جون کی تپتی ہوئی گرمی میں ایک لنگڑا شخص اپنی بیساکھی کے سہارے سڑک کے کنارے چلا جارہا تھا چلتے چلتے اچانک اس کی بیساکھی ٹوٹ گئی۔ وہ شخص ایک طرف بیٹھ گیا اور کسی گاڑی کا انتظار کرنے لگا تاکہ اس میں بیٹھ کر اپنی منزل تک پہنچ سکے۔ کافی دیر کے بعد ایک بگھی وہاں سے گزری۔ اس نے ہاتھ ہلا کر اُسے رکھنے کا اشارہ کیا، مگر وہ نہ رکی اور آگے بڑھتی گئی ۔ تھکن سے اس کو نیند آ گئی اور وہ وہیں زمین پر سو گیا۔ اسی اثنا میں ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی مگر وہ اس سے بے خبر سوتا ہی رہا۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ ایک کوٹ اس کے جسم پر پڑا ہوا ہے ۔ قریب ہی ایک لڑکا ستلیوں اور لکڑی کے ٹکڑوں کی مدد سے اس کی بیساکھی کی مرمت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس شخص نے لڑکے سے پوچھا۔
بیٹا تم نے مجھے بارش سے بچانے کے لیے اپنا کوٹ میرے اوپر کیوں ڈالا ؟“ لڑکے نے جواب دیا۔ ” مجھے تو بارش کی فکر نہیں تھی مگر میں نے سوچا کہ آپ تھکے ہوئے سورہے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ بارش سے آپ بھیگ جائیں اور آپ کی نیند ٹوٹ جائے۔ کچھ توقف کے بعد لڑکا دوبارہ بولا ۔
لیجیے میں نے آپ کی بیساکھی بھی ٹھیک کر دی ہے ۔ اگر آپ میرا سہارا لے کر سامنے میدان میں میرے چچا کے فارم تک چلیں تو مجھے امید ہے کہ وہاں سے آپ کو نئی بیساکھی مل جائے گی۔ میری خواہش ہے کہ میں اور بڑا ہوتا تو آپ کو اپنی پیٹھ پر لاد کر وہاں تک لے جاتا ۔
اس شخص نے آنسو بھری نگاہوں سے لڑکے کو دیکھا اور بولا ” آج سے پانچ سال پہلے جب میں جنگ پر گیا تو اس وقت میرا بھی ایک چھوٹا سا بیٹا تھا۔ اگر آج وہ ہوتا تو بالکل تمہاری طرح کا ہوتا۔ میں اسے اپنے سامنے پا کر بہت خوش ہوتا۔
لڑکے نے پوچھا۔ کیا آپ اپنے لڑکے کا نام بتائیں گے کیونکہ میں اُسے ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کر سکوں؟“
اس کا نام جواد تھا اور میرا نام احمد ہے ۔ اس شخص نے جواب دیا۔ لڑکے نے جیسے ہی یہ نام سنا تیزی سے قریب آیا اور اپنے بازو اس شخص کے گلے میں ڈال کر لپٹ گیا۔ ابا جان ، میرے پیارے ابا جان میں ہی جواد ہوں آپ کا اپنا بیٹا۔“ وہ اپنے بیٹے کو اس طرح اپنے سامنے پاکر اس قدر خوش ہوا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اسے اس بات کی بھی خوشی تھی کہ اس کا بیٹا ضرورت مندوں کے کام آتا ہے، بیٹے نے باپ کو سہارا دے کر اٹھایا اور گھر کی طرف لے چلا۔
گو کہ اب اس شخص کے پاس نئی بیساکھی تھی مگر اس نے اس پرانی اور مرمت شدہ بیساکھی کو کبھی بھی اپنے آپ سے الگ نہ کیا۔ کیونکہ یہ بیساکھی اس کے بیٹے سے ملنے کا سبب بنی تھی اور اس کے علاوہ وہ بیساکھی اس کے بیٹے جواد کی نرم دلی اور محبت کا ثبوت بھی تو تھی ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


