بلی کی چالاکی

بلی کی چالاکی

ایک محلے میں ایک ایسی بلی رہتی تھی جس کی صحت اور تن و توش دیکھ کر دوسری بلیاں رشک کیا کرتی تھیں۔ اس کا چمکتا ہوا بدن، بھرا بھرا وجود اور چال میں پایا جانے والا اعتماد اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ اسے کھانے پینے کی کوئی فکر نہیں۔ محلے کی بلیوں کے لیے اس جیسی صحت ایک خواب تھی۔ وہ اسے دیکھ کر دل ہی دل میں دعائیں مانگتیں کہ کاش! ان کے نصیب میں بھی ایسا ہی آرام اور ایسا ہی رزق لکھا ہوتا۔
لیکن اس بلی کی زندگی کا ایک اور پہلو بھی تھا۔ وہ جس گھر میں رہتی تھی، اس گھر کے قریب کسی دوسری بلی کا بھٹکنا گویا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اپنے علاقے کی وہ خودساختہ محافظ تھی۔ کسی دوسری بلی کو گھر کی دہلیز کے آس پاس دیکھ لیتی تو ایسی دھاڑتی اور لپکتی کہ بیچاری کو اپنی جان بچانے کے لالے پڑ جاتے۔ یوں تو محلے میں بہت سی بلیاں تھیں، مگر اس گھر کے آس پاس اسی کا حکم چلتا تھا اور باقی سب اس کے رعب سے دور رہتی تھیں۔
ایک روز محلے کی بلیوں نے باہمی مشورے سے فیصلہ کیا کہ اس راز کو معلوم کیا جائے جس نے ان کی ہم جنس کو اتنا خوش حال بنا رکھا تھا۔ آخر ایسی کون سی تدبیر تھی جس کے سبب اس کے جسم پر گوشت چڑھتا جا رہا تھا، جبکہ باقی بلیاں کبھی ایک نوالے کو ترستیں اور کبھی دوسرے کے لیے گلیوں کی خاک چھانتی پھرتیں؟

چنانچہ کئی بلیاں مل کر اس کے پاس پہنچیں۔ ان میں سے ایک نے نہایت ادب سے عرض کیا، ’’بہن! ہم مدت سے تمہاری صحت دیکھ کر حیران ہیں۔ تمہارے نصیب پر رشک آتا ہے۔ ہم یہ جاننا چاہتی ہیں کہ تمہاری اس صحت کے پیچھے آخر کون سا راز پوشیدہ ہے؟ ہم بھی اپنی زندگی بہتر بنانا چاہتی ہیں۔ اگر تم اپنی تدبیر ہمیں بتا دو تو ہم پر بڑا احسان ہوگا۔‘‘

اپنی تعریف سن کر بلی کا سینہ فخر سے تن گیا۔ اس نے گردن ذرا بلند کی، مونچھوں کو تاؤ دیا اور ایسے انداز میں گویا ہوئی جیسے کوئی دانا اپنی عمر بھر کی کمائی ہوئی حکمت کے خزانے کا دروازہ کھولنے جا رہا ہو۔
’’میری عزیز بہنو! تم اسے محض اچھے نصیب کا نام دیتی ہو، مگر میں نے اپنی عقل سے ایسا راستہ نکالا ہے کہ میری مالکن مجھے روز جی بھر کر دودھ دیتی ہے اور اسے یہ گمان بھی نہیں ہوتا کہ میں نے دودھ پی لیا ہے۔‘‘
یہ سن کر سب بلیاں حیران رہ گئیں۔ ایک نے بے تابی سے پوچھا، ’’وہ کیسے؟‘‘
بلی نے فخریہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنا راز کھولا، ’’ایک روز میری مالکن نے دودھ کا ایک بڑا پیالہ رکھ کر گئی۔ میں نے خوب سیر ہو کر دودھ پیا، مگر جب پیالے میں تھوڑا سا دودھ باقی رہ گیا تو میں نے اسے پینے کے بجائے زمین پر گرا دیا۔ اب میری مالکن روز دودھ رکھتی ہے تو میں اسی طرح کرتی ہوں۔ پہلے جی بھر کر پیتی ہوں، پھر تھوڑا سا دودھ نیچے گرا دیتی ہوں۔ میری مالکن سمجھتی ہے کہ دودھ کسی طرح زمین پر گر گیا اور ضائع ہوگیا، اسے کیا خبر کہ اس کا پیالہ تو میں پہلے ہی صاف کر چکی ہوتی ہوں! اگر میں سارا دودھ پی جاؤں تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ میں نے سب کچھ چٹ کر لیا ہے، مگر جب اسے دودھ زمین پر گرا ہوا دکھائی دیتا ہے تو وہ یہی سمجھتی ہے کہ دودھ کسی نے پیا ہی نہیں، بس گر کر ضائع ہوگیا۔ اس طرح اسے مجھ پر شک بھی نہیں ہوتا اور میرا دودھ بھی روزانہ برقرار رہتا ہے۔‘‘
بلیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں حیرت بھی تھی اور تحسین بھی۔ انہیں واقعی یوں محسوس ہوا جیسے ان کی اس بہن نے عقل مندی کا کوئی نادر نسخہ دریافت کر لیا ہو۔ وہ اس کی تدبیر کے قصیدے پڑھنے لگیں اور بلی اپنی کامیابی پر مزید اترانے لگی۔

مگر حقیقت اس کے گمان سے بالکل مختلف تھی۔
جس روز پہلی مرتبہ مالکن نے اس کے لیے دودھ رکھا تھا، وہ دراصل کسی کام میں مصروف ہو کر بھول گئی تھی۔ بلی نے موقع دیکھا اور پیالے میں موجود دودھ پی لیا۔ مالکن نے اسے دودھ پیتے دیکھ لیا تھا۔ مگر اسے ڈانٹنے یا بھگانے کے بجائے اس کے دل میں ترس اور شفقت پیدا ہوئی۔ اس نے سوچا کہ بے زبان جانور ہے، بھوک لگی ہوگی؛ چنانچہ اگلے روز سے وہ خود اس کے لیے روزانہ دودھ رکھنے لگی۔ بلی کو جو رزق اتفاقاً ملا تھا، وہ دراصل مالکن کی مہربانی اور شفقت کا نتیجہ تھا۔
لیکن بلی نے اس حقیقت کو کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی۔ اس نے مالکن کی شفقت کو اپنی چالاکی کا نتیجہ سمجھ لیا تھا۔ اب وہ روز دودھ پیتی، تھوڑا سا زمین پر گرا دیتی اور اپنی ہی بنائی ہوئی تدبیر پر خوش ہوتی رہتی۔ اسے یقین تھا کہ اس کی عقل مندی نے اسے روزانہ دودھ کا مستحق بنا دیا ہے، حالانکہ جس نعمت پر وہ نازاں تھی، اس کا سبب اس کی چالاکی نہیں بلکہ کسی دوسرے کی مہربانی تھی۔

حاصلِ سبق:

یہ قصہ صرف ایک بلی کا نہیں، ہمارے زمانے کے انسان کا بھی ہے۔ جب اسے رزق ملتا ہے، کاروبار چل نکلتا ہے، کوئی راستہ کھل جاتا ہے یا زندگی میں آسانیاں نصیب ہوتی ہیں تو وہ اکثر اپنی عقل، محنت اور تدبیر کو ان سب کا واحد سبب سمجھنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ محنت کرنا اس کے اختیار میں ہے، مگر ہر کوشش کا نتیجہ اس کے اختیار میں نہیں؛ راستہ تلاش کرنا اس کا کام ہے، مگر اس کے لیے راستے کھولنے والی ذات کون ہے، اس پر وہ کم ہی غور کرتا ہے۔
وہ بڑے فخر سے کہتا ہے، ’’یہ سب میں نے اپنی قابلیت سے حاصل کیا ہے۔ میں نے اپنی عقل سے راستہ نکالا، اپنی محنت سے مقام بنایا اور اپنی تدبیر سے کامیابی حاصل کی۔‘‘ اپنی کوشش کا اعتراف بجا، مگر جب یہی اعتراف غرور بن جائے اور انسان اپنے محسنوں، اپنے وسائل اور اپنے رب کی عطا کو بھول بیٹھے تو اس کی عقل مندی بھی خود فریبی کا پردہ بن جاتی ہے۔
اس بلی کو بھی یہی گمان تھا کہ مالکن روز دودھ اس کی تدبیر کے سبب رکھتی ہے، حالانکہ اس کے رزق کا پہلا دروازہ مالکن کی شفقت سے کھلا تھا۔ اس نے ایک مہربانی کو اپنی چالاکی کا ثمر سمجھ لیا اور عطا کرنے والی کی نیت سے بے خبر رہی۔
انسان بھی کبھی کبھی اسی بلی کی طرح اپنی کامیابیوں کا سہرا صرف اپنے سر باندھ لیتا ہے۔ اسے اپنی محنت تو یاد رہتی ہے، مگر وہ مہربانیاں، وہ اتفاقات، وہ مواقع اور وہ ان دیکھے اسباب بھول جاتا ہے جنہوں نے اس کی منزل آسان بنائی ہوتی ہے۔
عقل مندی یہ نہیں کہ انسان اپنی تدبیر پر ناز کرے؛ اصل دانائی یہ ہے کہ وہ اپنی کوشش کی قدر بھی کرے اور اپنے رب کی عطا کو بھی پہچانے۔ کیونکہ اسباب اختیار کرنا انسان کا کام ہے، مگر اسباب میں اثر پیدا کرنا اور رزق کے دروازے کھولنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner