جب مغلیہ سلطنت زوال کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی، دلی کے لال قلعے کے باہر ایک مسخرہ اور بھانڈ بانس پر چڑیا بٹھا کر عجیب و غریب آوازیں نکالتا تھا اور اچھل کود کرتا تھا۔
تاریخ لکھتی ہے کہ دلی کے بڑے بڑے نواب، عربی و فارسی کے جید عالم، درباری شعرا اور جاگیردار اپنی پالکیوں سے اتر کر اس بھانڈ کی ایک جھلک دیکھنے اور اس کا ہاتھ چھونے کے لیے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال دیا کرتے تھے۔
اسی دوران قلعے کے ایک کونے میں دلی کا سب سے بڑا ماہرِ فلکیات اور ریاضی دان مفلسی کے عالم میں مر گیا، لیکن اس کا جنازہ اٹھانے کے لیے چار کندھے تک نصیب نہ ہوئے کیونکہ وقت کے باشعور لوگ تو چوک پر مسخرے کی بولیاں سننے میں مصروف تھے۔
جب نادر شاہ دلی میں داخل ہوا تو اس نے سب سے پہلے انہی نوابوں کی گردنیں اڑائیں جو مسخروں کے قدموں میں بیٹھا کرتے تھے۔
آج ہمارے حالات بالکل اسی دلی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ آپ اکثر دیکھتے ہونگے ٹک ٹاک بھانڈوں کو ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہوتا ہے تو کہیں ہمارے سکول و کالج کا پڑھا لکھا طبقہ مسخروں کے ساتھ ایک سیلفی لینے کے لیے دھکے کھا رہے ہوتے ہیں
یہ سیلفی نہیں یہ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ہماری ڈگریاں، ہمارا عہدہ اور ہمارا خاندانی پس منظر سب ایک ڈھونگ ہے۔ ہماری عقل پر ایک ایسے جاہل نے قبضہ کر لیا ہے جس کی کل اوقات ٹک ٹاک پر دو منٹ کا تماشہ دکھانا ہے۔ ڈگری یافتہ لوگ اس کے ساتھ تصویر بنا کر دنیا کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو، ہماری سوچ کا معیار یہ ہے!
کسی فیکٹری کے محنتی کاریگر، کسی راتوں کو جاگ کر پڑھانے والے استاد، یا کسی حلال کمانے والے مزدور کے ساتھ تصویر کھنچوانے میں ہماری انا کو سانپ سونگھ جاتا ہے، کیونکہ وہاں “لائیکس” اور “ویوز” نہیں ملتے۔
ہم اس قدر اخلاقی طور پر گر چکے ہیں کہ اب ہماری عزت اور ذلت کا معیار انٹرنیٹ کے چند ویوز طے کرتے ہیں۔ یہ ترجیحات کی وہ غیر سنجیدگی ہے جو قوموں کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیتی ہے۔
اگر اب بھی شرم نہیں آتی، تو اپنی اس سیلفی کو فریم کروا کر گھر کے ڈرائنگ روم میں لگا لو اور اپنی اگلی نسل کو بتا دو کہ بیٹا! کتابیں پڑھنے اور ہنر سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، بس چوک پر کھڑے ہو کر تماشہ بن جاؤ، یہ پڑھے لکھے لوگ خود تمہارے پیروں میں آ کر گریں گے۔
خدارا! ہوش کے ناخن لو، مسخروں کو تماشے کی حد تک رکھو، انہیں اپنے شعور پر مسلط کر کے خود کو تاریخ کا سب سے بڑا احمق ثابت مت کرو


