڑی نے سر جھکا کر عرض کیا، ’’حضور، کل ہی ایک نیا فرمان جاری کر دیجیے کہ سابقہ حکم واپس لیا جاتا ہے۔ بال منڈوانے کا فرمان دراصل رعایا کی وفاداری جانچنے کے لیے ایک شاہی امتحان تھا۔ ہمیں یہ دیکھنا تھا کہ ہماری رعایا ہمارے حکم کو کتنی اہمیت دیتی ہے اور ہم سے کتنی محبت کرتی ہے۔ چونکہ تمام جانوروں نے بلاچون و چرا حکم کی تعمیل کی، اس لیے پوری رعایا مکمل نمبروں سے کامیاب قرار پائی۔ اب انہیں دوبارہ بال رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔‘‘ شیر کے چہرے پر اطمینان لوٹ آیا۔ اگلی صبح جنگل میں منادی ہوئی کہ شاہی امتحان ختم ہو چکا ہے اور تمام جانور اپنے بال دوبارہ بڑھا سکتے ہیں۔ یہ سن کر جانوروں نے سکھ کا سانس لیا۔ کسی نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا، کسی نے بندر کو دیے ہوئے پیسوں کا افسوس کیا، اور کسی نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ اگلی بار بادشاہ کا فرمان سن کر پہلے اپنے سر پر ہاتھ رکھے گا، پھر اپنی عقل پر۔ مگر شیر دربار میں بیٹھا یہی سمجھتا رہا کہ اس نے رعایا کی وفاداری ثابت کر دی ہے۔ اسے کون بتاتا کہ جانوروں نے فرمان کی تعمیل محبت سے نہیں، موت کے خوف سے کی تھی، اور جس فرمان کو آج امتحان کہا جا رہا تھا، کل اسی کو قانون بنا کر ان کے سر منڈوائے گئے تھے۔

حاصلِ سبق:
جب حکمران اپنی سہولت کے مطابق قانون بناتے اور بدلتے ہیں تو قانون انصاف کا ذریعہ نہیں رہتا، ذاتی مفاد کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ اور جب رعایا خوف کے باعث ہر حکم ماننے لگے تو حکمران اپنی مقبولیت کو وفاداری سمجھنے کی غلطی کرنے لگتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner