ایک شخص سمندر کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر دور ایک شخص پر پڑی جو بار بار جھکتا، کوئی چیز اٹھاتا اور سمندر میں پھینک دیتا تھا۔
وہ تجسس کے باعث قریب گیا تو دیکھا کہ ہزاروں مچھلیاں کنارے پر پڑی تڑپ رہی ہیں۔ شاید کسی بڑی موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پر لا پٹخا تھا۔ وہ شخص ان مچھلیوں کو ایک ایک کرکے واپس سمندر میں پھینک رہا تھا تاکہ ان کی جان بچا سکے۔
یہ دیکھ کر اسے اس شخص کی کوشش پر ہنسی آ گئی۔ وہ بولا:
’’تمہیں کیا لگتا ہے کہ اس طرح کوئی فرق پڑے گا؟ یہاں ہزاروں مچھلیاں ہیں، تم کتنی بچا لو گے؟‘‘
اس شخص نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ جھکا، ایک تڑپتی ہوئی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا۔ مچھلی پانی میں گرتے ہی تیزی سے تیرتی ہوئی آگے نکل گئی۔
پھر اس نے مسکرا کر جواب دیا:
’’اسے تو فرق پڑا!‘‘
یہ مختصر سی کہانی ہمیں ایک بہت بڑی حقیقت سمجھاتی ہے: ضروری نہیں کہ ہماری ہر کوشش پوری دنیا کو بدل دے، لیکن ہماری ایک چھوٹی سی کاوش بھی کسی ایک انسان کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
لہٰذا دل بڑا رکھیے اور اپنی استطاعت کے مطابق بھلائی کرتے رہیے۔ اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ کی کوشش سے پورے معاشرے میں کتنی تبدیلی آئی، بلکہ یہ سوچیے کہ آپ نے اپنے حصے کی ذمہ داری کتنی دیانت داری سے نبھائی۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا، کسی مایوس کو امید دلانا، کسی ضرورت مند کی مدد کرنا یا کسی پریشان حال کے چہرے پر مسکراہٹ لے آنا بھی ایک بڑی نیکی ہے۔
دنیا کو بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی نیکی کسی کی پوری دنیا بدل دیتی ہے۔
آپ شاید سب کی مدد نہ کر سکیں، مگر جس کی کر سکتے ہیں، اس کے لیے ضرور کیجیے۔ کیونکہ آپ کی نظر میں وہ صرف ایک انسان ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے آپ کی مدد پوری دنیا کے برابر ہو سکتی ہے۔
#منقول


