کہتے ہیں کہ جب زمین پر انسانوں کی بستیاں ابھی نئی نئی آباد ہو رہی تھیں، پہاڑوں کی خاموشی میں ہوا سرگوشیاں کرتی تھی اور دور دراز وادیوں میں چرواہوں کی بانسریاں گونجا کرتی تھیں، انہی دنوں کوہِ سیماب کے دامن میں ایک ایسا غریب آدمی رہتا تھا جس کے گھر میں فاقوں کے سوا کوئی مستقل مہمان نہ تھا۔ اس کی جھونپڑی کی چھت بارش میں ٹپکتی، دیواروں کی مٹی ہر موسم میں جھڑتی اور چولہا کبھی کبھی کئی کئی دن تک ٹھنڈا پڑا رہتا۔ وہ محنت کرتا، جنگل سے لکڑیاں چنتا، پہاڑی راستوں پر بوجھ اٹھاتا، مگر شام کو جب گھر لوٹتا تو اس کے ہاتھوں میں تھکن ہوتی اور دامن میں چند سوکھے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ ایک شام، جب بھوک سے نڈھال ہو کر وہ اپنی جھونپڑی کے باہر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا، اس کے دل سے ایک آہ نکلی۔ اس نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا، ’’اے میرے رب! میں تجھ سے خزانے نہیں مانگتا، نہ کسی کے محل اور باغات کی خواہش رکھتا ہوں۔ بس اتنا عطا فرما دے کہ میرے گھر کا چولہا جلتا رہے، میرے حصے کی روٹی مجھے ملتی رہے اور مجھے کسی کے سامنے اپنی بھوک کا سوال نہ کرنا پڑے۔ میں کمزور ہوں، مگر تو سب سے زیادہ طاقت ور ہے؛ میرے پاس کچھ نہیں، مگر تیرے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔‘‘ دعا کے بعد وہ سو گیا۔ اسی رات اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک سفید بکری پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ راستے پر چل رہی ہے۔ اس کے گرد سبز گھاس تھی، قریب ہی پانی کا ایک چشمہ بہہ رہا تھا اور بکری بار بار مڑ کر اسے دیکھتی، جیسے خاموشی سے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر رہی ہو۔ صبح ہوئی تو خواب دھندلا گیا، مگر اگلی رات وہی خواب پھر آیا؛ تیسری رات بھی وہی بکری، وہی پہاڑی راستہ اور وہی چشمہ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ اب اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ شاید اس خواب میں کوئی اشارہ پوشیدہ ہے۔ چنانچہ ایک صبح وہ اپنی جھونپڑی سے نکلا اور پہاڑوں کی طرف چل پڑا۔ کئی گھنٹے پتھریلے راستوں پر بھٹکنے کے بعد جب وہ ایک تنگ درّے میں پہنچا تو اچانک اس کے قدم رک گئے۔ سامنے وہی سفید بکری کھڑی تھی جسے وہ تین راتوں سے خواب میں دیکھ رہا تھا۔ بکری کے قریب گھاس بھی تھی، چشمہ بھی اور پہاڑ کی ایک اوٹ میں پناہ لینے کی جگہ بھی۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، ’’اے اللہ! تو نے میری فریاد سن لی۔‘‘ وہ بکری کو اپنے ساتھ لے آیا۔ اس کے لیے گھاس کا بندوبست کیا، اس کا دودھ پیا اور کچھ دودھ بیچ کر روٹی خریدنے لگا۔ چند ہی عرصے میں بکری نے بچے دیے، پھر وہ بچے بڑے ہوئے اور ان سے مزید بچے پیدا ہوئے۔ وقت گزرتا گیا اور اس ایک بکری کا ریوڑ بن گیا۔ جس شخص کے گھر میں کبھی ایک وقت کی روٹی میسر نہ ہوتی تھی، اب اس کے پاس اتنی بکریاں تھیں کہ وہ ان کے دودھ سے اپنا گزارا کرتا، کچھ فروخت کرتا اور ضرورت کے لیے رقم بھی بچا لیتا۔ اس کے چہرے سے فاقوں کی زردی اتر گئی، مگر دل میں وہ پہلا دن ابھی تک زندہ تھا جب اس نے خالی ہاتھ آسمان کی طرف دیکھ کر دعا مانگی تھی۔ وہ اکثر اپنے ریوڑ کو دیکھ کر کہتا، ’’یہ میری محنت ضرور ہے، مگر اس محنت کا دروازہ میرے رب نے کھولا تھا۔‘‘ ایک روز وہ اپنی بکریوں کو چرا کر واپس لوٹ رہا تھا کہ پہاڑ کے ایک غار سے سفید داڑھی والا ایک ضعیف العمر شخص باہر نکلا۔ اس کے کپڑے گرد آلود تھے، چہرہ بھوک سے زرد اور قدم لڑکھڑاتے ہوئے۔ اس نے چرواہے کو روک کر کہا، ’’بھائی! اللہ کے نام پر کچھ دے دو۔ میں کئی وقت سے بھوکا ہوں، میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔‘‘ چرواہے نے اپنے ریوڑ کی طرف دیکھا۔ اس کے دل میں فوراً وہ پرانا زمانہ تازہ ہو گیا جب وہ بھی ایک نوالے کے لیے ترستا تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید یہ شخص بھی اسی طرح کسی بے بسی کے عالم میں یہاں تک پہنچا ہے جس طرح کبھی وہ خود بھٹکتا پھرتا تھا۔ وہ ایک بکری کے قریب گیا، اس کی رسی کھولی اور بوڑھے کے ہاتھ میں تھما دی۔ ’’یہ لے جاؤ، بزرگوار! اللہ نے مجھے دیا ہے، شاید اسی نے تمہیں میرے راستے پر بھیجا ہو۔‘‘ بوڑھے نے بکری پکڑی، دعائیں دیں اور پہاڑ کے دوسری طرف چلا گیا۔ چرواہا اسے جاتے دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ شاید بوڑھا بکری کا دودھ پیے گا، اسے پالے گا اور اس کی زندگی بھی سنور جائے گی، مگر اگلی صبح جب وہ اسی راستے سے گزرا تو غار کے باہر وہی بوڑھا بیٹھا تھا۔ چرواہے نے پوچھا، ’’بابا جی، بکری کہاں ہے؟‘‘ بوڑھے نے بے پروائی سے جواب دیا، ’’وہ تو میں نے ذبح کر کے کھا لی۔ کئی وقت سے بھوکا تھا، گوشت کھایا اور جان بچائی۔‘‘ چرواہا حیران رہ گیا۔ ’’مگر بابا! تم اس کا دودھ پی سکتے تھے، اسے پال سکتے تھے۔ ایک بکری سے تم بھی ریوڑ بنا سکتے تھے، جیسے میں نے بنایا ہے۔‘‘ بوڑھے نے سر جھکا لیا، مگر اپنی حرکت پر اسے کوئی افسوس نہ تھا۔ چرواہے کے دل میں دکھ تو ہوا، لیکن اس نے خود کو سمجھایا کہ شاید بھوک نے اس شخص کو سوچنے کی مہلت ہی نہ دی ہو۔ وہ اپنی بکریاں لے کر آگے بڑھ گیا۔ کچھ دن گزرے تو وہی بوڑھا پھر غار سے نکلا اور ہاتھ پھیلا کر بولا، ’’اللہ کے نام پر کچھ دے دو، بیٹا! آج بھی بھوکا ہوں۔‘‘ چرواہے نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے دل میں ایک لمحے کو خیال آیا کہ پچھلی بکری تو اس نے ایک ہی دن میں کھا ڈالی تھی، اب اسے کچھ نہ دیا جائے؛ لیکن پھر اسے اپنی پہلی دعا یاد آئی، وہ خواب یاد آیا اور وہ تنہا سفید بکری یاد آئی جس نے اس کے لیے زندگی کا راستہ کھولا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں کہا، ’’یا اللہ! تو نے مجھے دیا تھا، اور یہ تیرے ہی نام پر مانگ رہا ہے۔ میں اس کے کل کا فیصلہ نہیں کر سکتا، مگر اپنے آج کے دل کا فیصلہ تو کر سکتا ہوں۔‘‘ اس نے ایک اور بکری بوڑھے کے حوالے کر دی۔ مگر بوڑھے کی عادت نہ بدلی۔ وہ بکری بھی ذبح کر کے کھا گیا۔ پھر آیا، پھر مانگا، اور ہر مرتبہ چرواہے کے دل میں وہی کشمکش جاگتی: ایک طرف اس کی عقل کہتی کہ یہ آدمی نعمت کی قدر نہیں کرتا، دوسری طرف اس کا دل یاد دلاتا کہ عطا کرنے والا تو اللہ ہے، اور سائل کے انجام کا حساب اس کے سپرد ہے۔ یوں دن گزرتے گئے اور ہر بار جب بوڑھا اللہ کا نام لے کر ہاتھ پھیلاتا، چرواہا اپنے دل کو ملامت سے بچانے کے بجائے اپنی سخاوت کو آزمائش میں ڈال دیتا۔ کبھی ایک بکری، کبھی دوسری، کبھی وہ بکری جس کا دودھ زیادہ تھا، کبھی وہ جس کے بچے ابھی چھوٹے تھے؛ یہاں تک کہ وہ ریوڑ، جسے بنانے میں برسوں لگے تھے، آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ آس پاس کے لوگ اسے سمجھاتے، ’’تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟ وہ تمہاری دی ہوئی بکریاں کھا جاتا ہے، ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ تم اپنا سب کچھ ختم کر دو گے۔‘‘ چرواہا خاموشی سے ان کی بات سنتا، پھر کہتا، ’’میں نے بھی کبھی ایک وقت کی روٹی کے لیے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے تھے۔ اگر میرے رب نے اس وقت مجھ پر رحم نہ کیا ہوتا تو آج میں بھی کسی غار کے باہر بھوکا بیٹھا ہوتا۔ میں یہ نہیں جانتا کہ اس شخص کو کیا ملنا چاہیے؛ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میرے پاس جو آیا، وہ میرے رب کی عطا تھا۔‘‘ آخر وہ دن بھی آ گیا جب اس کے ریوڑ میں ایک بھی بکری باقی نہ رہی۔ پہاڑی چراگاہیں اب بھی وہیں تھیں، چشمہ اب بھی بہتا تھا، مگر ان کے آس پاس گھنٹیوں کی وہ آواز نہ تھی جو کبھی اس کی صبحوں کو روشن کر دیتی تھی۔ چرواہا اپنی جھونپڑی کے باہر بیٹھا دیر تک خالی میدان کو دیکھتا رہا۔ اس کے پاس نہ دودھ تھا، نہ فروخت کرنے کے لیے کوئی جانور، نہ آنے والے دنوں کا کوئی انتظام۔ پھر اس نے آسمان کی طرف رخ کیا۔ آنکھوں میں نمی تھی، مگر آواز میں شکوہ نہ تھا۔ ’’اے میرے رب! تو نے مجھے ایک بکری دی تھی، میں نے اسی سے اپنا گھر آباد کیا۔ پھر تیرے نام پر مانگنے والا آیا تو میں نے وہ بکریاں بھی دے دیں جو تو نے مجھے عطا کی تھیں۔ اب میرے ہاتھ خالی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آگے کیا ہوگا، مگر میں یہ جانتا ہوں کہ جو کچھ تھا، تیرے ہی نام پر دیا ہے۔ اگر مجھ سے غلطی ہوئی تو مجھے معاف فرما، اور اگر تو نے میری نیت قبول کر لی ہے تو میرے لیے وہ راستہ کھول دے جسے میں خود نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ اس کی دعا ختم ہوئی تو ہوا کا ایک نرم جھونکا پہاڑوں سے اتر کر آیا۔ وہ خاموشی سے بیٹھا رہا، اسے معلوم نہ تھا کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان گزر چکا ہے، مگر اس کا سب سے بڑا انعام ابھی راستے میں ہے۔ اسی زمانے میں پہاڑوں سے بہت دور ایک خوش حال ریاست تھی جس کا نام مہرآباد تھا۔ وہاں ایک بوڑھا بادشاہ حکومت کرتا تھا، جس کی عمر ڈھل چکی تھی اور جس کی سانسیں اب گنی چنی رہ گئی تھیں۔ اس کے پاس خزانے تھے، لشکر تھے، بلند و بالا محلات تھے اور ایسے وزیر تھے جو اس کے ایک اشارے پر سلطنت کے معاملات چلا سکتے تھے؛ لیکن اس کے دل میں ایک سوال مسلسل جاگتا رہتا تھا: اس کے بعد تخت پر کون بیٹھے گا؟ ایک رات، جب محل کے چراغ مدھم پڑ رہے تھے اور بادشاہ اپنی آخری دعاؤں میں مشغول تھا، اس نے ہاتھ اٹھا کر کہا، ’’اے میرے رب! میں نے زندگی میں بہت سے چہرے دیکھے، بہت سے دعوے سنے اور بہت سے لوگوں کو اقتدار کی خاطر ایک دوسرے سے لڑتے دیکھا۔ اب میں اپنی جگہ ایسے شخص کو دیکھنا چاہتا ہوں جس کا دل اس پوری زمین پر سب سے خوبصورت ہو؛ ایسا انسان جو طاقت کو اپنی بڑائی نہیں، دوسروں کی بھلائی کا وسیلہ سمجھے، اور جس کے ہاتھ میں اختیار آئے تو وہ کمزوروں کو بھول نہ جائے۔ مجھے ایسا جانشین عطا فرما جس کی نیکی اس کے الفاظ میں نہیں، اس کے عمل میں ہو۔‘‘ اسی رات اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ اس کے سامنے حاضر ہوا۔ وہی فرشتہ جس نے پہاڑ کے غار میں بوڑھے فقیر کا روپ دھار کر چرواہے سے بکریاں مانگی تھیں۔ بادشاہ نے اس کی طرف دیکھا اور کہا، ’’کیا تم اس شخص کو جانتے ہو جس کے دل کو میں تلاش کر رہا ہوں؟‘‘ فرشتے نے جواب دیا، ’’ہاں، اے بادشاہ! وہ تمہارے محل میں نہیں رہتا، نہ اس کے پاس خزانے ہیں، نہ کوئی لشکر۔ وہ ایک دور افتادہ پہاڑی وادی میں رہتا ہے۔ اس کے پاس ایک وقت میں ایک بکری تھی، جسے تمہارا رب اس کے خواب کے ذریعے اس تک لے آیا۔ اس نے اسی بکری سے اپنا ریوڑ بنایا، مگر جب ایک بھوکا سائل اللہ کے نام پر اس کے دروازے پر آیا تو اس نے اسے بکری دے دی۔ سائل نے اسے پالنے کے بجائے ذبح کر کے کھا لیا، پھر دوبارہ آیا، پھر مانگا، اور ہر بار اس شخص نے اپنے دل کو نفرت کے حوالے کرنے کے بجائے اللہ کی عطا یاد کی اور اسے دے دیا۔ آخرکار اس کا پورا ریوڑ ختم ہو گیا، مگر اس نے اپنے رب سے یہ نہیں کہا کہ میں نے نیکی کی، پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ اس نے صرف اتنا کہا کہ جو کچھ تھا، تیرے نام پر دیا؛ اب میرے لیے وہ راستہ کھول دے جسے میں خود نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ بادشاہ دیر تک خاموش رہا۔ پھر اس نے پوچھا، ’’کیا اس کے پاس اب کچھ بھی نہیں؟‘‘ فرشتے نے کہا، ’’اس کے ہاتھ خالی ہیں، مگر اس کا دل تنگ نہیں ہوا۔ اسی لیے اس کے خالی ہاتھ بھی ان لوگوں کے ہاتھوں سے زیادہ قیمتی ہیں جو اپنے خزانے بھر کر بھی کسی بھوکے کو ایک نوالہ نہیں دیتے۔‘‘ بادشاہ نے اسی وقت اپنے قابلِ اعتماد سپاہیوں کو اس وادی کی طرف روانہ کیا۔ کئی دن کی مسافت کے بعد وہ چرواہا مل گیا، جو اپنی جھونپڑی کے باہر بیٹھا روزی کے لیے نئی تدبیر سوچ رہا تھا۔ سپاہیوں نے اسے بتایا کہ مہرآباد کا بادشاہ اسے اپنے دربار میں بلاتا ہے۔ وہ حیران ہوا؛ اسے نہ کسی مقدمے کا خوف تھا، نہ کسی شاہی خدمت کا دعویٰ۔ وہ بس خاموشی سے ان کے ساتھ چل پڑا۔ جب وہ محل میں پہنچا تو بادشاہ نے اسے اپنے قریب بلایا اور پوچھا، ’’کیا تم نے واقعی اپنی تمام بکریاں ایک بھوکے آدمی کو دے دیں؟‘‘ چرواہے نے سر جھکا کر کہا، ’’جی ہاں، حضور! مگر میں نے اسے اس لیے نہیں دیا تھا کہ وہ میرا نام یاد رکھے، نہ اس لیے کہ مجھے کوئی انعام ملے۔ جب اس نے اللہ کے نام پر مانگا تو مجھے اپنا وہ زمانہ یاد آ گیا جب میں خود بھوکا تھا۔ میں نے سوچا کہ جس رب نے مجھے دیا، اسی کے نام پر مانگنے والے کو خالی ہاتھ لوٹانا میرے لیے آسان کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ بادشاہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ اس نے کہا، ’’تم نے اپنی بکریاں دے کر اپنا ریوڑ کھو دیا، مگر اسی عمل نے تمہیں وہ چیز دے دی جو تخت پر بیٹھے بہت سے لوگوں کے پاس بھی نہیں: ایک ایسا دل جو اپنی نعمت کو صرف اپنی ملکیت نہیں سمجھتا۔ میں نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ میرے بعد اس زمین پر سب سے خوبصورت دل والا انسان میری جگہ لے۔ آج مجھے اپنا جواب مل گیا ہے۔‘‘ اس نے اپنے وزیروں اور امیروں کو بلایا، شاہی مجلس میں اس چرواہے کو اپنے جانشین کے طور پر نامزد کیا اور حکم دیا کہ اس کی تربیت سلطنت کے معاملات میں کی جائے، تاکہ وہ رعایا کے دکھ درد کو سمجھتے ہوئے حکومت سنبھال سکے۔ چرواہا حیرت سے بادشاہ کو دیکھتا رہا۔ اسے وہ دن یاد آیا جب وہ ایک بکری کے لیے پہاڑوں میں بھٹکا تھا، پھر وہ دن جب اس نے آخری بکری بھی دے دی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو اس کے دل میں ایک ہی بات ابھری: انسان جب اللہ کے نام پر دیتا ہے تو وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کی نیکی کس راستے سے واپس آئے گی؛ مگر اللہ کے ہاں خلوص کے ساتھ دیا ہوا کبھی بے معنی نہیں ہوتا۔ اس کے بعد چرواہے نے جب مہرآباد کی حکومت سنبھالی تو اس نے اپنے پہلے حکم میں شاہی گوداموں کے دروازے بھوکوں کے لیے کھولنے اور بے سہارا لوگوں کی مدد کا انتظام کرنے کا فرمان جاری کیا۔ وہ جانتا تھا کہ بھوک کیا ہوتی ہے، خالی ہاتھ لوٹنا کیا ہوتا ہے، اور کسی کے دروازے پر امید لے کر کھڑے ہونے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔ اس نے اپنی بادشاہت کو اپنی سخاوت کا بدلہ نہیں سمجھا، بلکہ ایک امانت جانا؛ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ کبھی کبھی انسان اللہ کے نام پر جو کچھ دیتا ہے، اس کا صلہ اسی چیز کی صورت میں نہیں آتا جو اس نے دی تھی، بلکہ اس سے کہیں بڑی ذمہ داری بن کر اس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔
حاصلِ سبق:
نیکی کا صلہ ہمیشہ فوراً اور ہماری توقع کے مطابق نہیں ملتا، مگر خلوص سے دیا ہوا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ اللہ کے نام پر دینے والا ہاتھ بظاہر خالی ہو سکتا ہے، لیکن وہ محروم نہیں ہوتا؛ کیونکہ اللہ کی عطا کا راستہ ہماری سوچ سے کہیں وسیع ہے۔ اس لیے جب کسی ضرورت مند کی مدد کریں تو بدلے کی امید سے نہیں، اپنے رب کی رضا کے لیے کریں۔


