انصاف

انصاف

قدیم زمانے میں کوہِ زریاب اور دریائے نیلگوں کے درمیان ایک وسیع و عریض ریاست آباد تھی، جس کا نام مملکتِ ماہتاب آباد تھا۔ اس کا دارالحکومت شہرِ زرنگار کہلاتا تھا، جہاں کے بلند دروازے، سنگِ مرمر کے ایوان اور بازاروں کی رونق دور دراز کے مسافروں کو حیران کر دیتی تھی۔ بظاہر یہ ایک خوش حال ریاست تھی، مگر اس کی گلیوں میں ایک ایسی آفت نے سر اٹھا لیا تھا جس نے امیر و غریب، تاجر و مزدور، سب کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ ہر صبح شہر کے کسی نہ کسی گھر کا دروازہ ٹوٹا ہوا ملتا، کسی کے صندوق خالی ہوتے، کسی کے زیورات غائب ہوتے اور کسی کی عمر بھر کی جمع پونجی راتوں رات اڑن چھو ہو جاتی۔ چور اتنے ماہر تھے کہ نہ کوئی آہٹ سنائی دیتی، نہ کوئی نشان ہاتھ آتا۔ لوگ رات کو دروازوں پر کئی کئی تالے لگاتے، پہرے بٹھاتے، مگر صبح ہوتے ہی کسی نئے گھر سے چوری کی خبر آ جاتی۔ رفتہ رفتہ شہر والوں کے دلوں میں یہ خیال بیٹھنے لگا کہ شاید چوروں نے شہر کے محافظوں سے بھی کوئی ساز باز کر رکھی ہے۔ اسی شہر میں ایک تاجر رہتا تھا جس کا نام بہرام تھا۔ ایک رات اس کے گھر میں بھی چوری ہوئی، مگر اس نے شور مچانے کے بجائے خاموشی سے حالات پر غور کیا۔ اگلی صبح وہ قاضی کے دربار میں حاضر ہوا اور عرض کیا، ’’حضور، میں نے ان چوروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ان کے لباس، چال ڈھال اور چہروں کی نشانیاں مجھے یاد ہیں۔ اگر مجھے چند سپاہی دے دیے جائیں تو میں ان تک پہنچ سکتا ہوں۔‘‘ قاضی نے اس کی بات سنی، چند سپاہی اس کے ساتھ روانہ کیے اور شہر کے مختلف حصوں میں چھان بین شروع ہو گئی۔ بہرام کی بتائی ہوئی نشانیوں کے مطابق کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جب ان کے گھروں کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے شہر کے کئی لوگوں کا چوری شدہ سامان برآمد ہوا۔ کسی کے صندوق سے زیورات نکلے، کسی کے تہہ خانے سے قیمتی کپڑے ملے اور کسی کے کمرے سے وہ سکے برآمد ہوئے جن پر تاجر خاندان کی مہر ثبت تھی۔ اب شک کی گنجائش بظاہر بہت کم رہ گئی تھی۔ تمام ملزموں کو زنجیروں میں جکڑ کر قاضی کے سامنے پیش کیا گیا۔ قاضی نے سخت لہجے میں پوچھا، ’’کیا تم ان چوریوں میں ملوث ہو؟‘‘ ملزموں نے پہلے تو خاموشی اختیار کی، مگر جب ان کے قبضے سے برآمد ہونے والا سامان ایک ایک کر کے سامنے رکھا گیا تو ان میں سے ایک بولا، ’’حضور، ہم چور ضرور ہیں، مگر بہرام ہم سے مختلف نہیں۔ یہ بھی ہمارے ساتھ چوری کرنے جاتا تھا۔ ہم نے اس کے ساتھ حصہ بانٹنے سے انکار کیا تو اس نے انتقاماً ہمیں پکڑوا دیا۔ اگر ہمیں سزا دی جائے تو اسے بھی ہمارے ساتھ برابر کی سزا ملنی چاہیے۔‘‘ قاضی نے بہرام کی طرف دیکھا۔ اس نے فوراً کہا، ’’یہ جھوٹ بولتے ہیں! میں ان کا ساتھی نہیں، بلکہ ان کے جرم کا گواہ ہوں۔‘‘ مگر ابھی وہ اپنی بات پوری بھی نہ کر پایا تھا کہ دوسرا ملزم بول اٹھا، ’’حضور، یہ ہمارے ساتھ کئی بار گیا ہے۔‘‘ تیسرا بولا، ’’اس نے بھی مال اٹھایا تھا۔‘‘ چوتھے نے بھی اسی بات کی تائید کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام چور ایک ہی الزام دہرانے لگے۔ قاضی کے لیے معاملہ پیچیدہ ہو گیا۔ ایک طرف بہرام تھا، جس کی نشاندہی پر چور پکڑے گئے تھے اور جس کے بیان سے چوری شدہ مال برآمد ہوا تھا؛ دوسری طرف گرفتار شدہ افراد تھے، جن کے پاس سے مال بھی ملا تھا اور جو متفقہ طور پر بہرام کو اپنا ساتھی قرار دے رہے تھے۔ قاضی نے بہرام سے پوچھا، ’’اگر تم ان کے شریکِ جرم نہیں تھے تو ان کے ساتھ گئے کیوں تھے؟‘‘ بہرام نے جواب دیا، ’’حضور، ایک رات میں نے انہیں اپنے گھر کے قریب دیکھا۔ مجھے شبہ ہوا کہ یہ چوری کے لیے نکلے ہیں، اس لیے میں ان کے پیچھے ہو لیا تاکہ معلوم کر سکوں کہ یہ کہاں جاتے ہیں اور کس کے گھر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ میں نے انہیں کئی گھروں میں داخل ہوتے دیکھا، مگر اس وقت تنہا تھا اور مقابلہ کرنے کی ہمت نہ تھی۔ صبح ہوتے ہی میں نے آپ کو اطلاع دے دی۔‘‘ قاضی نے پوچھا، ’’کیا تم نے انہیں چوری کرتے دیکھا، یا خود بھی کسی گھر میں داخل ہوئے؟‘‘ بہرام نے کہا، ’’میں ان کے پیچھے ضرور گیا تھا، لیکن کسی گھر سے کچھ نہیں اٹھایا۔‘‘ اب قاضی مزید پریشان ہو گیا۔ چوروں کے بیانات ایک دوسرے سے ملتے تھے، مگر وہ سب اپنے جرم سے بچنے کے لیے ایک بے گناہ کو بھی اپنے ساتھ گھسیٹ سکتے تھے۔ دوسری طرف بہرام کی اطلاع کے بغیر شاید یہ گروہ کبھی پکڑا نہ جاتا۔ خبر شہر میں پھیل چکی تھی۔ بازاروں میں بحث ہونے لگی، سرائے میں مسافر اس مقدمے پر گفتگو کرنے لگے اور شہر کے معززین قاضی کے فیصلے کے منتظر رہنے لگے۔ کسی کا کہنا تھا کہ بہرام نے شہر پر احسان کیا ہے، کسی کا خیال تھا کہ چوروں کی بات میں بھی کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہوگی۔ آخرکار یہ خبر بادشاہِ ماہتاب آباد تک پہنچ گئی۔ بادشاہ نے قاضی کو دربار میں طلب کیا اور پورا معاملہ سنا۔ وہ دیر تک سوچتا رہا، پھر بولا، ’’یہ مقدمہ اب محض چند چوروں کا نہیں رہا۔ اگر ہم نے جلد بازی میں فیصلہ کیا تو ممکن ہے کسی بے گناہ پر ظلم ہو جائے، اور اگر فیصلہ کرنے سے گریز کیا تو لوگوں کا انصاف سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ ہمیں ایسا راستہ چاہیے جس سے حقیقت زیادہ سے زیادہ واضح ہو سکے۔‘‘ بادشاہ نے اعلان کروا دیا کہ جو شخص اس مقدمے کی گتھی سلجھا دے گا اور حقیقت کو واضح کرنے میں مدد دے گا، اسے شاہی انعام دیا جائے گا۔ یہ اعلان پورے شہر میں پھیل گیا۔ کئی لوگ دربار میں حاضر ہوئے۔ کسی نے کہا کہ تمام ملزموں کو سخت سزا دی جائے، کسی نے مشورہ دیا کہ بہرام کو بھی قید کر لیا جائے، اور کسی نے یہ تجویز پیش کی کہ سب کو چھوڑ دیا جائے، کیونکہ گواہی پوری طرح واضح نہیں۔ مگر کسی کی بات بادشاہ کے دل کو نہ لگی۔ اسی دوران ایک بوڑھا دانا دربار میں حاضر ہوا۔ اس کا نام حکیم زادان تھا۔ وہ عمر بھر قضا، تجارت اور انسانی مزاج کا مشاہدہ کرتا رہا تھا، اور اپنی بات مختصر مگر گہری کہنے کے لیے مشہور تھا۔ اس نے بادشاہ سے عرض کیا، ’’حضور، اگر اجازت ہو تو میں اس مقدمے میں ایک ایسا راستہ پیش کر سکتا ہوں جس سے حقیقت کے کئی پردے اٹھ سکتے ہیں۔‘‘ بادشاہ نے کہا، ’’فرمائیے، ہم سن رہے ہیں۔‘‘ حکیم زادان نے جواب دیا، ’’سب سے پہلے ان ملزموں کے خلاف موجود شواہد کو الگ الگ پرکھا جائے۔ جن گھروں سے مال برآمد ہوا، ان کے مالکوں کی شناخت کی تصدیق کی جائے، اور ہر ملزم سے دریافت کیا جائے کہ وہ اس مال کے بارے میں کیا وضاحت دیتا ہے۔ پھر بہرام کے بیان کی بھی آزادانہ تحقیق ہو، تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کی اطلاع کن حقائق سے مطابقت رکھتی ہے۔ جہاں ثبوت جرم ثابت کریں، وہاں قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے؛ اور جہاں شبہ باقی ہو، وہاں صرف دوسروں کے الزام کو کافی نہ سمجھا جائے۔‘‘ بادشاہ نے سر ہلایا، مگر پھر پوچھا، ’’اور اگر اس سب کے بعد بھی حقیقت پوری طرح واضح نہ ہو سکی تو؟ کیا ہم ہمیشہ فیصلے کو مؤخر کیے رکھیں؟‘‘ حکیم زادان نے کہا، ’’نہیں، حضور۔ تحقیق کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ کون سی بات ثابت ہو چکی ہے اور کون سی ابھی شبہے میں ہے۔ ہر معاملے میں سو فیصد یقین ممکن نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم نوے فیصد سچائی کو نظر انداز کر دیں۔ البتہ انصاف کا تقاضا ہے کہ باقی دس فیصد کے شبہے کو کسی بے گناہ کی سزا کا جواز نہ بنایا جائے۔‘‘ بادشاہ نے پوچھا، ’’تو کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نوے فیصد معاملہ حل کر کے باقی کو چھوڑ دیں؟‘‘ دانا نے جواب دیا، ’’حضور، میں یہ نہیں کہتا کہ کسی کو محض اندازے پر سزا دے دی جائے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جو جرم شواہد سے ثابت ہو، اس پر کارروائی کیجیے؛ جو بات ابھی ثابت نہ ہو، اسے تحقیق کے لیے کھلا رکھیے۔ انصاف کا مطلب ہر سوال کا فوراً جواب حاصل کرنا نہیں، بلکہ جتنا سچ معلوم ہو، اسے تسلیم کرنا اور جس بات کا علم نہ ہو، اس کے بارے میں جھوٹا یقین ظاہر نہ کرنا ہے۔‘‘ بادشاہ کو یہ بات پسند آئی۔ اس نے حکم دیا کہ مقدمے کی دوبارہ تحقیق ہو۔ چوری شدہ سامان کے مالکان کو بلایا گیا، برآمد شدہ اشیا کی شناخت کرائی گئی، ہر ملزم کے بیان کو الگ الگ سنا گیا اور بہرام کے آنے جانے کے راستوں کی چھان بین کی گئی۔ چند دن کی تحقیق کے بعد چوروں کے خلاف مضبوط شواہد جمع ہو گئے۔ ان کے گھروں سے برآمد ہونے والا مال، متاثرین کی گواہیاں اور ان کے اپنے بیانات ایک دوسرے کی تصدیق کرتے تھے۔ بہرام کے خلاف، اس کے برعکس، کوئی ایسا ثبوت نہ ملا جو اسے چوری میں شریک ثابت کرتا۔ چوروں نے اسے اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی تھی، مگر ان کا الزام اپنے حق میں کوئی قابلِ اعتماد شہادت پیش نہ کر سکا۔ چنانچہ قاضی نے چوروں کو قانون کے مطابق سزا سنائی اور بہرام کو بری کر دیا۔ بادشاہ نے حکیم زادان کو انعام دیا اور کہا، ’’تم نے ہمیں سکھایا کہ انصاف صرف فیصلہ کرنے کا نام نہیں، درست بنیاد پر فیصلہ کرنے کا نام بھی ہے۔‘‘ حکیم زادان نے ادب سے سر جھکایا اور کہا، ’’حضور، ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا: اگر ہم سو فیصد یقین کی شرط لگا کر ہر کام روک دیں تو بہت سے مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے؛ اور اگر ہم نامکمل معلومات پر مکمل یقین کا دعویٰ کریں تو انصاف کے نام پر ظلم کر بیٹھیں گے۔ عقل مندی یہ ہے کہ ہم جہاں تک پہنچ سکتے ہیں، وہاں تک دیانت داری سے پہنچیں، اور باقی راستے کے لیے اپنی آنکھیں بند نہ کریں۔‘‘ اس دن کے بعد بادشاہ نے ریاست کے اہلکاروں کو حکم دیا کہ ہر مقدمے میں ثبوت اور شبہے کے درمیان فرق رکھا جائے، اور کسی شخص کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم نہ سمجھا جائے۔ شہر میں چوری کی وارداتیں بھی کم ہونے لگیں، کیونکہ اب لوگوں کو معلوم ہو گیا تھا کہ شکایت سننے والا دربار موجود ہے اور جرم ثابت ہونے پر سزا بھی مل سکتی ہے۔ حکیم زادان کی باتیں رفتہ رفتہ شہر کی گلیوں سے نکل کر دور دراز بستیوں تک پہنچ گئیں۔ لوگ ان سے پوچھتے کہ زندگی میں کامیابی کا راز کیا ہے؟ وہ مسکرا کر جواب دیتا، ’’بعض لوگ اس انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں کہ جب انہیں مکمل علم، مکمل وسائل اور مکمل یقین حاصل ہوگا، تب وہ قدم اٹھائیں گے۔ مگر زندگی کسی کے لیے راستہ پوری طرح صاف نہیں کرتی۔ کبھی ہمارے پاس اتنا علم ہوتا ہے کہ ہم پہلا قدم اٹھا سکیں، کبھی اتنے وسائل کہ ایک چھوٹا سا کام شروع کر سکیں، اور کبھی اتنی ہمت کہ ناکامی کے خوف کے باوجود آگے بڑھ سکیں۔ جو شخص ہر بار سو فیصد کی شرط لگاتا ہے، وہ اکثر صفر پر کھڑا رہ جاتا ہے۔‘‘ پھر وہ ایک لمحہ ٹھہر کر اضافہ کرتا، ’’لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ نامکمل یقین کو مکمل سچ نہ سمجھ بیٹھنا۔ جہاں کسی کے حق، جان یا عزت کا معاملہ ہو، وہاں احتیاط لازم ہے؛ اور جہاں اپنے مقصد کے لیے کوشش کرنی ہو، وہاں کمال کے انتظار میں زندگی ضائع نہ کرو۔ پہلے وہ کرو جو تمہارے اختیار میں ہے، پھر اگلے قدم کے لیے سیکھتے رہو۔ کیونکہ اکثر منزل تک پہنچنے والے وہ نہیں ہوتے جنہیں شروع ہی سے پورا راستہ معلوم ہوتا ہے، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو درست سمت میں پہلا قدم اٹھانے کی جرأت کرتے ہیں۔‘‘

حاصلِ سبق:
ہر معاملے میں سو فیصد یقین یا کامل حالات کا انتظار کرنا ہمیں وہیں روک سکتا ہے جہاں سے سفر شروع ہونا چاہیے۔ جو کچھ ہمارے اختیار میں ہے، اسے دیانت داری اور سمجھ داری سے انجام دینا چاہیے۔ البتہ زندگی کے فیصلوں میں پیش رفت اور انصاف کے فیصلوں میں جلد بازی دو الگ چیزیں ہیں: اپنے مقصد کے لیے نامکمل وسائل کے ساتھ آغاز کیا جا سکتا ہے، مگر کسی انسان کو سزا دینے کے لیے شبہے کو ثبوت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔

Leave a Reply

NZ's Corner